ڈاکٹر عباس برمانیکالملکھاری

ٹرمپ ، غیور قو م اور لال ٹوپیاں ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی

ناظرین جیسا کہ آپ نے خبروں میں ملاحظہ فرمایا آج امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئیٹ کیا جس میں انہوں نے پاکستان پر دھوکہ دہی کا سنگین الزام عائد کیا، اور یہ بھی کہا کہ پاکستان نے ہمیں بےوقوف بنایا ہےاور ہماری حماقت تھی کہ ہم نے انہیں 33 ارب ڈالر کی خطیر رقم بطور امداد دی۔۔
اس موضوع پر بات کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے ساتھ موجود ہیں سابق سفارتکار جناب آغا ایلچی، موجودہ حکومت کے خارجہ امور کے پارلیمانی سیکرٹری جناب خواجہ جمہورالحق ،حزب اختلاف کے اہم رہنما ملک احتجاج خان لیکن گفتگو کا آغاز کریں گے ممتاز دفاعی تجزیہ کار اعزازی صوبیدار میجر جناب لال ٹوپی سے ،جناب لال ٹوپی میں اس ٹوئیٹ کے حوالے سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ۔۔۔۔
جی مجھے بہتر پتہ ہے کہ مجھے کیا کہنا ہے ، یہ انتہائی اہم ایشو ہے چنانچہ میں اپنی گوناگوں مصروفیات میں سے وقت نکال کر جنگی بنیادوں پر آپ کے پروگرام میں تشریف لایا ہوں،۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹرمپ نے جو ہرزہ سرائی کی کہ امریکہ نے پاکستان کو امداد دے کر حماقت کی ہے، میں اس سے متفق ہوں ، آپ چونکیں نہیں ۔۔۔اور مسٹر ٹرمپ آپ نے محض یہی ایک حماقت نہیں کی آپ بے شمار حماقتوں کے مرتکب ہوئے ہیں جن کی قیمت ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے ، یہ ٹوئیٹ بذات خود ایک حماقت ہے،اس کے ذریعے آپ نے اس قوم کو للکارا ہے جس نے اپنے پیروں میں تاج سر دارا و سکندر کچل دیے تھے ، جبرالٹر سے لے کر ماوراءالنہر تک اور نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر جن کے گھوڑوں کے سموں کی ٹاپیں اور شمشیروں کی جھنکاریں گونج رہی ہیں۔۔۔۔۔۔ آپ لکھ لیں کہ دہلی اور یروشلم کے ساتھ ساتھ واشننگٹن ڈی سی پر بھی سبز ہلالی پرچم لہرانے کا وقت قریب آ پہنچا ہے، لال قلعہ بہت جلد میرےغزوہ ہند کے شعبہ تعلقات عامہ کا سکرٹیریٹ ہو گا، ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔یروشلم کی دیوار گریہ دیوار خندہ میں بدل جائے گی، وہاں ہر وقت قہقہے گونجیں گے، ہم وہاں لافٹر تھریپی کے مراکز کھولیں گے، شمالی کوریا کے لیڈر کسی بھی وقت نیوکلیئر بٹن دبا سکتے ہیں اور امریکہ کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر سکتے ہیں ۔۔۔۔، لشکر خراسان ایران عراق اور شام سے ہوتا ہوا اسرائیل پر حملہ آور ہو گا۔۔۔۔۔
جنرل پرویز مشرف کو میرے اللہ نے کوئی بڑا کام لینے کے لئے ہی متعدد قاتلانہ حملوں اور الکوحلک سرہوسس سے محفوظ رکھا ہے ، وہ وطن واپس آ کر غزوہِ ہند کی قیادت سنبھالیں گے اور لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرائیں گے،
پاکستان کے بہادر اور غیور عوام تیار ہو جائیں سیاہ جھنڈے اور لال ٹوپیاں سلوا لیں۔۔۔۔۔
جی سر ماشاءاللہ آپ نے سارا منظر نامہ دکھا دیا ،اب میں اس ٹوئیٹ کے سفارتی مضمرات کے حوالے سے جناب آغا ایلچی کی رائے جاننا چاہوں گا۔۔
جی بہت شکریہ حوالدار حامد قریشی مسٹر ٹرمپ کے اس ٹوئیٹ کو بھلے آپ مروجہ سفارتی اقدار و روایات سے ان کے نابلد ہونے کی ایک دلیل کے طور پر پیش کریں لیکن آپ اسے ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینک سکتے ، جناب لال ٹوپی میرے لئے قابل احترام ہیں لیکن معذرت کے ساتھ ان کی گفتگو واجب اختلاف ہے ، امریکہ ایک سپرپاور ہے شمالی کوریا کا اس سے کوئی موازنہ ہی نہیں، اور معاف کیجئے گا آپ ابھی وزیرستان اور بلوچستان میں زیادہ سے زیادہ پرچم گاڑیں اور واشنگٹن ڈی سی کو اس کے حال پر چھوڑ دیں ، ٹرمپ اور پینس کے بیانات اور موجودہ ٹوئیٹ پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے حربے ہیں ، یہ ایک طرح کا ڈومور کا مطالبہ ہے جو ہمیں پورا کرنا ہو گا ،ہمیں امریکہ کی طرف سے معاشی اور فوجی امداد کی ضرورت ہے، ہماری فوج کو اعلیٰ امریکی تربیت چاہئے ، امریکہ ہمارا چین سے بھی پرانا دوست ہے، تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں لیکن مجھے اپنے دفتر خارجہ کے لائق افسران سے پوری توقع ہے کہ وہ اس مسئلے کا حل نکال لیں گے۔۔ امریکی دوستوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ ہماری مجبوریوں کو سمجھیں اور دھیرے دھیرے چلیں آخر چین نے بھی تو مولانا مسعود اظہر اور حافظ سعید حفظہ اللہ کے خلاف قرارداد ویٹو کی ،کیا آپ کے خیال میں چین جہادیوں سے بہت خوش ہے ،ہرگز نہیں ،بات یہ ہے کہ وہ ہماری مجبوریوں اور حدود و قیود کو سمجھتا ہے۔۔۔
شکریہ جناب آغا ایلچی اب میں زحمت دوں گا حکومت کے نمائندہ جناب خواجہ جمہورالحق کو۔۔۔ خواجہ صاحب برسر اقتدار جماعت کے نمائندے کی حیثیت سے آپ اس ٹوئیٹ کو کس طرح دیکھتے ہیں۔۔۔
شکریہ قریشی صاحب ۔۔ اس ٹوئیٹ کی ٹائمنگ بہت اہم ہے ، بڑے میاں صاحب نے تحریک عدل چلانے کا اعلان کیا ہے،اور دونوں میاں صاحبان سعودی حمایت کے حصول کے لئے حجاز مقدس میں ہیں، سعودی حمایت تو انہیں حاصل ہے اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں ، لیکن وہ سعودی حکمرانوں سے خاکی اور سیاہ اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈلوانے کا میکنزم طے کرنے کے لیے وہاں گئے ہیں ، سعودی شاہی خاندان کے ساتھ جناب ٹرمپ کے تعلقات کو مدنظر رکھیں تو ان کا حالیہ ٹوئیٹ بھی اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتا ہے اور یہ جمہوریت کے لئے نیک فال ہے ، مسلم لیگ اخوان المسلمین نہیں ،امریکہ سعودیہ چائنا اور ترکی کسی جنرل سیسی کی حمایت نہیں کریں گے، ترکی اور چین دونوں کے میاں صاحبان کے ساتھ تجارتی مفادات وابستہ ہیں وہ کبھی انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے، میاں صاحب کی برطرفی کے بعد روپے کا بےوقعت ہونا،سٹاک ایکسچینج کا سر کے بل گرنا ، معیشت کی زبوں حالی اور چین کا سی پیک کے بعض منصوبوں پہ کام روکنے کا اعلان ،اگر ہماری اسٹیبلشمنٹ ان سے سبق حاصل نہ کر سکی تو مسٹر ٹرمپ کا ٹوئیٹ اور سعودی حکومت کا رویہ یقین کریں انہیں سبق سکھا دے گا ، میاں صاحب واقعی نظریاتی ہیں اور اپنے نظریے پہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں ،حقیقی جمہوری قوتیں اور بین الاقوامی برادری ان کے ساتھ ہیں ،انہیں کوئی این آر او نہیں چاہئے ، جنہیں چاہیے ان کے نمائندے ان کے ساتھ پانچ پانچ گھنٹے طویل ملاقاتیں کر رہے ہیں۔۔
ٹھیک ہو گیا حکومتی جماعت کا نکتہ نظر آ گیا اب اپوزیشن کے نمائندہ جناب ملک احتجاج خان سے گزارش ہے کہ وہ ٹرمپ صاحب کے ٹوئیٹ کے جمہوری عمل پر اثرات کے ضمن میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔
شکریہ حوالدار صاحب، آپ نے کافی انتظار کے بعد ہی سہی مجھے موقع تو دیا، دیر آید درست آید، لیکن ٹرمپ کی ہرزہ سرائی پر بات کرنے سے پہلے میں اس یاوہ گوئی پر بات کروں گا جو خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے ہماری مسلح افواج اور اعلی عدلیہ کے خلاف کی گئی ہے، مجھے کیوں نکالا کی چیخ و پکار کرنے والے اور اس کے بھائی ماڈل ٹاؤن کے قصاب کو شاہی مہمان بنا کر سعودیہ ہرگز نہیں بلایا گیا ، یہ دونوں بھائی کرپشن کے جرم میں پکڑے گئے سعودی شہزادوں کی نشاندھی پر ان کے لیے کی گئی منی لانڈرنگ کے بارے میں پوچھ گچھ کے لیے بلائے گئے ہیں، اور نااہل وزیراعظم کے ساتھ کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ جنٹلمین آفیسر کی پانچ گھنٹے کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی ،چین نے جن منصوبوں پہ کام روکا وہ ان کی کرپشن کی وجہ سے رکا، ملتان میٹرو کی کرپشن خود چینی بھائیوں نے پکڑی تھی ، میں خواجہ سرا صاحب معاف کیجئے گا خواجہ صاحب کی اس بات سے متفق ہوں کہ ٹرمپ کا ٹوئیٹ ان کی حمایت میں ہے ، انہوں نے ٹرمپ اور مودی کو ایس او ایس بھیجے تھے ، مودی پاکستان پر جو مسلسل گولہ باری کر رہا ہے وہ انہی کی مدد لئے پاک فوج کو دباؤ میں رکھنے کے مقصد سے کر رہا ہے ، پاکستان کا ہر دشمن ان کا دوست ہے ، انہیں اب کوئی این آر او نہیں ملے گا ،انہوں نے بہت لوٹ لیا اس ملک کو ان کا انجام قریب ہے ،۔۔۔ رہی ڈونلڈ ٹرمپ کی ہرزہ سرائی تو ہمیں اس کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے، ہمیں قدرت نے موقع دیا ہے امریکی چنگل سے نکلنے کا،ہمیں روس چین اور ترکی کے ساتھ اتحاد قائم کرنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں اپنے ساٹھ ہزار شہریوں کی قربانی دی اور بجائے ہماری قربانیوں کا اعتراف کرنے کے ہم پر الٹادھوکہ دہی کا الزام لگایا جاتا ہے ، ہمیں نہیں چاہئیں ان کے ڈالر، ڈومور ڈومور کی بکواس بند ہونی چاہیے ۔۔۔۔۔ اب نو مور۔ ٹرمپ اپنے جن ایجنٹوں کو بچانے کے لیے دھمکیاں دے رہا ہے ہماری اسٹیبلشمنٹ کو انہیں کیفرکردار تک پہنچانا چاہئے ، یہ غدار ہیں ،ان کے بھارت میں کاروبار ہیں۔۔۔۔
تم اپنی ہرزہ سرائی بند کرو ، اگر پھر میاں صاحبان کے خلاف بکواس کی تو زبان کھینچ لوں گا۔۔۔۔۔
لیکن میں تمہاری غداروں کے تلوے چاٹنے والی ناپاک زبان کو ہرگز ہاتھ نہیں لگائوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم اپنے لیڈر کی طرح بدزبان ہو ۔۔
دیکھیں معزز پینلسٹ حضرات پلیز اس قسم کی زبان استعمال کرنے سے گریز کریں۔۔۔۔
یہ سبھی مفاد پرست اور حرص و ہوس کے پجاری ہیں، مراکو سے سمرقند
بن غازی سے باکو اور گروزنی سے یارقند تک انقلاب کی ہوائیں چل رہی ہیں یہ سب نیست و نابود ہو جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔
دیکھیں سفارتی اصولوں اور بین الاقوامی زمینی حقائق کو مدنظر۔۔۔۔۔۔۔
خواتین و حضرات اپنا خیال رکھیے گا اجازت دیجئے اللہ حافظ۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker