کالملکھاریمستنصر حسين تارڑ

’’جلیانوالہ باغ بھگت سنگھ اور قیام پاکستان‘‘۔۔ہزار داستان /مستنصر حسین تارڑ

یہ پاکستان کے قیام کی پچاسویں سالگرہ کے دن تھے جب پاکستان ٹیلی ویژن نے تحریک پاکستان کے حوالے سے خصوصی ڈراموں کا ایک سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ وہ دن تھے جب پی ٹی وی میں کچھ جان باقی تھی اور اس کی سکرین پر پاکستانی ثقافت ‘ ادب اور موسیقی کے حوالے سے خصوصی پروگرام دیکھنے کو مل جاتے تھے۔ یہ ابھی ایک مردہ گھوڑا نہ ہوا تھا جو صرف حکومت وقت کی تھپکی سے عارضی طور پر زندہ ہو کر خوشامد اور چاپلوسی سے ہنہناتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔ مجھے بھی ہیڈ کوارٹر کی جانب سے درخواست کی گئی کہ اس موقع پر تحریک پاکستان کے بارے میں ڈرامے تحریر کروں۔ ہمیں ان موضوعات کی ایک فہرست مہیا کی گئی جو ڈائریکٹر حضرات نے اپنی فہم و فراست سے ترتیب دی تھی میں نے اس فہرست کا مطالعہ کیا تو حیرت زدہ رہ گیا۔ جتنے بھی موضوعات کا چنائو کیا گیا ان میں کوئی بھی موضوع ایسا نہ تھا جو تاریخی حوالے سے موجودہ پاکستان کی سرزمین سے متعلق ہو۔ گمان ہوتا تھا کہ پاکستان کے اس خطے نے تحریک پاکستان میں حصہ ہی نہیں لیا۔ جتنے بھی واقعات ڈراموں کے لئے چنے گئے تھے ان میں سے بیشتر کا پس منظر آج کا ہندوستان اور اس کے شہر تھے۔ جب میں نے ان موضوعات میں موجودہ سرزمین کی غیر موجودگی پر احتجاج کیا اور معذرت کی کہ میں اس ثقافت یا کرداروں کی زبان کی عکاسی نہیں کر سکتا جو ان خطوں سے متعلق نہیں ہے۔ تب مجھ سے کہا گیا کہ تارڑ صاحب آپ تحریک پاکستان اور پاکستانی ثقافت کے حوالے سے اپنی پسند کے موضوعات کا انتخاب کر لیجیے میں نے پاکستان کی پچاسویں سالگرہ کے حوالے سے اور آزادی کی جدوجہد کو پیش نظر رکھتے ہوئے تین موضوعات کو اپنے لئے چنا۔ نمبر ایک مشرقی پاکستان کی علیحدگی۔ نمبر دو لاہور کے سول سیکرٹریٹ کی عمارت پر مسلم لیگی لڑکیوں کا یونین جیک اتار کر وہاں مسلم لیگ کا پرچم لہرانا اور جلیانوالہ باغ کا سانحہ۔ مشرقی پاکستان کا موضوع فوری طور پر رد کر دیا گیا کہ اسے بھول جائیں۔ میں نے اس خصوصی میٹنگ میں عرض کیا کہ اگر پاکستان کی پچاسویں سالگرہ کا موقع ہے تو ہمیں اس پاکستان کو بھی تو یاد کرنا چاہیے جو ہم سے چھن گیا۔ میں نے انتظامیہ کو یقین دلایا کہ میں اس ڈرامے کو علامتی طور پر تحریر کروں گا۔ اس میں وہاں کی جنگ اور پاکستانی فوج کے حوالے سے کوئی بھی حساس بات نہ ہو گی بلکہ مشرقی پاکستان کا نام تک نہ ہوگا۔ بس ایک سوگوار باپ ہو گا جس کے پانچ بیٹوں میں سے ایک بیٹا اس سے بچھڑ گیا ہے لیکن ہیڈ کوارٹر نے کہا کہ ہرگز نہیں ہم علامتی طور پر بھی مشرقی پاکستان کو یاد نہیں کر سکتے۔ یونین جیک اتار کر سول سیکرٹریٹ پر مسلم لیگی پرچم لہرانے کا موضوع پسند کیا گیا لیکن جلیانوالہ باغ پر ڈائریکٹر حضرات کی سوئی اٹک گئی کہ یہ سانحہ تو امرتسر میں ہوا تھا اس کا ہماری تحریک آزادی سے کیا واسطہ۔ تب میں نے کچھ تاریخی حقائق پیش کئے۔ ایک تو یہ کہ جلیانوالہ باغ کے زمانوں میں ابھی تحریک پاکستان وجود میں نہیں آئی تھی اور ہندوستان کے سب لوگ مشترکہ طور پر انگریز کی غلامی کے خلاف صف آرا تھے۔ جدوجہد کر رہے تھے اور ان میں ظاہر ہے مسلمان بھی شامل تھے۔ جلیانوالہ باغ کے جلسے کی صدارت کے لئے سیف الدین کچلو کو منتخب کیا گیا اور ان کی غیر موجودگی میں ان کی تصویر نے علامتی طور پر صدارت کی۔ اس قتل عام میں مارے جانے والے مسلمانوں کی تعداد آبادی کے حوالے سے ہندوؤں وغیرہ سے کہیں زیادہ تھی۔ جلیانوالہ باغ کے بعد انگریزوں نے جو قتل عام کیا اس میں مارے جانے والے بیشتر مسلمان تھے۔ لاہور میں پوری پلٹن کو تہہ تیغ کیا گیا۔ قصور میں درجنوں افراد کو پھانسیوں پر لٹکا دیا گیا۔ گوجرانوالہ پر رائل ایئر فورس کے طیاروں نے بمباری کی پورے پنجاب میں مارشل لاء لگا دیا گیا اور لاہور کے طالب علموں کو جو روستم کا نشانہ بنایا گیا۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے احتجاج کے طور پر سَر کا خطاب واپس کر دیا اور ایک انگریز تاریخ دان کا کہنا ہے کہ جلیانوالہ باغ کے سانحے کے ساتھ ہی ہندوستان میں انگریزوں کے اقتدار کا سورج غروب ہونا شروع ہو گیا۔ میرے ابا جی اپنی جوانی میں ایسے بے شمار مسلمان بزرگوں سے ملے تھے جنہوں نے اس جلسے میں شرکت کی تھی اور ان کے کچھ ساتھی وہاں مارے بھی گئے تھے تو پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں جلیانوالہ باغ کا ہماری تحریک آزادی سے کوئی تعلق نہیں چنانچہ میرے تاریخی حوالے تسلیم کر لئے گئے اور میں نے دو قسطوں پر مشتمل ڈرامہ’’جلیانوالہ باغ‘‘ تحریر کیا۔ جسے ایوب خاور نے پروڈیوس کیا اور اداکاروں میں جمیل فخری، ریشم اور خیام سرحدی شامل تھے۔ خیام نے جنرل ڈائر کا کردار ادا کیا اور یادگار کردار ادا کیا۔ چونکہ میں 1954ء میں ذاتی طور پر جلیانوالہ باغ کو تفصیلی طور پر دیکھ چکا تھا اس لئے ڈرامے کے پس منظر میں حقیقت کا رنگ بھرنا میرے لئے آسان ہو گیا۔ اس ڈرامے کی بے مثال پسندیدگی کا کیا ذکر کروں صرف یہی کافی ہے کہ صوفی تبسم کے خانوادے میں سے کسی صاحب نے امرتسر کی تاریخ پر ایک کتاب قلمبند کی تو ایک پورا باب میرے اس تاریخی ڈرامے کے لئے وقف کر دیا۔ ابھی چند برس پیشتر دوبارہ امرتسر جانا ہوا تو اس کھنڈر ہو چکے باغ کو ایک بہت بڑے عجائب گھر میں بدل دیا گیا ہے جسے دیکھنے کے لئے پورے ہندوستان سے لوگ آتے ہیں۔ وہ دیواریں جن پر گولیوں کے نشان ثبت تھے محفوظ کر لی گئی ہیں اور ایک تصویری گیلری میں ان مسلمانوں کی تصویریں بھی آویزاں ہیں جو اس قتل عام میں مارے گئے۔ ادھم سنگھ کوجب لندن میں ڈائر کے قتل کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی اس کی راکھ ایک گھڑے میں محفوظ کی گئی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آہستہ آہستہ لوگوں کو احساس ہو رہا ہے کہ انگریزوں کے خلاف جو مشترکہ جدوجہد کی گئی وہ بھی قیام پاکستان کے لئے معاون ثابت ہوئی۔ ہم اسے اپنی تاریخ سے خارج نہیں کر سکتے کہ اگر آپ تاریخ کو خارج کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ آپ کو خارج کر دے گی۔ تحریک پاکستان کے آغاز سے پیشتر بلا تفریق مذہب جتنے بھی لوگوں نے انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے تحریکیں چلائیں‘ پھانسی کے پھندے قبول کئے‘ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا وہ سب ہماری تاریخ کا درخشاں حصہ ہیں۔ یہ جلیانوالہ باغ ہو۔ گاما گاٹا مارو کی بغاوت ہو۔ غدر پارٹی کی جدوجہد ہو۔ مولانا جعفر تھانیری اور دیگر علماء کرام کی قربانیاں ہوں۔ سرخ پوشوں کی انگریزوں سے ٹکر ہو یا بھگت سنگھ ہو۔ ان سب کی مشترکہ کاوشوں کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ہم انہیں اپنی آزادی کی تاریخ سے خارج نہیں کر سکتے۔ اگر کریں گے تو تاریخ ہمیں خارج کر دے گی۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker