اختصارئےادبلکھارینوازش علی ندیم

ڈاکٹر نجمہ شاہین : کانٹوں بھرے راستے سے پھولوں بھری سرزمین تک ۔۔ نوازش علی ندیم

ہمیں بتایاگیاکہ عورت ناقص العقل ہے ،مردکو اس کے مشورے پرعمل نہیں کرناچاہیے ،یہ بھی علم میں آیاکہ عورت کی تخلیق مردکی پسلی سے ہوئی ہے اس لئے اس میں ٹیڑھ ہے اوراس کے ساتھ اسی ٹیڑھ اورکجی کے باوجود نباہ کرناپڑتاہے اگراسے سیدھاکرنے کی کوشش کی جائے توٹوٹ جاتی ہے ۔یہ بھی جتادیاگیاکہ اس کا ایک روپ ماں کابھی ہے اوراس روپ میں جنت اس کے تلووں کو بوسہ دیتی ہے اور یہ کہ آدم کوجنت سے بے دخل کرانے میں بھی عورت کاہاتھ ہے ۔اس کی تخلیق میں شامل عناصر یکسرمتضاد ہیں ،آگ ،پانی ،شعلہ ، شبنم ،انتقام ،ایثار،محبت ،نفرت ،احساس ِملکیت اورقربانی ،یہ ساری روایات اگرچہ صرف مردوں میں گردش کرتی ہیں لیکن ہرعہدمیںکوئی نہ کوئی ڈاکٹرمبارک بھی موجودہوتاہے جوتاریخ کے نام پران روایات کامنبع ومخرج دریافت کرتاہے اوراس کاسِر اپکڑتے ہوئے مّلاکی تنگ نظری اورمردانہ حاکمیت کی نفسیات تک جاپہنچتاہے ۔اورپھریہ رازعورتوں کےلئے راز نہیں رہتاکہ مرداُن کے بارے میں کیاسوچتاہے ۔پھروہ عورت جوچکی اورچولہے تک محدود ہوتی ہے اپناوجود ثابت کرتی ہے ،اپنے ہونے کااحساس دلانے لگتی ہے اورشعورکے آئینے میں اپناعکس دیکھنے لگتی ہے۔سیاست ،مذہب، حکومت ،تجارت،خلابازی ،طب ،مصوری ،شاعری غرضیکہ ہرشعبہ زندگی میں اپنی بھرپورموجودگی کااحساس دلاتی ہے ۔یہ ساری باتیں مجھے یوں کرناپڑرہی ہیں کہ ڈاکٹرنجمہ شاہین کھوسہ کوایساہی ماحول ملا۔انہوںنے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہاں عورت بلکہ سوچنے والی عورت ایک مجرم کی حیثیت رکھتی ہے ۔مجھے نہیں معلوم آغازمیں انہیں ٹوپی والے برقعے میں چھپایاگیایانہیں لیکن بہرحال ان کی بغاوت کوآسانی سے برداشت نہیں کیاگیاہوگا۔انہوںنے علم حاصل کیا،مسیحائی کاشعبہ چنا،شاعری کواظہارکاذریعہ بنایا اورخواب بنایا۔ڈاکٹرنجمہ کوپڑھتے ہوئے مجھے خنسااورقرة العین طاہرہ باربار یادآتی ہیں خنسانے پوری عمرمرثیہ کہا اورقرة العین طاہرہ نئے مذہب کی تبلیغ کے جرم میں عہدِقاچارمیں ماری گئی۔ڈاکٹرنجمہ نے اخلاقی اقدار کے زوال کامرثیہ کیاہے اورشعوراورمحبت کے مذہب کی تبلیغ کی ہے ۔
جب وہ یہ کہتی ہے
عجیب ہوتی ہے یہ محبت
کسی کسی کونصیب ہوتی ہے یہ محبت
تواسے مکمل آگہی ہے کہ اس بارود سے اَٹے ہوئے ماحول میں محبت ہی سانس لینے کاذریعہ ہے ۔
مجھے ڈاکٹر نجمہ کی شخصیت اورشاعری پرگفتگوکرنی ہے لیکن اس کےلئے مجھے وقت چاہیے کہ یہ ایک تقریب کے محدود وقت میں ممکن نہیں ،میں کسی داستان گوکی طرح الاﺅکے گردبیٹھے ہوئے سخن فہم لوگوں میں پوری رات ان کی نظموں پرگفتگوکرناچاہتاہوں ان کی نظمیں بھیگتی رات کی طرح لفظ لفظ روح میں اترتی ہیں ۔بہرحال میں یہ کہہ کراجازت چاہوں گا کہ ڈاکٹرصاحبہ یہ سفرجاری رکھیئے کہ کانٹوں بھراراستہ توختم ہوا اب آگے تو پھولوں بھری سرزمین ہے۔سخن فہم لوگوں کی محبت کرنے والوں کی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker