اسلام آباد : برطانیہ نے پاکستانی ایئرلائنز کے برطانیہ میں داخلے پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔ پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا نام برطانیہ کی ایئر سیفٹی لسٹ سے حذف کر دیا گیا ہے اور اب پاکستانی ایئرلائنز برطانیہ میں فلائٹ آپریشن شروع کرنے کے لیے اپلائی کر سکتی ہیں۔ برطانیہ اور یورپی ایوی ایشن حکام نے جولائی 2020 میں پاکستانی ایئرلائنز پر پابندی عائد کی تھی۔ برطانوی ہائی کمشن کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایئر سیفٹی کے اقدامات میں بہتری کے بعد برطانیہ نے پاکستانی ایئرلائنز پر سے عائد پابندی کو ہٹا دیا ہے۔‘ ’تاہم اب بھی ہر ایئرلائن کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے برطانیہ میں آپریٹ کرنے کی اجازت طلب کرنا ہوگی۔‘ اس پیشرفت پر پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کا کہنا ہے کہ ’میں بین الاقوامی حفاظتی معیار کو بہتر بنانے کے لیے برطانیہ اور پاکستان کے ایوی ایشن ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرنے پر ان کی شکرگزار ہوں۔‘ ’فلائٹس کی بحالی میں اب بھی کچھ وقت لگے گا لیکن میں برطانیہ میں اپنے خاندان اور دوستوں سے ملنے جانے کے لیے پاکستانی ایئرلائن میں سفر کرنے کی منتظر ہوں۔‘ یاد رہے کہ مئی 2020 میں کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کو پیش ہونے والے حادثے کے بعد اس وقت کے وزیر ہوا بازی نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ ہمارے ملک کے ایک تہائی کمرشل پائلٹس کے پاس بوگس ڈگریاں ہیں جس کے بعد جون 2020 میں برطانیہ اور یورپ کے لیے پاکستانی پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ حکومت کی مسلسل کوششوں کے بعد گزشتہ برس نومبر میں یورپی یونین نے پاکستانی ائیر لائن کی یورپ کے لیے پروازوں پر سے پابندی اٹھا لی تھی تاہم اب برطانیہ نے بھی پاکستانی ائیر لائنز پر عائد پابندی ہٹا لی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان اور غلام سرور نے پی آئی اے کو قبرستان بنایا اب قومی ائیر لائن پر پابندی کیوں لگی اس کا تعین کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کا نام ائیر سیفٹی لسٹ سے نکالے جانا اہم سنگ میل ہے، خوش اسلوبی سے پی آئی اے پر پابندیاں ہٹ گئیں، اس پابندی سے قومی شناخت اور اربوں روپے کا نقصان الگ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ قومی ائیرلائن کےعلاوہ ایک نجی ائیرلائن کوبھی برطانیہ نے اجازت دی ہے، ہماری کوشش ہے کہ نیویارک کی پروازیں بھی بحال ہوں، پاکستان بیرون ملک اپنی پروازوں کےلیے آپریٹنگ لائسنس کے لیے اپلائی کرے گا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ سابق وزیر ہو ابازی غلام سرور کے اقدامات سے پی آئی اے پر پابندیاں لگیں، سابق وزیر کا بیان غلط ثابت ہوا، غلام سرورخان نے اپنے ادارے کے خلاف جو جرم کیا وہ قومی جرم تھا، اس میں بانی پی ٹی آئی برابرکے شریک تھے، ان دونوں نے قومی ائیرلائن کو قبرستان بنایا۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ قومی ائیر لائن پر پابندی کیوں لگی اس کا تعین کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت طے کرے گی کہ ادارہ جاتی کارروائی کیسے کی جائے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ اجتماعی ہوگا اور کابینہ فیصلہ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے 3 سال میں قومی ائیرلائن کی بحالی میں ذاتی دلچپسی رکھی، اب آج کی کامیابی کے بعد قومی ائیرلائن کو بہتر قیمت میں پرائیویٹائزکیا جاسکے گا، ہم پر ایوی ایشن انڈسٹری کے دروازے کھل گئے ہیں، اب لندن جانے کے لیے براستہ دبئی نہیں بلکہ براہ راست فلائٹ سے جاسکیں گےْ ( بشکریہ : بی بی سی اردو / جیو نیوز )
فیس بک کمینٹ
#PakistaniAirlines #FlightsToUK #UKFlightPermission #PIAUpdate #PakistanUKFlights #AviationNews #TravelUpdate #AirlinesNews #PakistaniTravelers #UKBoundFlights #پاکستانی_ایئرلائنز #پی_آئی_اے #پروازوں_کی_بحالی #پاکستان_سے_برطانیہ #سفری_پابندیاں #ایوی ایشن_اپڈیٹ #برطانیہ_کی_اڑان #پاکستانی_مسافر #ائیرلائن_کی_خبریں #سفر_کی_اجازت

