تجزیےلکھاریمحمد شاہنواز خان

2019 : قومی اور صوبائی سطح پر قانون سازی ، ایک جائزہ ۔۔ محمد شاہنواز خان

الیکشن 2018کے نتیجہ میں پاکستان میں جمہوری حکومتیں قائم ہیں اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں آئین کے مطابق قانون سازی کا عمل جاری ہے ۔
گزشتہ نومبر میں جب حکومت نے گیارہ آرڈینسز کو قانون کی شکل دینے کی کوشش کی تو اپوزیشن نے سخت احتجاج کیا ۔جس کے بعد حکومت کو ان قوانین کو واپس لینا پڑا اب حکومت ان کو دوبارہ اسمبلی میں پیش کرے گی اور منظوری لے گی۔حکومت کو قانون سازی کے حوالے سے جو سب بڑی مشکل ہے وہ سینٹ میں حزب اختلاف کی اکژیت ہے ۔جس کی وجہ سے حکومت اپنی مرضی کی قانون سازی نہیں کر سکتی اگر کوئی قانون قومی اسمبلی میں پاس بھی ہوجائے تو وہ سینٹ میں جاکر رک جاتا ہے۔یوں اس سال بھی حکومت کو خاطر خواہ کامیابی تو نہ ملی تاہم وہ کچھ قوانین پاس کرنے میں کامیاب رہی۔پہلے پارلیمانی سال میں مجموعی طور پر قانون سازی کی رفتار سست رہی۔اس سال سب اہم قانون سازی قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختون خوا کا حصہ بنانے کا جو قانون پاس کیا گیا تھا ۔اس حوالے سے اس سال 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں قبائلی علاقوں کی نشستوں کا تعین کر دیا گیا جو قبائلی عوام کا دیرنیہ مطالبہ تھا ۔مجموعی طور پر اس قانون پر اپوزیشن کی حمایت حاصل رہی۔یاد رہے کہ پاکستان کے حوالے سے اس اہم قانون سازی میں صرف جمعیت علماء اسلام ٖف،خیبر پختون خوا ملی عوامی پارٹی اچکزئی نے مخالفت کی تھی۔تاہم اس قانون کی منظوری کے بعد قبائلی علاقے خیبر پختون خوا کا حصہ بن گئے تھے۔اب اس سال 26 آئینی ترمیم کے ذریعے ان علاقوں کی سیٹوں کا تعین بھی کر دیا گیا ہے۔قومی اسمبلی میں اس بل کے بعدقبائلی علاقوں کی نشستوں کی تعداد چھ سے بڑھ کر بارہ ہوگئی جبکہ خیبر پختونخوا میں سولہ سے بڑھا کر چوبیس ہوگئی ۔
قومی اسمبلی نے جنوری 2019میں سینماگھروں میں سگریٹ نوشی کی ممانعت کا ایکٹ 2019پاس کیا اور 1960 کاایکٹ منسوخ کردیا۔جنوری ہی میں قومی اسمبلی نے اسلام آباد ہائی کورٹ ایکٹ 2010میں ترامیم کا بل منظور کیا جس کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کی تعداد سات سے دس کردی گئی پہلے یہ تعداد چھ جج اور ایک چیف جسٹس تھی اب ترمیم کے بعد تعداد نو جج اور ایک چیف جسٹس ہوگی ہے یہ ترمیم مقدمات کی تعداد کو دیکھتے ہوئے کی گئی ہے۔
اسی طرح مارچ میں قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ 2017میں ترمیم کرتے ہوئے انتخابات کی شکایات اور پیٹیشنزکو نمٹانے کے لئے الیکشن کمیشن کو اضافی بینچ بنانے کی منظوری دی۔اس کے ساتھ منی بل بھی منظور کرائے گئے ۔جس میں نان فائلرز پر پراپرٹی کی خریداری کے حوالے سے پابندی لگائی گئی جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔
اپریل میں ہیوی انڈسٹری ٹیکسلابورڈ کے اختیارات میں توسیع کا بل منظور کیا گیااور 1997کے ایکٹ میں ترمیم کی گئی۔جس سے بورڈ کو مزید فعال بنایا گیا ہے۔جون اور ستمبر میں فنانس بل منظور کیاگیا۔اسی طرح ستمبر میں ہی اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010میں ترامیم کی گئی جس کے مطابق اب عالمی معیار کے مطابق اس قانون کو موثر بنایا گیا اور منی لانڈرنگ کو جر م قرار دیکر اس خلاف ایکشن کو سخت تجویز کیا گیا۔پاکستان میں زر مبالہ کی پالیسی اور کاروباری عمل غیر ملکی فارن ایکسچینج ایکٹ 1947 کے تحت چلائے جارہے تھے حکومت نے اس ایکٹ میں ترمیم کر کے سٹیٹ بینک کو زر مبالہ کی پالیسی اور کاروباری عمل کو جامع انداز میں چلانے کے اختیارات دئیے گئے ہیں۔اسی طرح اس سال میں صوبائی اسمبلیوں میں قانون کا جائزہ لیں تو خیبر پختونخوا اسمبلی اور پنجاب اسمبلی آگے نظر آتی ہیں جہاں تیس سے زیادہ قوانین کی منظوری دی گئی۔اس سال میں خیبر پختونخوا اسمبلی سے منظور ہونے والے قوانین میں
