ملتان : ملتان شہر کی تاریخ کو محفوظ بنانے میں رضی الدین رضی کا بہت بڑا کردار ہے۔انہوں نے ملتان کی تاریخ محفوظ کر کے آنے والی نسل کو منتقل کر دی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار نام ور لکھاریوں نے معروف شاعر و صحافی رضی الدین رضی کی نئی کتاب ” پیر سپاہی اور ملتان کی دیگر کہانیاں “ کی تقریب رونمائی میں اظہار خیال کے دوران کیا ۔ ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک میں منعقد ہونے والی اس تقریب کی صدارت نامور ادیب، صحافی اور بچوں کے لکھاری ظہیر کمال نے کی ۔
انہوں نے کہا کہ رضی کی ملتان سے محبت ان کی کتابوں سے جھلکتی ہے ۔ ملتان کی تاریخ آنے والی نسلوں کو منتقل کر دی ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے معروف شاعر اور ماہر تعلیم ڈاکٹر محمد امین کا کہنا تھا کہ رضی الدین رضی کی ہمہ جہت تحریروں نے دور حاضر میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ وہ تلخ بات کہنے سے بھی نہیں کتراتے۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف مزاحیہ شاعر خالد مسعود خان کا کہنا تھا کہ رضی الدین رضی کی شخصیت مجسم محبت ہے اور اس میں کسی قسم کا مصنوعی پن نہیں ہے۔ نامور ادیب، کالم نگار اور شاعر شاکر حسین شاکر کا کہنا تھا کہ "پیر سپاہی اور ملتان کی دیگر کہانیاں” بھی اپنے اندر ملتان کے پوشیدہ پہلوؤں اور تاریخ کا احاطہ کرتی ہیں ہے جو قاری پر اپنا اثر چھوڑ جائے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر ملتان آرٹس کونسل سلیم قیصر نے کتاب اور مصنف کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملتان کی تاریخ پر 8 کتابیں لکھنا ادب اور شہر کی بہت بڑی خدمت ہے۔ تقریب سے معروف شعراء قمر رضا شہزاد، اظہر سلیم مجوکہ، نوازش علی ندیم، سہیل عابدی، سابق سٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان آصف کھیتران، صدارتی ایوارڈ یافتہ خطاط اور شاعر محمد مختار علی، قیصر عباس صابر، اسرار احمد اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ کتاب "پیر سپاہی اور ملتان کی دیگر کہانیاں” کی تعارفی تقریب بعد میں منعقد کی جائے گی۔
فیس بک کمینٹ

