قلات : بلوچستان کے ضلع قلات میں بس پر حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے سترہ افراد قوال تھے جو کہ کراچی سے کوئٹہ جارہے تھے۔ قلات میں پولیس کے حکام کے مطابق بس پر ہونے والے حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قلات کے ایم ایس ڈاکٹر نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ فائرنگ سے 14 افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے تین کی حالت تشویشناک تھی۔ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں ندیم صابری اور ان کے ساتھی شامل ہیں
کوئٹہ پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کوئٹہ پہنچنے کے بعد زخمیوں کو علاج کے لیے سی ایم ایچ منتقل کیا گیا۔ انھوں نے اس بات کی تصدیق کی حملے کا نشانہ بننے والے بس میں قوال اور موسیقار سفر کررہے تھے جن کو کوئٹہ میں ایک شادی کی تقریب میں بلایا گیا تھا۔حملے کا نشانہ بننے والے ایک مسافر نے قلات میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ چالیس سال سے کوئٹہ آتے جاتے رہے ہیں لیکن پہلے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ’دہشت گرد‘ اندھا دھند شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
بس کو کہاں حملے کا نشانہ بنایا گیا؟
جس بس کو قلات میں نامعلوم مسلح افراد نے حملے کا نشانہ بنایا وہ کراچی سے کوئٹہ آرہی تھی۔ اس واقعے کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر قلات اور ضلعی پولیس کے سربراہ سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے کال وصول نہیں کی۔ اگرچہ رابطہ کرنے پر قلات کے ایس ایچ او حبیب نیچاری نے کال وصول کی لیکن انھوں نے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بس پر نیمرغ کراس کے علاقے میں حملہ کیا گیا جس میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ نیمرغ کراس قلات شہر سے اندازاً آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر شمال میں کوئٹہ کراچی ہائی وے پر کوئٹہ کی جانب واقع ہے۔
’زخمیوں میں بس کا ڈرائیور بھی شامل ہے‘
بس پر حملے میں اس کا ڈرائیور بھی زخمی ہوا جنھیں قلات میں طبی امداد کی فراہمی کے بعد ٹراما سینٹر کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ سول پستال کوئٹہ کے ایم ایس نے بتایا کہ زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کرنے کے پیش نظر سول ہسپتال سمیت دیگر ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی لیکن سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں صرف ایک زخمی کو منتقل کیا گیا جو کہ بس کا ڈرائیور تھا جن کو کندھے اور ایک ٹانگ پر گولی لگی ہے۔بس کے بعض مسافروں نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال قلات میں مقامی صحافیوں کو بتایا کہ بس پر اچانک شدید فائرنگ ہوئی جس کے باعث بس روڈ سے باہر نکل گئی۔ انھوں نے بتایا کہ بس روڈ سے نیچے اتر کر ایک باغ کے قریب رک گئی جہاں سے زخمی افراد کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ حملہ آور کتنے تھے تاہم بس میں بہت ساری گولیاں لگی۔
حملے کا نشانہ بننے والے بس کے مسافروں نے صحافیوں کیا بتایا؟
کوئٹہ میں پولیس کے سینیئر افسرنے بتایا کہ بس میں صابری گروپ سے تعلق رکھنے والے قوال اور موسیقار سفر کررہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں ایک با اثر خاندان کی شادی تھی جس میں قوالوں اور موسیقاروں کو پرفارمنس کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ قلات کے ہسپتال سے وہاں کے مقامی صحافیوں نے مسافروں کی جو ویڈیوز شیئر کیں ان میں وہ غم سے نڈھال نظر آ رہے تھے۔ ایک شخص جو کہ حملے میں محفوظ رہا تھا نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران اپنے آنسوؤں پر ضبط نہیں کرسکا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ چالیس سال سے کوئٹہ آتے جاتے رہے ہیں لیکن پہلے ہم نے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا۔انھوں نے بتایا کہ ان کا تعلق کراچی میں صابری گھرانے سے ہے اور ماجد علی صابری ان کے بھائی ہیں۔ صحافیوں کے اصرار پر انھوں نے بتایا کہ ’مجھ میں بولنے کی ہمت نہیں ہے اس حملے میں ہمارے تین بندے ضائع ہوگئے۔ بس ہم کیا بولیں‘۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ایک بیان میں کہا کہ ’قلات میں مسافر کوچ پر حملہ ایک بزدلانہ اور قابل نفرت دہشت گردی ہے جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انھوں نے کہا کہ کالعدم تنظیمیں پہلے شناخت کی بنیاد پر حملوں کا تاثر دیتی رہیں۔ ’اب اندھا دھند شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے یہ جنگ ہر عام پاکستانی کے خلاف ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم اسے ہر قیمت پر ناکام بنائیں گے‘۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

