قیام پاکستان کے وقت پاکستان کو ورثے میں جو کچھ ملا اس میں انگریز سرکار کی بیوروکریسی کا نظام بھی تھا۔یہ وہ نظام تھاجونو آ بادکار کے مقاصد کی نگہبانی کرتا تھا۔یہ نظام ہر اس کام کی حوصلہ افزائی کرتا تھا جس سے انگریز سرکارکے مفادات کی آ بیاری ہوتی تھی،اور اس نظام کی ساخت میں جو۔عنصر موجود تھا وہ طاقتور کو مضبوط اور نمایاں کرنا تھا۔کالونیل بیوروکریسی کو اصولی طور پر آ زادی کے ساتھ ہی ختم ہو کر نئے تقاضوں کی روشنی میں عوامی مزاج میں ڈھل جانا چاہئے تھا مگر یہ ہو نہ سکا اور یہ نئی طاقت اور دھونس کو لے کر سامنےآئی ۔انتظامی امور یا سیاسیات کی اصطلاح میں اسے نیو(Neo) کالونیل ازم کہا جاتاہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ کالونیل ازم کے مقابلے میں نیو کالونیل ازم کا عہد زیادہ عوام دشمن ہوتا ہے ،یہی کچھ ریاست پاکستان میں ہوا اور پاکستانی بیوروکریسی "شہنشاہیت”کے روپ میں پاکستانیوں پر مسلط پو گئی اور پھر طویل مارشل لاؤ ں نے اسے مزید طاقتور بنا دیا۔
پاکستان کی بیوروکریسی پر نیو کالونیل ازم کے کردار کا الزام اسی تناظر میں عائد کیا جاتا ہے کہ اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے،طرزحکمرانی اورفیصلہ سازی میں اب بھی نوآ بادیاتی دور کی روایتیں اور ترجیحات غالب دکھائی دیتی ہیں۔برطانوی دور میں تشکیل پانےوالا سول سروس کانظام عوامی خدمت کے بجائے نظم وضبط،کنٹرول اور بالادستی کے اصولوں پراستوار تھا جو آ زادی کے بعد بھی بڑی حد تک بغیر بنیادی اصلاحات کے برقرار رہا بلکہ ابھی تک زیادہ سفاک شکل میں موجود ہے ۔اس کی زیادہ تکلیف دہ صورت ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے لامحدود اختیارات کے استعمال میں مشاہدہ کی جاسکتی ہے ۔
نتیجتا بیوروکریسی ایک ایسے طبقے کی صورت میں ابھری جو خود کو ریاست اور عوام سے بالاتر سمجھتاہے ۔اسی بالاتر طبقے کی اداوں نے پاکستانی بیوروکریسی کے مزاج کو عوامی کی بجائے مارشل لائی بنادیا ہے ۔پاکستانی بیوروکریسی کے مقابلے میں ایشاء کی دیگر ریاستوں میں بیوروکریسی کا مزاج عوام دوستی سے مملو ہے ۔
نیوکالونیل ازم کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستانی بیوروکریسی اکثر بین الاقوامی مالیاتی اداروں،عالمی طاقتوں اور بیرونی پالیسی فریم ورکس کے ساتھ ہم آ ہنگ نظر آ تی ہے جب کہ مقامی سماجی ضروریات،ثقافتی اقدار اور عوامی ترجیحات کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں ۔ترقی،گورننس اوراصلاحات کے نام پرنافذ کی جانے والی پالیسیاں بسا اوقات عوامی شرکت کے بغیر ترتیب دی جاتی ہیں جو نوآ بادیاتی دور کی بالادستانہ سوچ کی یاد دلاتی ہیں۔یہی وہ سوچ ہے جو پاکستان کے فلاحی ریاست بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے ۔پون صدی گزرنے کے بعد بھی ہم کالونیل عہد میں بے بسی کی زندگیاں گزرنے پر مجبور ہیں۔فلاحی مملکت وہی ہوتی ہے جہاں ہر طبقے کا شخص "اونرشپ”کے احساس کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہو،موجودہ بیوروکریسی اور اسے تحفظ دینے والے ادارے کیا ایسا فریضہ ادا کر رہے ہیں،یہ فریضہ تب ہی ادا ہو گا جب گورے نوآ بادکار کی دی ہوئی روایت کو نئے عوامی اور جمہوری مزاج میں بدلا جائے گا ۔

