ادبڈاکٹر انوار احمدکتب نمالکھاری

ملتان آرکائیوز میں عاشقوں کے مکاتیب (افسانے اور ڈرامے)

نئے برس کے آغاز پر کتاب کے جواز پر دو چار سطریں انوار احمد

افسانے لکھنے تو زمانہ طالب علمی سے شروع کئے مگر مجموعے کی اشاعت کے سلسلے میں ایک حجاب سا رہا،جسے’ایک ہی کہانی‘ کو کتابی صورت دینے والے علمدار بخاری،خالد سعید،اصغر ندیم سید نے دور کیا اور پھر بیکن بکس کے جبار اور فیض نے ’پہلے سے سنی ہوئی کہانی‘ شائع کی اس کے بعد مثال فیصل آبادکے عابد نے کافی محنت سے میری ایک دو تصویریں فوٹو گرافر سے بنوائیں اور پھر کہا کہ اب کم از کم تصویر سے تم مصنف لگتے ہو،تب ’یاد گار زمانہ ہیں یہ لوگ‘(خاکے) اور ’آخری خط‘(افسانے) اور ’اردو افسانہ ایک صدی کا قصہ ‘(245افسانہ نگاروں کی کتابیں اور احوال) شائع کیں،جس کا آخری ایڈیشن فکشن ہاﺅس لاہور نے شائع کیا اور شاید دو ایڈیشن بھارت سے بھی مگر میں نے انوار احمد کا ذکر بطور افسانہ نگار اس میں شامل نہ کیا۔
یہ تو ادھر ادھر موضوعات کی کمی کے سبب جب انوار احمد کے افسانوں کے ساتھ ڈراموں پر بھی مقالے لکھے جانے لگے تو مجھے یاد آیا کہ ریڈیو ملتان پر میرے کئی ڈرامے اردو سرائیکی کے نشر ہوئے بلکہ ایک جشن تمثیل میں تو میرے ایک ڈرامے کو انعام بھی ملا(جس کے منصف عرش صدیقی،اقبال ساغر صدیقی اور نوشابہ نرگس تھے) مگر ریڈیو پر میرا کلاس فیلو فخر بلوچ جو میری محبت میں غلو کرتا تھا اس کے حریفوں نے اس کا نشان مٹانے کے لئے ان ڈراموں کے سکرپٹ کے ساتھ ٹیپ بھی بگاڑ دیئے،یہ تو رب نواز مونس،الیاس کبیراور فیصل رضوان نے ادھر ادھر سے کچھ اجزا جمع کئے اور ادھر کرونا نے ہمارے شاگردوں تک پر ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیا،تب ایک مبالغہ پسند ’عقیدت مند‘ نے لکھا کہ اس سے پہلے کہ ملتان سے تہذیب ہی مٹ جائے تمام ملتانی مصنفوں کو چاہیے کہ وہ اپنی کتابیں چھپوا لیں تاکہ جب کبھی ملتان میوزیم کے لئے آرکائیوز قائم ہوں۔یہ کتابیں ان میں شامل ہوں۔ادھر اوشال پبلشرز اسلام آباد کی ڈاکٹر مبینہ طلعت کے ساتھ پے درپے ایسے کچھ حادثے پیش آئے کہ انہوں نے ایک خسارے کا سودا کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ کتاب نئے برس کے پہلے مہینے میں ہی شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker