کالمکشور ناہیدلکھاری

کشور ناہید کا کالم صوفی کی کھوج کیا ہے ؟

ویسے تو اردو ادب میں حج کے حوالے سے بے شمار رپوتاژ، ناول اور بڑے معجزوں کا حوالہ ملتا رہا۔ ممتاز مفتی، عبداللہ ملک، مستنصر تارڑ نے حالیہ ادب میں خوبصورت تحریریں دیں۔ ابھی میرے سامنے ایک غیر ادیب مگر بہت عزیز دوست عارف جمیل نے عمرے کی یادداشتوں میں کچھ ایسے حوالے دیئے ہیں کہ ان میں آپ سب کو شامل کرنا، ہمارے مفرضوں، عقیدوں اوربدعتوں کو بطور مذہب کے بنیادی مضمرات کے طور پر پیش کرنے کو آئینہ دکھاتا ہے۔ انہوں نے لکھا ’’وہاں مدینے میں ایک جگہ دستاویزی فلمیں لگی ہوئی تھیں۔ اس میں بطور خاص پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے لاہور کا ایک علاقہ دکھایاہے، ایک صاحب بیٹھے ہوئے اور ایک ایک بندہ قریب آکر ان کےپیروں پر سر رکھتا ہے، وہ اُسے کمر پہ ہاتھ پھیر کر کامیاب ہونے کی دعا دیتے ہوئے رخصت کر رہے تھے اور پھر انہوں نے بدعتوں کے دیگر اعمال بھی دکھائے ۔ عارف نے اپنے آپ میں شرمندگی محسوس کی کہ جب ان کی بیگم نجیبہ نے اصرار کیا کہ ’’جنت البقیع کی ایک مٹھی مٹی کے لئے میری امی نے تاکید کی ہے‘‘۔ عارف نے کہا ’’بھئی ہماری بدعتوں پر یہاں کے ملازم لوگ چیختے رہتے ہیں، جب ہمارے لوگ جالیوں اور محرابوں کو چوم رہے تھے اور لپٹ رہے تھے تو وہ شور مچاتے بدعت، بدعت‘‘۔
خیر اپنے اپنے عقیدے کی بات ہے۔ ہندوستان میں فلمسٹار عامر خان نے فلم بنائی تھی جس میں دکھایا گیا کہ دنیا کے تمام مذاہب میں بدعتوں کو بہت حد تک فرض سمجھ کر اختیار کر لیا جاتا ہے۔ اس فلم کے خلاف بہت لوگ عدالت گئے تھے مگر جج صاحب نے کہا کہ کبھی تو سچ کا سامنا کرلیا کریں۔
عارف کی بیگم نجیبہ عارف بہت اچھی کہانیاں، نظمیں اور تنقیدی مضامین لکھتی رہی ہیں۔ انہیں جوانی ہی میں صوفیا کی طرح یہ بیتابی تھی کہ آخر مجھے کیوں پیدا کیا گیا؟ کمال یہ ہے کہ اس کو مختلف طبقوں میں ایسے دیوانے ملے جو اس کی طرح تلاشِ حق میں تھے، اس تلاش میں وہ کئی بابوں کے پاس گئی جو اپنے حلقہ یاراں میں کبھی روز اور کبھی ہفتے میں ایک بار خطاب کرتے، سوال کرنے والوں کو وظیفے بتاتے اور زندگی گزارنے کی مبادیات پر روشنی ڈالتے مگر نجیبہ کو تو صوفی بننے، روحانیت کی لو لگی ہوئی تھی۔ اس نے پشاور کے درانی کا نام سنا، لگی کھوجنے ان کا وصال ہو چکا تھا۔ اس نے ان کے کچھ لفظی تبرکات اپنی کتاب میں شامل کئے۔ لوگوں کی خدمت کی جنونیت میں ہومیوپیتھی بھی باقاعدہ کورس کی شکل میں پڑھی۔ کئی ایم اے کئے، لکھتے لکھتے خود نوشت کے تین بے مثل ابواب کے بعد اس کا قلم، دنیا بھر کے صوفیا کے کہیں اعترافات، کہیں تجربات اور کہیں تحریریں، اس کو گداز ایسے کیا کہ اس نے ان کی تحریروں کے اقتباسات سے اپنی خود نوشت کو نیا موڑ دیا اور ’’راگنی کی کھوجیں‘‘ کے نام سے پوری وقیع کتاب بنا دی۔
آپ کتاب پڑھتے ہوئے کسی بھی عقیدے کے ہوں۔ تحریر کی شگفتگی اپنے جلو میں قید کر لیتی ہے۔ غالب نے کہا تھا نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا۔ اب آپ چاہیں تو حسن ناصر کو یاد کریں کہ ابن خلدون کو کہ رابعہ بصری کو ……نجیبہ کی تحریر اس کی دلسوزی اور جذب کی گواہی دیتی ہے۔
اب ہم اپنے ملک کی جانب دیکھیں تو بات یا ذکر کریں بابا یحییٰ کا کہ ڈاکٹر رفیق اختر کا کہ غامدی صاحب کہ نائیک صاحب کا کہ ان اصحاب کو مذہب کے شیدائی، غیر ممالک سے ان میں طاہر القادری کے علاوہ، بہت سے گدی نشین، غیر ممالک میں مہمان ہوتے ہیں ،ان کی میزبانی عقیدت مند بہت احترام کے ساتھ کرتے ہیں، اس طرح تبلیغی قافلے افریقہ، آسٹریلیا سے پورے یورپ اور امریکہ میں کوئی تین ماہ، کوئی تین ہفتے، لوگوں میں اپنا علم بانٹتے اور ہر بات اکٹھی کرکے، کچھ دن ٹھہر کر دوسرے دورے پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ ’’اب یہی زندگی ہماری ہے‘‘۔
چونکہ ہمارے برصغیر میں 60فیصد لوگ ان پڑھ ہیں۔ مسجدوں میں خطبوں کو سننے اور ان میں بتائی گئی قرآن کی تفسیر کو منتہا سمجھتے ہیں۔ جتنی جس خطیب کی علمیت ہوتی ہے، اس میں سیاست کا بگھار لگا کر بیان کرتے ہیں۔ تمام اولیا کے مزاروں پر بھی منتیں مانی جاتی ہیں۔ چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں۔ موجود حکومت میں بھی چادر پوشی اور اپنے عقیدے کے مطابق، روحانی تسکین حاصل کی جاتی ہے۔ ہمارے بہت سے رئوسا ہر سال عمرہ یا حج کرنے چلے جاتے ہیں۔ اس طرح دنیا کی نظر میں آٹھ حج کئے ہوئے ہیں مگر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ چاہے عراق جارہے ہوںکہ مدینہ منورہ بہت سے لوگ جوتیوں کے تلوؤں اور مونگ پھلی کے چھلکوں میں سفید پائوڈر بھر کر لیجاتےہیں ، یہ جانتے ہوئے کہ وہاں اس جرم کی سزا، گردن اڑانا ہے۔ حوصلہ کرنے والوں کی جنونیت اپنی جگہ، ہر ملک میں کسی کونے، کسی دیہات میں یہ کچی شراب کے گھڑے، پائوڈر کی پڑیاں، ہر جھگی، کچے میں اور اب تو یونیورسٹیوں تک میں یہ زہر بیچنے والے پہنچ جاتے ہیں اور معصوم بچے، بچیاں وقتی یا لمحاتی زندگی کے لئےیہ حاصل کرلیتے ہیں۔
گرمیوں میں تو زیادہ تر دیہات میں لوگ، خوب بادام، دودھ اور بھنگ گھوٹ کر پیتے ہیں۔ سارے پہلوان بھی باقاعدگی سے پیتے ہیں۔ شاید اس لئے ہماری حکومت نے ایک تجویز حال ہی میں دی تھی کہ لوگ بھنگ اُگائیں۔ شاید معصومیت میں انہیں خبر نہیں کہ قبائلی علاقوں اور ہمارے پٹھان قبیلے تو نسوار کے عادی ہیں۔ اب کچھ ہوائی کمپنیوں نے نسوار ساتھ لیجانے کی بھی ممانعت کی ہے۔ دیکھتے ہیں جان پر کھیل جانے والے کیا کیا کرتب کرتے ہیں؟ توبہ میری بات کہاں سے شروع ہوئی تھی اور کہاں نکل گئی۔ کہا سنا معاف!
( بشکریہ روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker