تجزیےلکھاری

ناصر عباس نیئر کا تجزیہ : ڈاکٹر اظہر کی بیٹی کا قتل اور خود کشی۔۔ انسانی ذات کا اندھا غار

ہماری یادوں میں شاید ہی کوئی دن ایسا ہو، جب کوئی نہ کوئی واقعہ ہماری پہلے سے نحیف و رنجور روحوں کو رنج مزید میں نہ مبتلا کرتا ہو۔ لیکن کسی دن ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے کہ اس سے وابستہ رنج، ملال اور اذیت کو سہنے کی تاب صرف انھی کو ہوتی ہے جن کے سینوں میں پتھر ہوتے ہیں یا جو دنیاے دوں کی سب باتوں سے بے نیاز، کسی ابدی امن کو حاصل کرچکے ہوتے ہیں۔ ملتان کے ڈاکٹر اظہر حسین کا اپنی اکلوتی بیٹی اور تین ننھی جانوں کی ماں کو قتل کر کے خود کشی کرنا ایسا ہی واقعہ ہے۔
یہاں ایک دن میں ہزاروں لوگ ناحق قتل کیے جا رہے ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ کی خبر ہمیں ملتی ہیں، باقیوں کی اطلاع کسی انتہائی خفیہ دستاویز میں درج ہوتی ہے۔ اسی طرح روزانہ سیکڑوں لوگ خود کشی بھی کرتے ہیں، جن میں سے چند ایک کے بارے میں ہم جان پاتے ہیں، باقیوں کی موت کا اندراج ان کے اہل خانہ کی یادوں میں ہوتا ہے۔ ہم اپنی ہی دنیا اور اپنے جیسوں کی حقیقی حالتوں کا کتنا کم اور کس قدر معمولی علم رکھتے ہیں۔ لیکن ایک نفسیاتی معالج کا خود اپنی بیٹی۔
جس نے باپ کی پیشہ ورانہ وراثت کو بھی سنبھالا ہوا تھا، یعنی خود بھی نفسیاتی معالج تھی۔ کو قتل کرنا اور پھر خود کشی کر لینا قتل و خودکشی کے باقی واقعات سے بہت مختلف ہے۔ بیٹی باپ کے گھر آئی ہے، اور ایک کمرے میں اپنے شعبے میں اعلیٰ ترین ڈگری کے امتحان کے لیے زبانی امتحان کی تیاری کر رہی ہے کہ اچانک اس کا باپ، جو دوسروں کی داخلی دنیاؤں کی الجھنوں کو سلجھانے کی اچھی شہرت رکھتا ہے، کمرے میں داخل ہوتا ہے، اس کی کھوپڑی پر پستول کی گولی داغتا ہے۔ اپنے کمرے میں واپس جاتا ہے، دروازہ مقفل کرتا ہے اور اب اپنی جان لے لیتا ہے۔ عین دوپہر شہر اولیا کے ایک بڑے گھر میں تازہ خون کے فواروں کے ساتھ کچھ بدروحیں رقص کرتی ہیں۔ تھوڑی سی دیر کا یہ قصہ، صدمے اور سوالوں کے طویل سلسلے کو لیے ہوئے ہے۔ یہ صرف اس خاندان کے لیے گہرے صدمے کا باعث نہیں، ان سب کو رلا دینے والا ہے جو دکھ کو انسانی سطح پر محسوس کرتے ہیں، یعنی دکھ کو نسل، صنف، رنگ، قبیلے، قوم، مسلک و مذہب سے بالاتر ہو کر محسوس کرتے ہیں۔
یہ ایک شخص کا ایک دوسرے شخص کو قتل کرنے اور پھر خود کشی کا واقعہ نہیں۔ یہ ایک باپ کا اپنی بیٹی کو قتل کرنے اور پھر خود کشی کا واقعہ ہے۔ ایک معالج کا ایک دوسرے معالج کو قتل کرنے اور پھر خود کشی کا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ جس قدر صدمہ انگیز ہے، اسی قدر سوال انگیز ہے۔ صدمہ صرف اس بات کا نہیں کہ ایک انسانی جان کا قتل ہوا ہے، اس بات کا بھی ہے کہ ایک باپ نے اپنی بیٹی کو قتل کیا ہے۔ قتل بجائے خود حد درجہ بھیانک عمل ہے، لیکن باپ کے ہاتھوں بیٹی کا قتل بھیانک اور دہشت انگیز ہونے کے علاوہ ایک گہرے وجودی الجھن کا حامل بھی ہے۔ دوسروں کی ذہنی و نفسی مدد کرنے والا خود کسی ایسی نفسی الجھن کا شکار ہو سکتا ہے کہ اسے اپنی بیٹی اور اپنی جان لینی پڑے؟ جو عارضہ موت سے کم پر ختم نہ ہو، اس کی شدت کا اندازہ آسان نہیں۔ اسے سمجھنا ہم سب کے لیے لازم بھی ہے۔
ڈاکٹر اظہر کی الجھن کے اسباب ہوں گے، جن میں سے کچھ بیان ہوئے ہیں، جنھیں یہاں اس لیے نہیں دہرایا جا رہا کہ ان کے مستند ہونے کا یقین اس مصنف کو نہیں۔ اسباب جو بھی ہوں، اصل سوال ایک ہے اور یہ سوال صرف ڈاکٹر اظہر ہی سے متعلق نہیں ایک نہ ایک درجے میں ہم سب سے متعلق ہے۔ یہ کہ ڈاکٹر اظہر جس علم کو دوسرے کے فائدے کے لیے اتنے عرصے سے بروئے کار لا رہا تھا، اسے خود اپنی نفسی الجھن کو سلجھانے کے لیے استعمال میں کیوں نہیں لا سکا؟
اسباب نہ جاننے کے باوجود ہم اتنا اندازہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اس کا بیٹی کو قتل کر کے خود کشی کرنا، ایک بدترین نفسی الجھن ہی کے باعث تھا۔ اس نفسی عارضے کے لیے تیکنیکی اصطلاح یقیناً ہو گی، جس پر ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر اختر علی سید روشنی ڈالیں گے۔ ہم اس کے جواب میں کئی مفروضے سوچ سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس کا اپنا نفسی عارضہ، خواہ اس نے ایک ہی لمحے میں اس پر یلغار کی ہو، بالکل نئی قسم کا تھا اور اس کے علم کے ذخیرے میں اس کے سلسلے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔ غالب نے آدمی کو محشر خیال کہہ کر آدمی کی ہستی کی پیچیدگی کی طرف اشارہ کیا تھا۔ لیکن کیا ایک دم ظاہر ہونے والے نفسی عارضے، جنھیں پہلے آسیب یا عفریت کہا جاتا تھا، وہ اپنی تاریخ نہیں رکھتے؟ اگر تاریخ رکھتے ہیں تو ہر تاریخ کے کردار ہوتے ہیں۔ انسانی نفسی عارضوں کے کردار صرف دوسرے لوگ، سماج، ریاست ہی نہیں، خود انسانی تقدیر بھی ہے۔ انسان کے ذہن و تخیل کی وسعت اور اس کے ناتواں و فانی جسم میں کوئی مطابقت نہیں۔ اس انسانی تقدیر کے ساتھ نباہ آسان نہیں۔ کم از کم ان لوگوں کے لیے جو حقائق کو ہر طرح کی دھند و لاعلمی کی چادر ہٹا کر دیکھتے ہیں۔ انسان کی نفسی الجھنیں چیزوں سے زیادہ، چیزوں کے ساتھ تعلق کی نوعیت میں ہیں۔
ایک مفروضہ یہ ہو سکتا ہے کہ نفسی معالجاتی علم دوسروں کو سمجھنے میں جس قدر کارگر ہے، خود معالج کے لیے نہیں۔ اپنے مریضوں سے وہ جو فاصلہ رکھتا ہے، خود اپنے آپ سے نہیں۔ اگر یہ مفروضہ ذرا بھی درست ہے تو کیا ہر نفسی معالج کو کسی دوسرے معالج سے رجوع کرتے رہنا چاہیے؟ یہ سوال ان تحقیقات میں بھی اٹھایا گیا ہے جو مغرب میں ماہرین نفسیات کی خود کشی کے سلسلے میں ہوئی ہیں۔ عام رائے یہ ہے کہ چوں کہ نفسیاتی معالج، خود کشی کی کوشش کر نے والے یا اس کا میلان رکھنے والے مریضوں کا علاج کرتے ہیں تو اس سے وہ اس عارضے کے اثرات قبول کر لیتے ہیں۔ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نفسیاتی علاج بھی اتنا ہی خطرات سے پر ہے جتنا ایک معالج کے لیے جسمانی عارضوں کا علاج۔ کیا نفسی عارضے کے جراثیم بھی ہوتے ہیں؟ ڈاکٹر اظہر کے پاس خود کشی کی کوشش یا خواہش رکھنے والے کتنے مریض آئے تھے؟
تیسرا مفروضہ، ایک بنیادی انسانی وجودی مسئلے سے متعلق ہے، جسے ادب و آرٹ زیادہ اہمیت دیتے ہیں یا پھر ”فلسفیانہ نفسیات“ جس کی کوئی روایت ہمارے یہاں نہیں۔ یہ کہ کسی بھی طرح کے علم اور انسانی ذات میں کوئی لازمی بیگانگی موجود ہے۔ علم کی اعلیٰ ترین صورتوں کو ذکر ایک لمحے کے لیے ایک طرف رکھیں۔ مثلاً ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ایک باپ اور کچھ نہ جانے، اتنا تو جانتا ہے کہ اس کے سامنے بیٹھی لڑکی اس کی بیٹی ہے۔ کیسے یہ علم، ایک پل کے کسی اندھے غار میں گم ہوجاتا ہے اور وہ اس کا ریپ کر دیتا ہے یا اسے قتل۔ یہ اندھا غار کہیں اور نہیں خود آدمی کے اندر ہی موجود ہے، اسے آپ کوئی نام دیں۔ اسے عفریت کہیں، شیطان کا نام دیں، اندھی جبلت کہیں یا کسی نفسی عارضے سے پہچانیں، یہ موجود ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ آدمی عالم فاضل ہے یا جاہل مطلق۔ عالم فاضل لوگ اخلاقی طور پر بلند یا ذہنی طور پر صحت مند ہوں، ہرگز ضروری نہیں۔ ایک خاص علم کی دن رات تبلیغ کرنے والے، اپنی سحر بیانی سے دوسروں کی زندگیوں کو بدل دینے والے، اپنے اندر دبیز ظلمت کے حامل ہوسکتے ہیں۔ آپ سماج اور ریاست کی سب چولیں درست بھی کردیں، انسانوں کے وجودی مسائل کو نظرانداز کریں، ان کو سمجھنے اور ان کے حل کی مسلسل سعی نہ کریں تو اس نوع کے روح فرسا واقعات ہوتے رہیں گے۔
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker