تجزیےلکھاریمختار پارس

ڈیجیٹل پاکستان اور تانیہ ایدروس سے توقعات : سوچ وچار/ مختار پارس

جب علامہ محمد اقبال نے مشینوں کی حکومت کو دل کےلیۓ موت قرار دیا تھا، اس وقت مسئلہ یہ درپیش تھا کہ آلات مزدوروں کی جگہ لے رہے تھے۔ زمانہ اس قدر تیزی سے بدلا ہے کہ اب ”دماغ کی موت“ ہونے جا رہی ہے کیونکہ مشینوں نے یہ کام بھی سنبھال لیا ہے۔ انسانی تہذیب نہ دل کی موت کو روک سکی تھی اور نہ اب دماغ کو ناکارہ ہونے سے روک سکے گی۔ سچی بات یہ ہے کہ انسان نے دل اور دماغ کا استعمال صحیح کیا ہوتا تو آج کا معاشرہ ابتری کا شکار نہ ہوتا۔ اپنے اردگرد ہم جو ایک شہری کے ساتھ ناانصافی اور حق تلفی کا سلسلہ دیکھ رہے ہیں، اس میں انسانی صوابدید کا بڑا ہاتھ ہے۔ سرکاری دفتروں میں اس صوابدید کا استعمال بہت بیدردی سے ہوا ہے جس میں دل و دماغ کا بڑا کردار ہے۔ سائینسی ترقی نے انسان کو اب ادھر لا کر کھڑا کر دیا ہے جہاں وہ چاہے تو بیشتر امور حکومت اور عوامی خدمات کو مشینوں کے ذریعے، بغیر کسی تفریق کے احسن طریقے سے انجام دے سکتا ہے۔ مشینوں کی ذہانت انسانی رفتار سے لاکھوں گنا زیادہ تیزی سے اور ز یادہ شفاف طریقے سے کام کرتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ ہماری حکومتیں، خصوصاً مقامی حکومتیں اس سائنسی دریافت کا بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنے آپ کو مستقبل کےلیے تیار کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دل اور دماغ بچاتے بچاتے، ہم ایک دفعہ پھر دنیا کی ترقی اور تہذیب میں پیچھے رہ جائیں۔
کمپیوٹر کی دنیا میں یہ انقلاب آ چکا ہے کہ مشینیں انسانوں کی طرح سوچ سکتی ہیں، بول سکتی ہیں، سمجھ سکتی ہیں اور فیصلے بھی کر سکتی ہیں۔ بغیر ڈرائیور کے گاڑیاں اور ڈرون اس پیشرفت کی واضح مثال ہیں جو کسی غلطی کے امکان کے بغیر، کم اخراجات میں، بغیر کسی بحث و تمحیص اور فراڈ کے منزل تک پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں۔ مشینوں کی اس ذہنی استطاعت کو ہم یقیناً اپنے سرکاری محکموں میں لوگوں کو آسانیاں اور سہولیات فراہم کرنے کےلۓ استعمال کرسکتے ہیں۔ لطیف پیراۓ میں یہ کہنےمیں حرج نہیں کہ سرکاری اداروں میں جہاں بھی انسان نے ”دل اور دماغ“ استعمال کیا ہے، وہاں رشوت، بدعنوانی، حق تلفی، سفارش اور اقربا پروری نے عوام کےلۓ مسائل کھڑے کیۓ ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مشینوں کی مصنوعی ذہانت سے ہم ایسے مسائل سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں۔
ہمیں اس بات کو سمجھنا ہے کہ معیشت اور معاشرت کا مرکز ”ایک شہری“ کو ہونا چاہیئے۔ حکومت کے تمام وسائل اور پالیسیوں کا مقصد عوام کےلئے بنیادی سہولتوں کا فراہم کرنا ہے۔ اگر ڈاکٹر دیہی علاقوں میں جا کر خدمات انجام نہیں دینا چاہتے تو یونین کونسل کی سطح پر مصنوعی ذہانت کی حامل میڈیکل کی ٹیکنالوجی موجود ہے جو مریضوں کی امراض کی تشخیص بغیر کسی ڈاکٹر کے کر سکتی ہے۔ ذرا غور کیجیۓ کہ یہ مشینی ڈاکٹر ہر گاوں میں دستیاب ہو سکتا ہے۔ نہ ڈاکٹر صاحبان کے نخرے ہونگے اور نہ کوئی فیس۔ مگر ایسا اسی صورت ہو سکتا ہے اگر اس قسم کے انتظامات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہوں۔ جی سیون ممالک کی تنظیم کے 2018 میں ہونے والے اجلاس میں ترقی یافتہ ممالک اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لئیے پالیسیاں بنانے کا کام ان حکومتوں کے ذمہ لگا دیا گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اسی انداز سے ہماری حکومتیں بھی تعلیم، ماحولیات،قدرتی آفات سے متعلق انتظامات میں اور روزگار کی فراہمی سے متعلق ان جدید طریقوں کو اپنا لیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ ہر ایجاد اور ہر علم تیسری دنیا تک ہمیشہ دو دہائیو ں بعد پہنچے۔ اور کیا یہ ضروری ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ صرف ہتھوڑے اور پھاوڑے اٹھانے والوں کوہی ہم مزدور کہیں گے۔ پاکستان کے ہنرمندوں نے کمپیوٹر اور سافٹ وئیر میں نام کمایا ہوا ہے۔ وہ یقیناً مصنوعی ذہانت کے منصوبوں میں حکومت کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیۓ کہ نوجوانوں کو ایسے ابتدائی منصوبوں کےلیۓ تحقیق کی طرف راغب کرے۔ اپنی لیبر کلاس کی تعریف کو بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہمیں دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے کہ ہماری لیبر کمپیوٹر کے اور مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے ماہرین پر مشتمل ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں حال ہی میں تحقیق ہوئی ہے جس میں ان امکانات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ تحقیق میں یہ کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت چھ قسم کے منصوبوں میں حکومتوں کی مدد کر کے ترقی کی رفتار کو تیز کر سکتی ہیں۔ اول،ہر سطح پر انتظامی اخراجات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ دوئم، معاشرتی اور شماریاتی معلومات کو پالیسیاں بنانے کےلیۓ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سوئم، جن شعبوں میں ماہرین کی کمی ہو، وہاں ڈیجیٹل اسسٹنٹ ڈیزائن کیے جا سکتے ہیں ۔ چہارم، دفاع، فلاح اور آفات کا مقابلہ کرنے کےلیۓ حکومتی امور میں پیشگوئی سے کام لیا جاسکتا ہے۔ پنجم، الیکٹرانک مشینیں ہر قسم کی دستاویزات کی ہر وقت دستیابی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ ششم، مصنوعی ذہانت کے ذریعے معلومات کا تبادلہ کسی بھی زبان اور کسی بھی مقصد کےلۓ ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں تجویز یہ ہے کہ آئیندہ بلدیاتی نظام کو ان بیان کردہ اصولوں پر استوار کیا جاۓ تو اس کے اثرات نہ صرف دور رس ہوں گے بلکہ وسیع تر ہونگے۔
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں مستقبل کا بلدیاتی نظام ایک نمائیندہ کسٹمر سروس سنٹر کی طرح ہونا چاہیۓ جہاں بغیر کسی انسانی مداخلت کے شناختی کارڈ، پاسپورٹ، فرد ملکیت، فارم ب، زراعت سے متعلق سہولیات،ای کامرس، طبی سہولیات، ایف آئی آر کا اندراج، ٹیکسوں کی ادائیگی اور رقوم کا تبادلہ جیسے سارے معاملات نبٹاۓ جا سکتے ہوں۔
مصنوعی ذہانت حکومت کو فیصلوں میں اور بنیادی خدمات کی ادائیگی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کےلیۓ صرف ایک کام کرنے کی ضرورت ہے اور وہ ہے حکومتی امور میں صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ۔ پاکستان میں موجود ہر محکمہ اور ہر وزارت کوئی نہ کوئی خدمت سر انجام دیتی ہے۔ کسی کے ذمہ لائسنس کا اجراء ہے تو کوئی کسی معاملے میں اجازت یا این او سی جاری کرتا ہے۔ ان سب جگہوں پر شکایات کے انبار ہیں کہ فلاں افسر نے کام نہیں کیا اور فلاں جگہ رشوت لی گئی۔ اس کا حل مصنوعی ذہانت کے منصوبوں میں ہے۔ ہر دفتر میں ایسا انتظام ہو سکتا ہے کہ سائل متعلقہ کام کروانے کےلیۓ آن لائن سسٹم سے رابطہ کرے جو اس شخص سے ساری معلومات لے اور کسی قسم کی کمی بیشی کی صورت میں رہنمائی بھی کرے۔ اگر لائسنس یا این او سی کی شرائط پوری ہوں تو اس کو ٹوکن مل جاۓ جس میں دستاویز کے دستیاب ہونےکی تاریخ درج ہو اور شرائط پوری نہ ہوں تو درخواست جمع ہی نہ ہو۔ افسروں اور اہلکاروں کی بجاۓ برقی مشینیں یہ کام کریں گی تو کوئی نہ کسی کو ناجائز فائدہ دے گا اور نہ کوئی بدعنوانی کر سکے گا۔
اگر ہمیں ایسا نظام حکومت چاہیۓ جو شفاف اور قابل اعتبار ہو تو ہمیں مصنوعی ذہانت کے ہاتھ میں کاروبار حکومت دینا پڑے گا۔ تانیہ ایدروس اگر گوش بر آواز ہوں تو اگلی بات انہیں معلوم ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہے۔ ڈیجیٹل پاکستان کا مطلب وفاقی اور صوبائی محکموں میں ای میل کا اجراء نہیں ہے۔ ڈیجیٹل پاکستان اسوقت بنے گا جب پاکستان کا ہر گاؤں مصنوعی ذہانت کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہو گا۔
پاکستان نے پائیدار ترقی کے عالمی احداف کے حصول کےلیۓ اقوام متحدہ سے کچھ وعدے کیے ہوۓ ہیں۔ اس سے پہلے ہم ‘ٰایم ڈی جیز’ کو حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ سن 2013 میں مجھے برطانیہ کے سابق وزیراعظم گارڈن براون کیساتھ ملکر تعلیم کے فروغ کےلیۓ پاکستان کی حکمت عملی کو ترتیب دینے کا موقع ملا۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ہونے والی اس کارر وائی میں ہم نے یہ جانا کہ پاکستان تعلیم، صحت اور ترقی کے عالمی احداف کے حصول میں کیوں ناکام رہا ہے۔ میرے نزدیک پاکستان عالمی احداف کے حصول میں اتنا ناکام نہیں تھا مگر اقوام متحدہ کے ڈیش بورڈ پر متعلقہ اشاریۓ نہایت پریشان کن تھے۔ اس کی بنیادی وجہ ”ڈیٹا“ یعنی معلومات اور شماریات کا اکٹھا نہ ہونا اور مناسب طریقے سے رپورٹ نہ کرنا تھا۔ مشینوں کی مصنوعی ذہانت کے دور میں اب یہ مسئلہ نہیں رہا۔ ڈیجیٹل پاکستان میں اس بات کی گنجائش ضرور رکھیں کہ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کو مصنوعی ذہانت سے لیس ادارے بنا دیں۔ ہماری حکومتیں آرٹیفشل انٹیلیجنس کے ذریعے شہری اور دیہی ترقی کے منصوبے ڈیزائن کر سکتی ہیں، امن و امان کی صورتحال کو فول پروف بنا سکتی ہیں، بینکاری کے نظام کو عام آدمی کی دسترس میں دے سکتی ہیں، تعلیم و تربیت کو عام کر سکتی ہیں اور صحت عامہ کے مسائل سے بھی نجات پا سکتی ہیں۔ یہ ہے وہ راستہ جس پر چل کر ہم پائدار ترقی کے عالمی احداف کو آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔
توجہ طلب بات یہ ہے کہ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہم اپنی بیس کروڑ عوام کو انٹرنیٹ سے کیسے جوڑ سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ ضروری بات یہ جاننا ہے کہ کتنے لوگ ابھی اس ملک میں انٹرنیٹ سے ناواقف، نابلد اور محروم ہیں؟ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں کہاں رہتے ہیں اور مصنوعی ذہانت ان کی زندگیاں کیسے بدل سکتی ہے۔ ہمیں اپنے وفاقی وسائل کو اس تحقیق پر خرچ کرنا ہو گا اور پھر کوئی راستہ سجھائی دے گا۔
ورلڈ اکنامک فورم کے اس سال ہونے والے اجلاس میں حکومتوں کے لیۓ مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ ان آراء کی روشنی میں پاکستان کو اس ضمن میں چھ قسم کی مشکلات کا سامنا ہو گا۔
1۔ حکومت اور عوام سے متعلق ڈیٹا کیسے اکٹھا ہو گا اور ان معلومات کو تازہ ترین کیسے رکھا جاۓ گا؟
2۔ مصنوعی ذہانت سے کام لینے والے ماہرین کیسے تیار کیے جائیں گے؟
3۔ حکومت، مصنوعی ذہانت کی ‘مارکیٹ’ میں جگہ کیسے بناۓ گی؟
4۔ بیوروکریسی کا فرسودہ اور سست نظام اس انقلاب کے لیۓ راہ کیسے ہموار کرے گا؟
5۔ مصنوعی ذہانت اور متعلقہ مشینوں اور سافٹ وئیر کی آن لائن خریداری کےلیۓ کیا انتظام کیا جاۓ گا؟
6۔ بیروزگاری کے اس دور میں ملک مشینی نظام حکومت کا متحمل ہو سکے گا یا نہیں؟
میرا خیال ہے کہ اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کےلیۓ پلاننگ کمیشن سے بہتر کوئی ادارہ نہیں۔ آئین میں یہ پلاننگ کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو مستقبل کے لیۓ تیار کرے۔ یہ ادارہ ہمیں بتا سکتا ہے کہ ملک اس مشینی دور میں روزگار کے کونسے نۓ مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ اس ذمہ داری کو نبھانے کےلیۓ جناب اسدعمر سے بہتر بھی کوئی آدمی نہیں کونکہ وہ پرائیویٹ سیکٹر کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں اور اس کام کو حکومت پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ ملکر ہی انجام دے سکتی ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے اس تبدیلی کے دور میں صوبائی اور مقامی حکومتوں کے اغراض و مقاصد کو نۓ تقاضوں سے آراستہ نہ کیا تو ہماری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker