ادبکالملکھاریمستنصر حسين تارڑ

“واہ منیر نیازی ۔۔ واہ ۔۔ کیا شعر کہا ہے“ ۔۔ مستنصر حسین تارڑ

جب میرے ڈرامہ سیریل ’’فریب‘‘ کے پس منظر میں منیر نیازی کا کلام ’’محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی‘‘ مترنم ہوا تو منیر نے اس کی دھن کو بہت پسند کیا جو کہ میاں شہر یار ایسے موسیقار کی ترتیب شدہ تھی جس نے ’’اے وطن کے سجیلے جوانو‘‘ جیسا گیت تخلیق کیا تھا۔ اگر آپ ایک سرسری نظر ان سینکڑوں شاعر حضرات کے بے بدل کلام پر ڈالیں جن میں بقول منیر برکت نہیں ہے تو بہرطور اُن کا کوئی ایک نہ ایک شعر مشہور ہو جاتا ہے اور اس میں شعر سے زیادہ اُس شاعر کی مسلسل کاوشوں کا دخل ہوتا ہے کہ وہ مسلسل اُس کا حوالہ دیتا ہے اور ہر مشاعرے میں دیگر شعراء حضرات پر ایک چشمِ حقارت ڈال کر وہ شعر پڑھتا ہے۔۔۔ بھِک منگوں کی مانند شعر پڑھ کر حاضرین کی جانب داد طلب نظروں سے دیکھتا ہے یہاں تک کہ حاضرین اُس کی حالت پر ترس کھا کر داد کے ڈونگرے برسا دیتے ہیں مثلاً ۔۔۔
ہائے میری پیاسی آنکھیں،تمہاری دید کے جھرنے اترتے ہیں
ہائے میرا سوکھا بدن،تمہاری شکل کی آبشاریں بھگوتی ہیں
آپ جب اس نامعقول شعر کو جو میں نے ابھی ابھی گھڑا ہے مسلسل مشاعروں میں پڑھتے ہیں، اپنی تحریروں میں درج کرتے ہیں تو پھر جس کسی مشاعرے میں جاتے ہیں تو غل بپا ہو جاتا ہے کہ واہ جی واہ ۔۔۔ دید کے جھرنے۔۔۔ کیا کہنے ہیں شکل کی آبشاریں۔۔۔ ظاہر ہے منیر کو اس نوعیت کی شعبدہ بازی کی حاجت نہ تھی اور وہ اس حوالے سے ’’بدقسمت‘‘ تھا کہ اُس کا کوئی ایک شعر یا غزل اُس کی پہچان نہ بنی بلکہ اُس کا پورا کلام اُس کی پہچان ہو گیا۔۔۔ مشاعروں میں قاسمی صاحب (جینوئن) سے ہمیشہ ’’پتھر ‘‘کی فرمائش ہوتی، فراز سے ’’بات کرکے دیکھتے ہیں‘‘ سنی جاتی لیکن جب منیر نیازی سٹیج پر آتا تو حاضرین مشکل میں پڑ جاتے کہ آخر اُس سے کون سی نظم یا غزل کی فرمائش کریں۔۔۔ یہ تو طے تھا کہ اسے ’’کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن‘‘بہرطور سنانی ہے اور بہر طور ’’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں‘‘ بھی اِک جادوئی اداسی میں ڈوبی نظم تھی اور وہ بھی منیر کی گہری بھید بھری آواز میں۔۔۔ حیرت ہے کہ لوگ اُس کے فلمی گیتوں اور غزلوں کی فرمائش بھی کرتے جن کا معیار کسی طور اُس کے سنجیدہ کلام سے کم نہ ہوتا۔۔۔ بلکہ میں تو پہلی بار اس کے نام سے تب آشنا ہوا جب میں نے ریاض شاہد کی کلاسیک فلم ’’سسرال ‘‘ دیکھی۔ مہدی حسن کی آواز میں ’’جس نے میرے دل کو درد دیا اُس شکل کو میں نے بھلایا نہیں‘‘میں ’’شکل‘‘ کا استعمال منیر کی جادوگر لفاظی کا کرشمہ تھا اور پھر نور جہاں نے بھی گائیکی میں کیسا ستم ڈھایا جب اُس نے ’’جا اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کے سو جا‘‘ گایا جسے خواجہ
خورشید انور کے شاگرد حسن لطیف نے کمپوز کیا۔۔۔ فلم ’’شہید‘‘ کے گانے ’’اُس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو‘‘۔۔۔ اور پھر سلیم رضا کی پُرسوز آواز میں ’’شام غم پھر آگئی۔۔۔‘‘ کُھل گئے شہر غم کے دروازے، اِک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی۔۔۔ وغیرہ۔۔۔ منیر کی اور بھی بہت یادیں ہیں۔ جب اُس نے حسن رضوی کی شاعری کے مجموعے کے لئے فلیپ لکھا اور دوسرا فلیپ نگار میں تھا تو منیر نے وہ فلیپ کیوں لکھا۔۔۔ اور ریڈیو کے ایک مشاعرے میں جب اُس نے غزل کا پہلا شعر پڑھا تو دیگر حاضر شعراء نے جان بوجھ کر مکمل خاموشی اختیار کی کہ منیر نے اُن کی شاعری پر بھی چپ سادھ لی تھی تو دوسرا شعر پڑھنے کے بعد منیر نے کچھ توقف کیا اور جب شاعر حضرات پھر مہر بہ لب رہے تو اُس نے خود ہی بلند آواز میں کہا ’’واہ منیر نیازی۔۔۔ واہ کیا شعر کہا ہے‘‘
اُس کے ساتھ البتہ یہ المیہ ضرور ہوا ہے کہ اُس کے کچھ اشعار اور نظمیں تو بہت مقبول ہو گئیں لیکن اسی معیار اور شاعرانہ کمال کی درجنوں غزلیں اور نظمیں زبان زدِ عام نہ ہوئیں۔۔۔ اُن سب کا حوالہ دینا ناممکن ہے، آپ اُس کی کلیات کا کوئی بھی ورق پلٹئے آپ کو ثبوت مل جائے گا۔
ہوائے شوق کے رنگیں دیار جلنے لگے
ہوئی جو شام تو جھکڑ عجیب چلنے لگے
بیگانگی کا ابرِ گراں بار کھُل گیا
شب میں نے اُس کو چھیڑا تو وہ یار کھل گیا
آیا وہ بام پر تو کچھ ایسا لگا منیر
جیسے فلک پہ رنگ کا بازار کُھل گیا
شام آئی ہے شراب تیز پینا چاہیے
ہو چکی ہے دیر اب زخموں کو سینا چاہیے
جب بھی گھر کی چھت پر جائیں ناز دکھانے آجاتے ہیں
کیسے کیسے لوگ ہمارے جی کو جلانے آجاتے ہیں
فائدہ کیا ہے اگر اب وہ ملے بھی تو منیر
عمر تو بیت گئی راہ پر لاتے اُس کو
اس شہرِ سنگ دل کو جلا دینا چاہیے
پھر اس کی راکھ کو بھی اڑا دینا چاہیے
ہوا نہ پیدا وہ شعلہ جو علم سے اٹھتا
یہ شہر مردہ صحیفوں کے باب میں نہ ملا
خمارِ مے میں وہ چہرہ کچھ اور لگ رہا تھا
دمِ سحر جب خمار اترا تو میں نے دیکھا
اِک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا
(فروغِ اسمِ محمدؐ ہو بستوں میں منیر)
قدیم یاد، نئے مسکنوں میں پیدا ہو
جس کو چاہا خمار میں چاہا
جس کو دیکھا غبار میں دیکھا
یہ سفر معلوم کا معلوم تک ہے اے منیر
میں کہاں تک ان حدوں کے قید خانوں میں رہوں
دشتِ نجدِ یاسی میں دیوانگی ہو ہر طرف
ہر طرف محمل کا شک ہو پر کہیں محمل نہ ہو
چاہتا ہوں میں منیرؔ اس عمر کے انجام پر
ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو
اِک دن رہیں بسنت میں
اِک دن جئیں بہار میں
اِک دن پھریں بے انت میں
اِک دن چلیں خمار میں
دو دن رُکیں گر ہست ہیں
اِک دن کسی دیار میں
آپ کو احساس تو ہوگیا ہوگا کہ مجھ پہ کچھ تو گزری ہے جو مجھے منیر نیازی بے طرح یاد آرہا ہے، بے روح، میکانکی اور پھیکی شاعری کے زمانوں میں مجھے اگر منیر نیازی یاد نہ آئے تو اور کون آئے۔۔۔ بس وہی میرے کام آتا ہے۔
کُھل گئے شہرِ غم کے دروازے
اِک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی

………………….

نام ور شاعر منیر نیازی کی برسی آج منائی جا رہی ہے ۔ وفات 26 دسمبر 2006

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker