اختصارئےگلگت بلتستانلکھاری

ڈرائیونگ سیٹ ، موت کا فرشتہ اور کشمیر ، افغانستان کے مسائل ۔۔ ناصر محمود شیخ

آج صبح گلگت سے پنڈی کے لئے روانہ ہونے والی بس کے مسافروں کو بالکل اندازہ نہ تھا کہ یہ موت کا سفر ہے اور وہ آخرت کےسفرپر روانہ ہو رہے ہیں ۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ آج موت بال کھولےان کی منتظر ہے اور بس ڈرائیور موت کا فرشتہ بن چکا ہے۔



بابو سر ٹاپ اور گیٹی داس کے مقام پر تیزرفتاری کی وجہ سے بس چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگئی ۔ خواتین بچوں سمیت 26 افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ آخری اطلاعات تک زخمیوں میں سے 6 کی حالت تشویشناک تھی ۔ ریسکیو والے ہمیشہ کی طرح جانفشانی سے محنت کرتے نظر آئے اور ہمیشہ کی طرح وزرا اور وزیراعلی کے” دکھ بھرے“ بیانات کا سلسلہ شروع ہوچکا ۔ان کے ترجمان اپنی اپنی ڈیوٹی پر بیٹھ کر تعزیتی بیانات جاری کررہے ہیں جبکہ وزرا جن کے بیان جاری ہوئے وہ یقیناً ابھی بستروں میں ہی آرام کر رہے ہونگے ۔



ٹریفک کا یہ حادثہ نہ پہلا ہے نہ آخری۔ بات صرف یہ ہے کہ ا گر کسی حادثہ میں زیادہ لاشیں گر جائیں تو ہم مختصر وقت کے لئے غم ناک ہو جاتے ہیں اور پھر ۔۔چل سو چل دکھ کا اظہار جاری رہتا ہے



اتنے لوگ کسی اور سانحہ میں جاتے تو دنیا بھر میں آہ کار مچ جاتی لیکن ٹریفک حادثات کو تو کوئی اہمیت ہی نہیں دی جاتی ۔ ان کے بارےمیں کبھی کسی اسمبلی میں کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی ۔ وجہ جو بھی ہو انسانی غفلت ڈرائیور کی تیزرفتاری اور غفلت ہی حادثہ کی ذمہ دار ہے ۔ سڑکیں پل فلائی اورز موٹروے بنانے کے ساتھ ساتھ محتاط اور قوانین کے مطابق ڈرائیونگ کا شعور اجاگر کرنا موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ ریسکیو 1122پنجاب کے اعداد و شمار کے مطابق صرف صوبہ پنجاب کی سڑکوں پر روزانہ 11 افراد کی ہلاکت رجسٹر ہوتی ہے ۔ ایک ٹریفک حادثہ جانی نقصان کے علاوہ معاشی نقصان بھی ہوتا ہے گھرانے مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوجاتے ہیں زخمی افراد کی تکالیف کا کوئی دردمند دل رکھنے والا ہی اندازہ کرسکتا ہے ۔



کشمیر افغانستان کے مسائل کی طرح ٹریفک مسائل بھی حل طلب ہیں لیکن ان پر توجہ اس لئے نہیں دی جاتی کہ امریکہ یا آئی ایم ایف کو ہمارے ٹریفک مسائل اور حادثات سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ آئیں دعا کرتے ہیں کہ ٹریفک حادثات بھی دہشت گردی کی طرح ان کے ایجنڈے میں شامل ہو جائیں جن کی ترجیحات ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات ہیں ۔ ہمیں اس وقت سے ڈرنا چاہیئے جب موت کا فرشتہ ہماری ڈرائیونگ سیٹ پربھی آن بیٹھے گا ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker