’’ کہانی پاکستان کی ‘‘ شاہد راحیل صاحب کی کتاب رضی الدین رضی صاحب نے کچھ دن پہلے بذریعہ ڈاک گوجرانوالہ کینٹ بھجوائی۔ رضی صاحب کا بہت شکریہ۔ کتاب کے متعلق کچھ بھی کہنے سے قبل یہ بات کہ تبصرہ لکھنے میں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں کیونکہ کتاب کو مکمل پڑھنے کے بعد لکھنا میری عادت ہے۔
شاہد راحیل صاحب کی کتاب کہانی پاکستان کی (1947 سے 1970 حصہ اول)ایک اہم تاریخی دستاویز ہے جو کہ پاکستان کے ابتدائی سالوں کی سیاسی ،سماجی،اور معاشی صورتحال کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے ۔اس میں پاکستان کے نہایت اہم اور نازک دور کو تحقیق اور سچائی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔شاہد راحیل صاحب ایک کثیر الجہت انسان ہیں جنہوں نے اپنی فطری اور خداداد صلاحیتوں کا لوہا مختلف حلقوں میں منوایا ہے۔ خواہ وہ بینکاری ہو،وکالت ہو، شاعر ہو یا نثر ۔ انہوں نے اپنے وسیع مطالعے اور چیزوں کو بغور پرکھنے والی آنکھ سے ملتان کی تاریخ کو کھنگال کر معاشرے کے سامنے رکھ دیا ہے۔
زیر نظر تصنیف میں دراصل مصنف نے پاکستان کی ابتدائی تاریخ، ملک بننے کے بعد درپیش مسائل ،ان کے پس منظر میں اسباب و عوامل، عدالت کی کارر وائیوں اور سیاست کے اتار چڑھاؤ کو بیان کیا ہے۔یہ وہ موضوع تھا کہ جس پر لکھنا کوئی آسان بات نہ تھی مگر شاہد راحیل صاحب نے 1947 سے 1970 تک کے واقعات کو اپنے سادہ ، رواں اور موثر انداز تحریر سے یوں بیان کیا یے کہ قاری کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود ان واقعات کا عینی شاہد ہو۔ کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں محض واقعات کا ذکر نہیں بلکہ ان کے پس پردہ حقائق، اسباب، اور نتائج پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے ۔
صاحب کتاب نے تقسیم ہند، مہاجرین کے بحران ، آئینی مسائل ، فوجی مداخلت ، زبان کے تنازع ، مشرقی و مغربی پاکستان کے تعلقات اور دیگر اہم موضوعات کو کمال تحقیق اور دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے ۔تحریر کا انداز اس قدر سادہ، شستہ، صاف، رواں اور موثر ہے کہ پڑھنے والا اس قدر مگن ہو اور مسرت حاصل کر رہا ہوتا ہے کہ ایک ہی سانس میں پڑھ کر دم لے۔تاریخی حوالوں ، عدالتی کارر وائیوں اور ان کے اثرات ، نتائج اور عوام کے ردعمل کے ذریعے کتاب کو اور زیادہ تقویت ملتی یے۔جو اسے ایک محض ایک بیانیہ کی بجائے تحقیقی و علمی دستاویز بناتی ہے۔
اس کتاب میں ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ شاہد صاحب نے غیر جانبدارانہ تبصرے کے ساتھ مختلف کرداروں اور اداروں کے اقدامات کا تجزیہ پیش کیا ہے گویا یوں کہیں کہ احتیاط کا دامن نہیں چھوڑا مگر سارا کچھ بیان بھی کر دیا۔
کتاب میں ایک بہت ہی اہم مضمون ” مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے ذمہ داران” ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ
” بلاشبہ یہ ایک بڑی حقیقت تھی کہ مشرقی پاکستان کی خراب صورتحال نے جنرل یحیحی کے دور اقتدار یا صرف ذوالفقار علی بھٹو کے رویے کی وجہ سے جنم نہیں لیا تھا بلکہ اس کی جڑیں تقسیم ہند کے وقت یعنی قیام پاکستان کے بعد 1947 تک پھیلی ہوئی تھیں ۔اور بہت سے ایسے اقدامات اور غلطیاں تھیں جو مغربی و مشرقی پاکستان کے درمیان غلط فہمی اور شکایات کا باعث تھیں۔”
ان وجوہات میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں۔ جیسے مغربی پاکستان کی عوام کا عوامی لیگ کے چھ نکات کو غیر سنجیدگی سے دیکھنا، مغربی پاکستان کے لوگ مشرقی پاکستان کو اقتدار نہ دینا چاہتے تھے اس لیے فوجی کاروائی کی مکمل حمایت اور تائید کرتے تھے۔ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب کی اقتدار کی ہوس ، ریٹائرڈ ائیر مارشل اصغر خان نے جب عوامی لیگ کے حق میں پنجاب کا دورہ کیا تو ان پر حملہ کیا جانا، سیاستدانوں کا اپنی سیاسی ذمہ داری ادا نہ کرنا اور دیگر یہ وہ معاملات تھے جو ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا باعث بنے۔ شاہد راحیل صاحب کے بقول کہ ” مغربی پاکستان میں سیاست دان، پریس اور عوامی رائے عامہ ان سب کو ہی تاریخ میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار قرار دیے گی۔”
مختصرا کتاب کے فلیپ کور کے لیے ڈاکٹر انوار احمد ، ڈاکٹر حمید رضا صدیقی اور رضی الدین رضی صاحب کی آراء شامل ہیں۔ رضی الدین رضی نے لکھا ہے کہ "ایک تاریخ وہ ہوتی ہے جو ہمیں ریاست بتا رہی ہوتی ہے ہمیں نصابی کتابوں میں ملتی ہے لیکن اصل تاریخ وہ ہوتی ہے جو اس عہد کے ادیب، شاعر، صحافی اور دانش ور مرتب کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ تاریخ ریاست اعر حکمرانوں کے بیانیے سے یکسر مختلف ہوتی ہے ۔”
کہانی پاکستان کی صرف تاریخ کے طلبہ کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ضروری مطالعہ ہے جو پاکستان کی بنیادوں اور اس کی اندرونی کمزوریوں کو سمجھنا چاہتا ہے ۔ کیونکہ ڈاکٹر انوار احمد کے بقول شاہد راحیل نے ” اس کتاب کے لیے تاریخ، سیاست کے ادوار اور عدالتی فیصلوں کے متن کی تلاش میں بہت محنت کی یے۔”
اس کتاب میں بہت سی ایسی باتیں موجود ہیں جو میں نے بھی پہلی بار پڑھی ہیں۔اسے رضی الدین رضی صاحب نے اپنے اشاعتی ادارے گردوپیش پبلی کیشنز سے مئی 2025 میں ایک بہت ہی خوبصورت سر ورق کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس کے کل صفحات 125 ہیں۔ جو کہ آ پ کو گردوپیش سے صرف 800 روپے یا اس دے بھی کم میں مل جائے گی۔آخری اور اہم بات کہ شاہد راحیل صاحب نے اس کتاب کا انتساب پاکستانی عوام کے نام لکھا ہے۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
فیس بک کمینٹ

