تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

تحریک انصاف حکومت : تبدیلی کا ہیولا، احتساب کا دھوکہ اور سفارتی کامیابی کا گمان ۔۔ سید مجاہد علی

عمران خان نے واضح کیا ہے کہ وہ تبدیلی کے ایجنڈے پر کوئی مفاہمت نہیں کریں گے۔ یاوش بخیر وہ ایسی ہی یقین دہانیاں اور وعدے احتساب کے حوالے سے بھی کرتے رہے تھے جن پر ایک نئے آرڈی ننس کے ذریعے فاتحہ پڑھنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔
اب وزیر اعظم کے وزیر اور مشیر پریس کانفرنسوں اور انٹرویوز میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ نیا احتساب آرڈی ننس دراصل نظام کو شفاف، ہمدرد اور معیشت دوست بنانے کے لئے ضروری تھا۔ یعنی معیشت کی مجبوری کے سامنے حکومت نے احتساب کے معاملہ پر بھی ویسے ہی گھٹنے ٹیک دیے ہیں جس طرح سعودی ریال وصول کرنے کے لئے عمران خان نے اپنے آئیڈیل لیڈر مہاتیر محمد کی دعوت پر ملائشیا کانفرنس میں جانے سے معذرت کرلی تھی۔
سعودی وزیر خارجہ کے دورہ کے بعد پاکستان کو اب یہ لالی پاپ دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ایک خصوصی اجلاس پاکستان میں منعقد ہوگا جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کے علاوہ بھارت میں نئے شہریت قانون سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیاجائے گا۔ بھارت میں شہریت بل کے خلاف حکومت کا تشدد بھی جاری ہے اور عوام بھی اپنے غم و غصہ کا بھرپور اظہار رکررہے ہیں۔ اتر پردیش کے سخت گیر اور انتہا پسند وزیر اعلیٰ یوگی آدتیا ناتھ نے سختی سے مظاہروں کو دبانے کا حکم دیتے ہوئے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ پولیس مظاہرین کی شناخت کرے اور املاک کو ہونے والا نقصان ان لوگوں سے ہی سے وصول کیا جائے۔ پولیس نے فوری مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سینکڑوں لوگوں کو کروڑوں روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور وزیر اعلیٰ کے دفتر سے اعلان کیا جارہا ہے کہ جو لوگ یہ ہرجانہ ادا نہیں کریں گے، ان کی املاک نیلام کرکے نقصان پورا کیا جائے گا۔
پاکستان میں حکومتی انتظام کا جو بھونڈا طریقہ تحریک انصاف کی حکومت نے اختیار کیا ہے ، اب بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بھی دراصل ویسے ہی ہتھکنڈے اختیار کرکے عوام کو ہراساں اور مظاہرین کو خوف زدہ کرنا چاہتی ہے۔ عمران خان کو پاکستانی میڈیا میں ’مافیا‘ دکھائی دینے لگے ہیں کیوں کہ حکومت کی نااہلی اور ناکامی کے لئے اب کوئی دلیل یا ثبوت دینے کی ضرورت نہیں بلکہ حکومت کا ہر اقدام یہ واضح کررہا ہے کہ اس وقت ملک میں ایسے لوگوں کو اختیار مل چکا ہے جو ملکی انتظام تو کیا کسی محلے کا انتطام چلانے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ایک کے بعد دوسری فاش غلطی کے بعد عمران خان نہایت ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ وہ تبدیلی کے ایجنڈے پر کوئی مفاہمت نہیں کریں گے۔ لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ بد انتظامی، پشیمانی، غلط فیصلوں اور غلطیوں پر اصرار کے سوا اس حکومت کا کون سا ٹریڈمارک ہے جسے پیش کرکے ، وہ تحسین حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
تحریک انصاف کی حکومت کو ’میڈیا کا مافیا‘ یوں دکھائی دینے لگا ہے کہ اس نے اگرچہ پیمرا کے علاوہ وزارت اطلاعات اور میڈیا مالکان کے ساتھ ساز باز کے ذریعے میڈیا کے سارے زہریلے دانت نکالنے کا اہتمام کیا ہے لیکن انہوں نے بھارت کے نریندرمودی کی طرح اپنے دولت مند دوستوں کے ذریعے پہلے سے میڈیا پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور اسے اپنے ہر اچھے برے کام کے لئے پروپیگنڈا مشین بنانے کی منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔ اب کسی ٹیلی ویژن نشریات یا اخبار کی رپورٹ میں اگر حکومت کی نااہلی کا ذکر ہوجاتا ہے تو عمران خان کے کانوں کی لویں شرم کی بجائے غصے سے لال ہونے لگتی ہیں اور وہ دھمکیوں پر اتر آتے ہیں۔
اس کے باوجود بھارت میں بی جے پی اور پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومتوں کا تقابل کیا جائے تو شدت پسندی کے علاوہ ان دونوں میں کوئی بات مشترک دکھائی نہیں دے گی۔ بی جے پی نے کشمیر پر قبضہ کرنے اور شہریت بل جیسے اقدام کے لئے سال ہا سال سے ہوم ورک کیا تھا۔ عمران خان ہوم ورک تو کجا ، کام کرنے ہی پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ صرف دعوے کرکے اور یو ٹرن لے کر اپنی اتھارٹی کی دھاک بٹھا لی جائے لیکن ملکی معیشت کو بہتر بنانے اور دنیا میں سفارتی کامیابی کے لئے صرف لفاظی ہی کافی نہیں ہوتی۔ موجودہ حکومت کے سولہ ماہ کی کارکردگی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بھارتی میڈیا پر بی جے پی کا کنٹرول اور ٹھوس منصوبہ بندی ہی کا نتیجہ تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے باوجود ابھی تک مودی حکومت کو وہاں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جبکہ پاکستان میں عمران حکومت کی کشمیر پالیسی کی بنیاد ہی اس قیاس پر تھی کہ جوں ہی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھے گا اور پابندیاں نرم ہوں گی تو وہاں قیامت برپا ہوجائے گی اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی ہلاکتوں کو پاکستان سفارتی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرکے مزید دھؤاں دار بیانات جاری کرے گا۔ لیکن نہ بھارتی حکومت نے کرفیو مکمل طور سے ختم کیا اور نہ ہی مواصلات پر عائد پابندیوں میں بہت زیادہ نرمی کی گئی لیکن انتظامی لحاظ سے وہاں کوئی بڑا مظاہرہ نہیں ہونے دیا گیا۔
مودی حکومت کی اس ’کامیابی‘ کے سبب عمران حکومت کی سفارتی پیش گوئی پوری نہ ہوسکی لہذا اب بھارت کی طرف سےایل او سی پر اشتعال انگیزی اور کسی بھی لمحے براہ راست جارحیت کا ذکر کرکے عوام اور دنیا کو ’خوفزدہ ‘ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستانی عوام گیس کی قلت، روزگار کی عدم فراہمی، مہنگائی اور عمومی سماجی بے یقینی کے مسائل میں یوں گھرے ہوئے ہیں کہ جنگ کا اندیشہ انہیں کسی خوف میں مبتلا نہیں کرتا۔ دنیا پہلے بھی بھارت کی ہاں میں ملا رہی تھی اور اب بھی اس کے طرز عمل میں کوئی خاص تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔
تاہم شہریت قانون میں ترمیم کو عجلت میں نافذ کرنے کے بعد ، اس کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو ملک دشمنی سے تعبیر کرکے مودی سرکار ضرور اپنے لئے مشکلات پیدا کررہی ہے۔ اتر پردیش میں مظاہرین کے خلاف پولیس تشدد کے علاوہ وزیر اعلیٰ آدتیا ناتھ کے بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اسی سیاسی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے اب اعلیٰ پولیس افسر بھی مظاہرین کو پاکستان چلے جانے کا مشورہ دینے پر اتر آئے ہیں۔ اس سے بھارتی معاشرے کی تقسیم گہری ہوئی ہے۔ تمام تر منصوبہ بندی کے باوجود بی جے پی اور نریندرمودی یہ اندازہ لگانے میں ناکام رہے کہ اس قانون کے خلاف ہندو اور مسلمان یکساں طور سے میدان میں اتر آئیں گے۔
پہلے آسام کے ہندوؤں نے نئے قانون کو اپنی ثقافت اور معیشت کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے اس پر احتجاج کیا ، پھر اتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں شہریت بل کو سیکولر بھارت کا چہرہ مسخ کرنے کے مترادف سمجھنے والے گروہوں اور پارٹیوں نے مظاہرے شروع کئے۔ اتر پردیش حکومت نے اسے مسلمانوں کا احتجاج بنانے اور دکھانے کی حتی الامکان کوشش کی ہے۔ اسی لئے ابھی تک جن لوگوں کو ہرجانے کے نوٹس بھجوائے گئے ہیں، ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ لیکن شہریت بل کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں ہوشمند ہندوؤں کی توانا آواز بھی شامل ہے۔ اتر پردیش اور نئی دہلی حکومتوں پر طاری گھبراہٹ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس احتجاج کو ایک عقیدے اور گروہ سے منسلک کرکے ہندو اکثریت کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکی۔
پاکستانی حکام البتہ ملائشیا کانفرنس کی خجالت دور کرنے کے لئے اب یہ خبریں سامنے لارہے ہیں کہ سعودی عرب، مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے نئے شہریتی بل کے خلاف او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا خصوصی اجلاس منعقد کرنے کا اشارہ دے رہا ہے۔ یہ خبریں سامنے لانے یا ان پر خوشی کا اظہار کرنے والوں کو پہلے اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ کیا سعودی عرب اور اس کے طاقت ور عرب دوست ممالک نئی دہلی کے بارے میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر بھی غور کررہے ہیں؟ اسلامی تعاون تنظیم کے غیر مؤثر ہونے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس کا کوئی اجلاس سعودی عرب کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے۔ اور جب سعودی حکومت او آئی سی کو اپنے سیاسی و سفارتی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے تو یہ اجلاس کسی تیاری کے بغیر بھی ہوجاتا ہے۔
پاکستانی حکومت کو او آئی سی کے بے مقصد اجلاس کی بجائے سعودی عرب کی سفارت کاری میں کسی نمایاں تبدیلی کی کوشش کرنی چاہئے۔ البتہ یہ مقصد حاصل کرنا پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کے بس میں نہیں ہے۔ کیوں کہ اس کی سفارتی و خارجہ پالیسی کامقصد دور رس نتائج حاصل کرنے کی بجائے، وقتی طور پرسیاسی بحران سے نکلنے کی کوشش ہوتاہے۔ جیسا کہ اس وقت او آئی سی اجلاس کو حکومت کی بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرکے معاشی، پارلیمانی اور سیاسی و انتظامی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
آرمی چیف کی تقرری، نواز شریف کی بیرون ملک روانگی ، پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ پر اضطراری رد عمل کے بعد اب دوستوں، دولتمندوں اور سرکاری افسروں کو خوش کرنے کے لئے نیب قانون میں تبدیلی کا ڈول ڈالا گیا ہے۔ ا س کے بارے میں بھی تین روز گزرنے کے باوجود واضح نہیں ہوسکا اس ترمیم کے تحت نیب کا کیا کردار وضع کیا جائے گا۔ شاید ایسا کنفیوژن پیدا کرنا ہی اس حکومت طرہ امتیاز ہے۔
معیشت پہلے بھی آئی ایم ایف کے حوالے ہے۔ اسی لئے اس کے تقاضے پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 40 ارب روپے کم کئے گئے اور پروگرام میں سے ساڑھے آٹھ لاکھ لوگوں کے نام نکالے گئے ہیں لیکن سیاسی تبرے کے طور پر اس کا الزام پیپلز پارٹی کی بدعنوانی کو دیا گیا ہے۔ یہ ہتھکنڈے اختیار کرنے والی حکومت نہ تو فعال کہی جاسکتی ہے اور نہ ہی اس کی صلاحیت کے بارے میں کوئی بہتر گمان ہو سکتا ہے۔
اس کے باوجود فردوس عاشق اعوان کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کا دامن صاف ہے اور وہ ملک سے بدعنوانی ختم کرکے ہی دم لیں گے۔ کرپشن کے نعرے کی طرح جلد ہی عمران خان کی دیانت داری کا ڈھکوسلہ بھی اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔ اپنی حکومت کے کارندوں اور دوستوں کی بدعنوانیوں کو چھپانے والے وزیر اعظم کی دیانت داری بھی مشکوک ہوجاتی ہے۔ تاہم اس وقت حکومت اور اس کے سربراہ کی نااہلی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستانی عوام ہر گزرنے والے لمحے کے ساتھ اس کی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker