غضنفر علی شاہیکالملکھاری

غضنفر علی شاہی کا کالم:بیوروکریسی کی چاروں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں

ملک کے اصل اور دائمی حکمران بیوروکریٹس ہیں۔ بیوروکریسی نے ملکی نظام پر ایسے پنجے گاڑے ہوئے ہیں کہ جو چاہیں پالیسی بنائیں اور جس انداز میں چاہیں ملک کو چلائیں۔اختیارات کا مرکز اور منبع بیوروکریسی ہی ہے۔ ملک میں قانون سازی بھی در حقیقت ان کی منشا کے مطابق ہوتی ہے۔ یہ بی اے پاس بیوروکریٹس(صاحب)جب چاہیں حکومت کو عوام میں پاپولر کر دیں اور جب چاہیں عوام سے ناپسندیدہ قرار دلوادیں۔ عدلیہ کی طرح یہ بھی اپنے اختیارات اور مراعات میں از خود اضافہ کرتے ہیں اور اضافہ کرتے کرتے اب ان کی تنخواہیں اور مراعات اقوام متحدہ کے افسران سے زیادہ ہیں۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق یہ ’’صاحب پرائیویٹ سیکٹر سے 20 فیصد زائد تنخواہیں لے رہے ہیں اور پے سلپ میں اندراج کے بغیر گریڈ 22 کا صاحب تنخواہ سے 10 گنا زائد وصول کر رہا ہے ۔ صاحب اتنے با اختیار ہوتے ہیں کہ سول سروس سے مستعفی ہوئے بغیر اور پے این پنشن کمیشن کی سفارش کے بنا مینجمنٹ پے سکیل میں آ جاتے ہیں۔ملک میں گریڈ 1 کی تنخواہ 13840 روپے ہے جبکہ گریڈ 20 کی تنخواہ 100660 روپے ہے لیکن اگر وہ صاحب ہے تو وہ تنخواہ الاؤنسز اور مراعات سمیت 729511 روپے وصول کرتا ہے اور21 ویں گریڈ کا صاحب تنخواہ111720 روپے ہونے کے باوجود الاؤنسز اور مراعات سمیت 979594 روپے وصول پاتا ہے گریڈ 22 کے صاحب کی تنخواہ 123470 روپے ہے لیکن وہ الاؤنسز اور مراعات کی مد میں 11 لاکھ روپے وصول کرتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی سیکرٹری کی تنخواہ اقوام متحدہ کے آفیسر سے12 فیصد زائد ہے۔
عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بیوروکریسی کی تنخواہیں 53 فیصد زائد ہیں۔ جبکہ تیسری دنیا کے ممالک میں سب سے زیادہ تنخواہیں اور مراعات ہمارے ملک کے بیوروکریٹس کی ہیں۔صرف اسلام آباد اور روالپنڈی کے بیوروکریٹس جن محلات میں رہتے ہیں ان کی مالیت ایک کھرب 45 ارب سے زائد ہے جن سے ایک ارب 75 کروڑ روپے کرایہ سالانہ وصول کیا جا سکتا ہے ۔بیوروکریٹس کی کوٹھیاں ساڑھے تین کینال سے 25 کینال رقبہ پر مشتمل ہیںوفاقی سیکرٹری خود مختار کارپوریشنز کے ایکس آفیسو چیئرمین کے طور پر بجلی گیس اور دو ملازم رکھنے کی سہولیات بھی حاصل کرتے ہیں جبکہ فیملی کے علاج معالجے کیلئے اعلی ترین ہسپتال پینل پر ہوتے ہیں سرکاری گاڑیاں اور پٹرول کا بے دریغ استعمال کی سہولت گھر کے ہر فرد کو حاصل ہوتی ہے اور گاڑیوں کی مرمت بھی سرکاری کھاتے سےکیسا نظام اور کیسے صاحب انگریز جاتا ہوا ہمیں تحفے میں دے گیا آزادی ملنے کے باوجود پہلے جیسے گلے سڑے نظام میں عام آدمی جی رہا ہےگریڈ ایک سے تک کے ملازمین تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کریں تو خزانہ خالی چبکہ ہر حکومت ان بیوروکریٹس کو خفیہ طریقے سے مراعات دے کر خوشی محسوس کرتی ہے۔
کیسا نظام ہے کہ عام آدمی اور نچلے درجے کے سرکاری ملازمین بچے کی پیدائش پر خوشی محسوس کرنے کی بجائے ادھار کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں جبکہ بیوروکریٹس کے بیویاں بچوں کی ترقی یافتہ ملک کی نیشنلٹی کیلئے ڈیلیوری بیرون ملک کراتی ہیں پٹرول مہنگا ہو تو عام آدمی کی چیخیں نکل جاتی ہیں جبکہ بیوروکریٹس کی مراعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اس نظام کو کیا نام دیا جائے جہاں عام آدمی تو ہر چیز کا بل دے لیکن اصل حکمران طبقہ بجلی ،گیس ،پٹرول، موبائل فون لینڈ لائن اور علاج معالجے کی سہولیات بھی فری حاصل کرے۔ گریڈ ایک سے 16 تک کا ملازم تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کیلئے آنسو گیس اور لاٹھی چارج برداشت کرے اور بیوروکریٹس اپنی مراعات میں اضافہ کا فیصلہ بھی خود کریں۔ اور عام آدمی کو جرمانہ کریں تو اس میں بھی ان کا حصہ ہوکیسا نظام ہے جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ استاد سے بی اے پاس بیوروکریٹ 10 گنا زائد تنخواہ اور مراعات حاصل کرے اور اسے ہر فن مولا سمجھا جائے۔ یہ وہ صاحب ہیں جن کے ذریعے انگریز حاکم ہندوستان پر حکمرانی کرتا تھا۔یعنی غلامانہ نظام کے سرخیل یہ تھے۔ انگریز جاتا ہوا اس غلامانہ تسلسل کے نظام کو جاری رکھنے کیلئے سی ایس ایس کا تحفہ دے گیا۔
میرے ایک استاد محترم کہا کرتے تھے کہ ایک فیملی میں ایک سی ایس ایس کر جائے تو دو نسلیں سنور جاتی ہیں جبکہ میرا ایک دوست بیوروکریٹ کہتا تھا کہ سیاستدان بھی کرپشن کرنے کیلئے ہمارے مرہون منت ہوتے ہیں اور ہمارے تعاون سے ہی مہا کرپٹ بنتے ہیں۔یہ کیسا نظام ہے جس میں بی اے پاس پورے ضلع کا نظام چلا سکتا ہے۔ سیکرٹری فنانس سیکرٹری صحت سیکرٹری تعلیم اور سیکرٹری زراعت بھی بن سکتا ہےتبدیلی لانی ہے تو نظام بدلنا ہوگا۔ ان “کاٹھے انگریزوں” کے چنگل سے نظام کو نکالنا ہوگا۔اس مراعات یافتہ طبقہ اشرافیہ سے نجات حاصل کر کےملک کی معاشی حالت کو بھی تیزی سے بہتر کیا جا سکتا ہے۔اگر ایک بیوروکریٹ کو کار حکومت گفٹ کر دے لیکن پٹرول، مرمت کے اخراجات سرکاری خزانہ سے ادا نہ کئے جائیں تو سالانہ اربوں روپے بچا کر عوام کی فلاح پر خرچ کئے جا سکتے ہیں۔ بیوروکریٹس کے دو جڑواں شہروں کے محلات کی فالتو اراضی فروخت کر کے قرضہ سے نجات حاصل کی جا سکتی ہےلیکن کون کرے ،کیسے کرے ۔اب تو بیوروکریسی کے لمبے ناخن نظام اور عوام کے گوشت میں پیوست ہو چکے ہیں۔غریبوں کیلئے نگر خانے بھی بناؤ لیکن ایسا نظام بھی لاؤ کہ غریب بیوروکریٹس تک رسائی کا سوچ تو سکے۔ غریب کو 12 ہزار بھی دو لیکن بیوروکریٹس کی تنخواہیں غریب سرکاری ملازمین کی نسبت سے مقرر کرو۔تبدیلی سرکار کے نعرے کو عملی صورت تب ہی ممکن ہوگی جب یہ غلامانہ نظام بدلا جائے گا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker