کچھ دن ہوۓ میں کسی کام سے ایک نجی بینک گیا۔ وہاں کے شعبہ سیلز میں خاصے لوگ بیٹھے تھے۔ وہ ایک بڑا ہال تھا جس میں ایک سو کے لگ بھگ کمپیوٹر رکھے تھے اور ہر مشین کے آگے ایک لڑکی بیٹھی فون پر میکانکی سی گفتگو کر رہی تھی۔ ان کے چہروں پر پریشانی تھی اور ان کی فون پر ہونے والی گفتگو میں لجاجت نمایاں تھی۔ لباس اور خدوخال سے صاف لگ رہا تھا کہ حالات نے انہیں اس کام پر لگایا ہے۔ اچانک ایک مردانہ آواز ہال میں زور سے گونجی۔
‘شکل دیکھی ہے تم نے اپنی، ہر وقت میک اپ کرتی رہتی ہو۔ کام کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ شام سے پہلے پہلے ٹارگٹ حاصل نہ کیا تو کل مجھے شکل نہیں دکھانا’۔ جس کو مخاطب کر کے یہ فقرے بولے جا رہے تھے، وہ لڑکی مارے خفت کے لوگوں کی نظروں سے بچنے کےلیۓ زمین میں گڑی جا رہی تھی اور باس کی آواز اونچی سے مزید اونچی ہوتی جا رہی تھی۔ میں پتہ نہیں وہاں کیا کرنے گیا تھا، بغیر وہ کام کیے وہاں سے باہر نکل آیا۔ میں وہاں اس ماحول میں چند لمحے کھڑا نہ ہو سکا مگر وہ کمزور اور غریب لڑکیاں وہاں بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی دیتی ہیں اور اپنا رزق پانی گھر لے جاتی ہیں۔ میرے لیۓ لمحہؑ فکریہ یہ ہے کہ حکومت کی نجی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کے معاملات پر نظر نہیں ہے۔
پاکستان میں صرف ایک کروڑ پچاس لاکھ خواتین ہیں جو گھروں سے باہر نکل کر کام کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ان کا بھی 67 فیصد وہ خواتین ہیں جو کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔ کوئی 16 فیصد کے قریب وہ خواتین ہیں جو صنعتوں میں محنت مزدوری کرتی ہیں اور کم و بیش 14 گلی محلوں میں کام کاج کر کے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں۔ یہ وہ مظلوم طبقہ ہے جو روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کی حراسیت کا شکار بھی رہتا ہے، ان پر آوازے بھی کسے جاتے ہیں، انہیں معاوضہ بھی کم ملتا ہے، انہیں جائیداد میں سے بھی حصہ نہیں ملتا اور ان کی شکائیتوں کی داد رسی کا بھی کوئی انتظام نہیں۔ انہیں شاید پتہ بھی نہیں کہ پاکستان نے آئین میں ان کے حقوق کےلیۓ وعدے کر رکھے ہیں اور اقوام عالم سے ان کی ترقی اور عزت کی حفاظت کی قسمیں بھی کھا رکھی ہیں۔
پاکستان میں سرکاری شعبے میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد بہت کم ہے۔ یہاں بھی خواتین کےلیے سازگار ماحول میسر نہیں۔ خواتین کے مسائل کا ادراک نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے زندگی کے ہر شعبے میں انہیں مسلسل مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری تنصیبات میں عورتوں کے لیۓ علیحدہ ضروری انتظامات تک کی گنجائش نہیں رکھی جاتی۔ معاشرے میں ماحول ایسا ہے کہ خواتین کے دفتروں میں کام کرنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور باروزگار عورت کو اپنے ہی گھر میں قبول نہیں کیا جاتا۔ دفتروں میں بھی عورتوں کو نہ اہم عہدے دیے جاتے ہیں اور نہ انہیں فیصلہ سازی میں شریک کیا جاتا ہے۔ پاکستان جرنل آف سوشل سائنسز نے ایک حالیہ تحقیق میں ایک دلچسپ تجزیہ کیا ہے۔ ان کی راۓ میں اس معاشرے میں مردوں کے استحصال کا یہ عالم ہے کہ اگر عورت کے ذمہ خاندان بڑھانے کی ذمہ داری نہ ہوتی تو ان کی نسل کب کی ناپید ہو چکی ہوتی۔
بنیادی طور پر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ خواتین ہماری آبادی کا نصف حصہ ہیں اور ملک میں دستیاب وسائل کا آدھا حصہ ان کےلیۓ مختص ہونا چاہیۓ۔ انتظامی طور پر اس کا طریقہء کار یہ ہے کہ جب بھی کسی محکمہ کا بجٹ بنایا جاۓ تو اس بات کو یقینی بنایا جاۓ کہ ان اخراجات کا تقریبا” آدھا حصہ خواتین کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو گا۔ اگر اس طریقہ پر عمل نہیں ہو گا تو مردوں کے اس معاشرے میں عورت کو اس کے حصے کی سہولیات آسانی سے میسر نہیں ہونگی۔ اور اس پالیسی پر عمل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سرکاری اور نجی دفاتر میں خواتین اہلکاروں کی تعداد میں اس طرح سے اضافہ کیا جاۓ کہ مرد تعداد میں زیادہ ہونے کیوجہ سے ان کا استحصال بھی نہ کر سکیں اور بجٹ بناتے وقت خواتین خود فیصلہ کر سکیں کہ ان کو کس شعبے میں کتنے فنڈز درکار ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں ایک بات کو سمجھ لیا گیا ہے کہ خواتین کو معاشرے کا متحرک اور ذمہ دار شہری بنانا ضروری ہے۔ ان کی ہماری زندگیوں میں خصوصی حیثیت ہے اور ان کی کچھ خاص ذمہ داریاں ہیں جو صرف وہی ادا کر سکتی ہیں۔ اس پس منظر میں تو وہ مردوں سے زیادہ حقوق کی حقدار ہیں، چہ جایئکہ ان کو بالکل ہی نظرانداز کر دیا جاۓ۔ دفاتر میں ماحول کو خواتین کےلیۓ سازگار بنانے کےلیۓ کچھ ضروری اقدامات کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ کیا حرج ہے اگر خواتین کی خوانگی مصروفیات کی وجہ سے انہیں گھر سے بیٹھ کر کام کرنے کی سہولت دے دی جاۓ یا ان کےلیۓ اوقات کار میں نرمی کو رواج دے دیا جاۓ۔ کیا ہم یہ قانون نہیں بنا سکتے کہ نجی شعبہ خواتین کو مردوں کے برابر معاوضہ دیں گے۔ خواتین کو دفتروں میں بےوجہ گفتگو اور سرزنش سے بچانے کا انتظام کرنے کی ضرورت ہے۔ نوکریوں میں اور کلیدی عہدوں پر خواتین افسران کی حوصلہ افزائی کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ پاکستان کے کھیتوں میں تو لاکھوں عورتیں کام کر رہی ہیں مگر ڈپٹی کمشنر اور سیکریٹری کبھی کبھی کوئی عورت تعینات ہوتی ہے۔ دفاتر میں ہراسیت کے سلسلے میں قانون سازی تو ہو چکی ہے مگر ان واقعات کے رپورٹنگ سسٹم کو اور بھی محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ ہر صوبے سے خواتین کی نمائندگی کو بہتر کرنے کی حکمت عملی پر عمل ہونا چاہیۓ تا کہ عدم نمائیندگی کے احساس محرومی کو ختم کیا جاۓ ۔ ہمیں خواتین کو یہ یقین دلانا ہے کہ وہ اتنی ہی کارآمد شہری ہیں جتنا کہ کوئی اور مرد۔ مگر اس خواب کو شرمندہء تعبیر کرنے کےلیۓ حکومت کو اپنی معاشی اور معاشرتی ترجیحات کا تعین کرنا ہو گا۔ ہر وزارت اور ہر محکمے کی عزت نسواں سے متعلق ابلاغ کی حکمت عملی بنائی جاۓ گی تو اس کا اظہار فیصلوں میں ہو سکے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمارے نجی اور سرکاری اداروں میں کام کرنے والی خواتین کےلیۓ چار اقدامات اٹھانا بہت ضروری ہیں؛ اول یہ کہ انہیں اپنی ذات کو اپنے کام سے ثابت کرنا ہے تاکہ معاشرے میں انہیں دوسرے درجے کا شہری کوئی نہ قرار دے۔ دوئم یہ کہ انہیں مظلوم بن کر نہیں بلکہ حقدار بن کر معاشرے میں سے اپنے حصے کا رزق اور عزت کمانا ہے۔ سوئم یہ کہ انہیں اپنے ارد گرد موجود اور لڑکیوں اور عورتوں کےلیۓ رول ماڈل بننا ہے۔ چہارم یہ کہ یہ حق انہیں مردوں کے خلاف علم بغاوت اٹھا کر نہیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ کام کر کے حاصل کرنا ہے۔ مثبت کہانیاں عظیم کرداروں کو جنم دیتی ہیں۔ ملک میں موجود خواتین کو کسی وظیفے یا امداد کی نہیں بلکہ خود اعتمادی اور وقار سے زندہ رہنے کا ہنر دینے کی ضرورت ہے۔ ابھی تو بڑا لمبا سفر باقی ہے؛ پاکستان کی متحرک اور باشعور خواتین کو ابھی ان بتوں کو توڑنا ہے جن کی پوجا میں ہم نے اپنی آدھی آبادی کوباقی آدھی آبادی کا محتاج بنا کر رکھا ہوا ہے۔ اگر پانچ سال میں پاکستان کی ساری خواتین تعلیم حاصل کر لیں، اور صحت مند رہیں اور روزگار کے مواقع انہیں حاصل ہو جائیں تو صرف اس تبدیلی سے ملک کی جی ڈی پی سالانہ دس فیصد نمود ممکن ہے۔ اگر ملک کی جی ڈی پی مسلسل دس سال دس فیصد کے حساب سے بڑھے تو اس ملک میں کوئی کسی کا محتاج نہیں ہو گا۔ ملک کا خزانہ ترتیب دیتے وقت اور ملک کے وسائل خرچ کرتے وقت عورت کے نقطہء نگاہ سے پالیسی سازی اور فیصلہ سازی اس لیۓ ضروری ہے کہ عورت جب خرچ کرتی ہے تو پورے خاندان کو ذہن میں رکھ کر خرچ کرتی ہے۔ آئیں، اپنے باقی ماندہ ملک کو ایک ماں، ایک بہن، ایک بیٹی اور ایک بیوی کے زاویے سے ڈیزائن کرتے ہیں۔ اگر وہ گھروں کو احسن طریقے سے چلا سکتی ہیں تو پاکستان بھی ہمارا گھر ہے۔ ہمیں اس کو چلانے کا اختیار بھی انہیں دینا چاہیے۔
‘قومی کمیشن براۓ مقام خواتین’ کو چاہیۓ کہ ہر نجی اور سرکاری دفتر میں مندرجہ ذیل ہدایات کو لازم کرنے کا حکم جاری کریں:-
1۔ دفاتر میں خواتین ملازمین کے ساتھ اونچی آواز میں بات نہیں کی جاۓ گی
2- ہراسیت کے واقعات کی رپورٹنگ کےلیۓ درخواست دہندہ کا نام صیغہ راز میں رکھا جاۓ گا
3- ہر دفتر میں خواتین کےلیۓ علیحدہ ضروری جگہیں مخصوص کی جائینگی۔
4۔ ہر وزارت اپنی ہر پالیسی میں اور اپنے ہر بجٹ میں خواتین کی فلاح و بہبود کو ذہن میں رکھ کر فیصلے کرے گی۔
5۔ خواتین کو اوقات کار میں سہولت دی جائیگی اور خواتین کو گھروں میں کمپیوٹر اور نئی ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا کر کاروبار اور کام کاج کرنے کے قابل بنایا جاۓ گا۔
فیس بک کمینٹ