}انسانی حقوق کے تحفظ اور عملدرامد کا قانون
}خواتین کو جائیداد میں حق کا بل
}قانونی امداد کا ایکٹ
}خیبر پختونخواہ ٹوریزیم ایکٹ 2019
}ریجنل اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ایکٹ 219
}یوتھ ڈویلپمنٹ کمیشن کے قیام کا بل
}یوتھ ویلفئیر فنڈ کا قیام
}لیوی اور خاصہ دار فورس ایکٹ
}ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کا قیام
}خیبر پختونخواہ پاور اتھارٹی کا قیام
}جوڈیشل اکیڈمی ایکٹ
}ماحولیاتی امور ایکٹ 2019
}چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی قابل ذکر ہیں۔قانون سازی کا عمل جاری۔
اب پنجاب اسمبلی میں اس سال میں ہونے والی قانون سازی کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ کمیٹیوں کے قیام میں تاخیر قانون سازی کے عمل میںتاخیر نظر آئی مضبوط اپوزیشن کے باوجود اس سال میں سپیکر پنجاب اسمبلی کے تجربے اور ان کی مصلحت پسندی کی وجہ سے قانون سازی کے عمل میں زبردست پیش رفت ہوئی اور ایک سال میںریکارڈ قانون سازی ہوئی۔پنجاب اسمبلی سال 2019میں خاطر خواہ قوانین بنانے اور قوانین کو بہتر کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس سال پنجاب میں جو اہم قانون سازی ہوئی ان میںمقامی حکومتوں کے قیام،صاف پانی کی فراہمی،تنازعات کے حل کے ذرائع کابل،پنجاب پیشہ ورانہ حفاطت اور صحت کا بل،نمل یونیورسٹی اور میر چاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے قیام کا بل قابل ذکر ہیں۔پنجاب کی اہم قانون سازی درجہ ذیل رہی۔
}آب پاک تھارٹی کے قیام کا بل 2019
}پنجاب واٹر ایکٹ 2019
}پنجاب لوکل گورنمنٹ بل
}دیہی پنچائیت محلہ کونسل بل
}تنازعات کے حل کے متبادل ذرائع کا بل 2019
}نمل یونیورسٹی اور میر چاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے قیام کا بل
}پنجاب پیشہ ورانہ حفاطت اور صحت کا بل
}پنجاب ورکرز ویلفئیر فنڈ بل
}پنجاب کم از کم تنخواہ کا بل
}راولپنڈی وومن یونیورسٹی بل
}پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بل
}پنجاب میں جانوروں کی صحت کا بل
}پنجاب ریونیو ترامیمی بل
}پنجاب زکوۃ عشر ترامیمی بل
}پنجاب لینڈ ریونیو ترمیمی بل ۔ قابل ذکر ہیں
سندھ اسمبلی کا اجلاس چند سیاسی وجوہات کی بنیاد پر مسلسل چلتا رہا تاہم سندھ میں قانون سازی کا جائزہ لیں تو ہمیں صورتحال دیگر صوبوں کی نسبت کم نظر آتی ہے تاہم کئی اہم قانون اسمبلی نے اس سال میں پاس کے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
}سندھ میں پولیس ایکٹ1860کی منسوخی اور پولیس ایکٹ 2002میںترامیم کا بل
}سندھ ایجوکیشنل اور ٹیکنیکل اتھارٹی کے قیام کا بل
}زخمی افراد کا لازمی طبی علاج کا بل
}سندھ انسٹویٹ چائلڈ ہیلتھ کا قیام
}سندھ زکوۃ و عشر ایکٹ میں ترمیم
}سندھ میں ٹراماسنٹر اور کارڈیالوجی سنٹر کے قیام کا بل
}سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کا ترمیم کا بل
}کوڈ آف سول پروسیجر بل
}سندھ جیل خانہ جات اصلاحی خدمات بل
بلوچستان اسمبلی کی جانب سے اس سال میں جو اہم قانون سازی ہوئی اس کی تفصیل درجہ ذیل ہے۔
}بلوچستان مینٹل ہیلتھ ایکٹ 2019
}بلوچستان لازمی تعلیم کے حق کا بل
}لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل
}بلوچستان حد بندی ایکٹ
}ُبلوچستان ثانوی و اعلی تعلیم بورڈ ترامیمی ایکٹ
}بلوچستان سول کورٹ ترامیمی ایکٹ
}بلوچستان میں بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کا بل
}بلوچستان میں سیلز ٹیکس کا ترمیمی بل
جمہوری عمل میں قانون سازی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔حزب اختلاف کا موثر ہوناجمہوری عمل کی مضبوطی کی ضمانت ہوتا ہے،لیکن عوامی اور ملکی مفاد کے حوالے قانون سازی میں اپوزیشن کو سیاسی اختلاف کو ایک طرف رکھتے ہوئے حکومت کو سپورٹ کرنا چاہیے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker