ڈاکٹر اسد اریبشاعریلکھاری

میرے قاتل کو معافی مرا حاکم بخشے : غزل / ڈاکٹر اسد اریب

کامیابی یہی دنیا کی یہی دین کی ہے
بات پابندیء احکامِ قوانین کی ہے

لکھ نئے دن کےلئے اور نئے بابِ نصاب
اب نئی رات نئے فکرِ مضامین کی ہے

یہ زمیں میری ہے گُلہائے مضامیں میرے
مجھ کو کیا ایسی ضرورت کسی تضمین کی ہے

عیدِ نظّارہ بھی دیکھے نہ کوئی اب شبِ عید
منتظر عید بھی اب اُس کے فرامین کی ہے

مصرِ دیرینہ ءِ دو رُخ ہے یہ بستی میری
اک غلامانِ ہرم،ایک فراعین کی ہے

میرے قاتل کو معافی مرا حاکم بخشے
یہ عجب طُرفہ رعایت مرے آئین کی ہے

میری مجلس میں عقائد کی دلائل کا ہے شور
لوگ کہتے ہیں کہ یہ فکر شیاطین کی ہے

برسرِ قطعِ غزل آپ بھی لکھ دیجے ” اریب“
بات اگر یہ کوئی پابندیءِ آئین کی ہے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker