اختصارئےناصر محمود شیخ

2019ء : ملتان ریجن میں ٹریفک حادثات، سب سے زیادہ ہلاکتیں خانیوا ل میں ہوئیں ۔۔ ناصر محمود شیخ

جب ہم ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارکباد دے رہے ہوتے ہیں تو اس وقت بہت سے لوگ رنجیدہ ہوتے ہیں انہیں گذشتہ برس بچھڑنے والے اپنے پیارے یاد آتے ہیں اسی طرح بستر پر وہیل چیئر پر موجود اپنے پیاروں کو زخمی حالت میں دیکھ کر بے شمار افراد غم کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
اگر ہم 2019 ءکا جائزہ لیں تو صرف صوبہ پنجاب کی سڑکوں پر ہونے والے 3 لاکھ 44 ہزار 104 ٹریفک حادثات میں 3346 افراد جاں بحق ہوئے سب سے زیادہ حادثات 82136 لاہور میں ہوئے جن میں 208 افراد ہلاک ہوئے جبکہ فیصل آباد میں سب سے زیادہ 253 افراد کی ہلاکت ہوئی۔ 5644 ایسے افراد ہیں جن کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی اور وہ وہیل چیئر پر آ گئے۔ حادثات میں 60 سال سے زائد عمر کے 19177 بزرگ بھی متاثر ہوئے ہیں اور 82212 خواتین بھی حادثات کی وجہ سے زخمی ہوئیں۔ 1,70,722 زخمی ایسے تھے جو پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر رہے تھے جبکہ 53528 افراد پیدل تھے یہ سب دوسروں کی تیز رفتاری کا نشانہ بنے۔
سب سے زیادہ حادثات 2,74,014 موٹر سائیکل سواروں کے ہوئے اور 49,023 رکشہ والے حادثات سے متاثر ہوئے۔ پوری دنیا میں اتنی بڑی تعداد میں صحت مند افراد ہلاک یا زخمی نہیں ہوئے جتنے پاکستان کی سڑکوں پر ٹریفک حادثات میں ہوئے۔ زیادہ تر حادثات تیز رفتاری، ڈرائیورز کی غفلت، قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہوئے۔ گذشتہ روز ٹرانسپورٹرز نے اس بات پر ہڑتال کی کہ جرمانوں کو بڑھا دیا گیا ہے۔ ایک ڈرائیور کو بیلٹ نہ باندھنے پر 10000 روپے جرمانہ ہوا اور ٹرانسپورٹرز نے طوفان برپا کر دیا۔ کسی نے یہ آواز نہیں اٹھائی کہ ہاں ڈرائیور کو بیلٹ باندھنا چاہئے تھا۔ کیونکہ پاکستان کی ٹرانسپورٹ میں زیادہ تر حصہ اراکین پارلیمنٹ کا ہے یا یہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے مالک ہیں یا حصہ دار ہیں یا سرپرست ہیں کوئی بھی ٹرانسپورٹر نہیں چاہئے گا کہ اس کی گاڑی کا نقصان ہو لیکن انہیں اپنے ڈرائیورز کو ضرور تاکید کرنا چاہئے کہ وہ قوانین کا احترام کریں ٹریفک پولیس اور موٹروے پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوانین کی پاسداری کرنے والوں کے ناجائز چلان نہ کریں۔ ممبران پارلیمنٹ اور سینٹرز کسی نے پورا سال قومی اسمبلی اور ایوان بالا میں روڈ سیفٹی کے حوالے سے کوئی آواز نہیں اٹھائی جس کی اب ضرورت ہے۔ ورنہ ہم اسی طرح لاشیں اٹھاتے رہیں گے ایک ٹریفک حادثہ سماجی، معاشی ضرب لگاتا ہے۔ گاڑیاں تباہ ہوتی ہیں ڈرائیورز ، کلینرز بیروزگار ہو جاتے ہیں۔ اس پر سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ دوسری طرف ہم موٹر سائیکل سواروں کو دیکھیں تو بہت غیرذمہ دارانہ رویہ ہوتا ہے ٹریفک پولیس بے بس نظر آتی ہے۔ پورے ملک میں موٹر سائیکل فروخت کرنے والا سب سے بڑا ادارہ اٹلس ہنڈا لمیٹڈ اس حوالے سے مو¿ثر کردار ادا کر رہا ہے اور روڈ سیفٹی کی تقریبات ٹریفک پولیس کے ساتھ ملک کر منعقد کر رہا ہے۔ اگر ہم ملتان ریجن کا جائزہ لیں تو گذشتہ سال 306 افراد ہلاک ہوئے سب سے زیادہ خانیوال 153، ملتان 90، لودھراں 85 اور وہاڑی میں 78 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ 830 افراد ریڑھ کی ہڈی متاثر ہونے سے وہیل چیئر پر آ گئے موٹر سائیکلوں کے سب سے زیادہ حادثات شہری حدود میں ہو رہے ہیں والدین اور بزرگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر کے ان افراد پر نظر رکھیں انہیں تلقین کریں کہ وہ اپنی موٹر سائیکلوں کی بریکیں، لائٹس اور اشارے درست انداز میں رکھیں۔ ضلع ملتان میں بیل گاڑیوں اور سلو موونگ بغیر ہیڈ لائٹس یا روشنی کے سڑکوں پر آتے ہیں انہیں روڈ سیفٹی کا میسج ترجیحی بنیادوں پر دیا جانا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو صبر دے اور آئندہ سب کو جانی نقصان سے محفوظ رکھے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker