تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : اگر تلہ سازش کیس سے لندن کے ہائیڈ پارک تک

مسلم لیگ (ن) نے وضاحت کی ہے کہ جمعہ کو لندن کے ہائیڈ پارک کے ایک دفتر میں افغان وفد سے نواز شریف کی ملاقات کے انتظامات کئی ماہ پہلے شروع ہوگئے تھے۔ افغانستان کی قومی سلامتی کونسل نے صدر اشرف غنی کی ہدایت پر نواز شریف سے ملاقات کے لئے پیش رفت کی تھی ۔ یہ درخواست سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ذریعے پہنچائی گئی۔ تاہم وزیر اطلاعات فواد چوہدری مسلم لیگ (ن) کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہیں ۔ اب انہوں نے اس ملاقات کا آڈیو ٹرانسکرپٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم اس ملاقات سے بہت پریشان ہیں کیوں کہ اس وقت خطے میں حالات تشویشناک ہیں۔ ’مئی کے تیسرے ہفتے کے دوران ایک تقریر میں افغانستان کے مشیر برائے قومی سلامتی حمداللہ محب نے پاکستان کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کئے تھے جس کے بعد پاکستان نے افغان حکومت پر واضح کردیا تھا کہ پاکستانی حکومت ایسے شخص کے ساتھ پالیسی معاملات پر بات نہیں کرے گی۔ اب نواز شریف جو ملک کے تین بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں، ایک ایسے شخص سے ملے ہیں جس کے بھارت کے ساتھ روابط پوشیدہ نہیں ہیں۔ نواز شریف نے اس ملاقات کے بارے میں نہ پاکستانی حکومت کو مطلع کیا اور نہ ہی اپنی پارٹی سے اس بارے میں مشاورت کی۔ انہیں بتانا چاہئے کہ اس ملاقات میں کن امور پر بات ہوئی بلکہ انہیں اس ملاقات کی آڈیو ریکارڈنگ عوام کے لئے جاری کرنی چاہئے تاکہ پاکستان کے لوگ جان سکیں کہ ان کا سابق وزیر اعظم ، پاکستان دشمن عناصر سے کیا باتیں کرتا ہے‘۔
دوسری طرف سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے واضح کیا ہے کہ یہ ملاقات کئی ماہ پہلے طے کی گئی تھی۔ افغانستان کی طرف سے صدر اشرف غنی کی ہدایت پر نواز شریف کو ملاقات کی درخواست بھیجی گئی تھی۔ افغانستان کے مشیر برائے قومی سلامتی حمدللہ محب، وزیرمملکت برائے امن سید سعادت نادری، برطانیہ میں افغانستان کے سفیر طیب جواد اور تین سفارت کاروں پر مشتمل وفد نے نواز شریف سے ملاقات کی جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس میں ’باہمی دلچسپی کے امور‘ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کی تاریخ اور وقت کا تعین حمداللہ محب کی متنازعہ تقریر سے بہت پہلے ہوگیا تھا۔ اس لئے ہمیں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ اس ایک بیان کی وجہ سے ملاقات منسوخ کردی جائے یا خطے کے حالات اور افغانستان کے بحران کی موجودہ صورت حال میں رابطے کا یہ موقع ضائع نہ کیا جائے۔ ہم نے ملاقات کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔اسحاق ڈار بھی نواز شریف کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اس ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات کی اہمیت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ حکومت جس طرح پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے، اس کی روشنی میں مسلم لیگ نے وسیع تر قومی مفاد میں افغان وفد سے ملنے اور تبادلہ خیال کا فیصلہ کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ہم نے اس دوران پاکستانی مفاد کے نقطہ نظر سے ہی بات کی کیوں کہ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہو۔ اور نہ ہی ہم عالمی طاقتوں کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان خطے پر تسلط قائم کرنے کا خواہاں ہے‘۔ ان کا اصرار تھا کہ ہمیں بھی پاکستان کے مفاد کے لئے سرگرم ہونے اور ضروری اقدام کرنے کا حق حاصل ہے۔ جاننا چاہئے کہ کون علاقے میں پاکستانی تسلط قائم کرنے کا تاثر دے رہا ہے اور کون سے عناصر اسے زائل کرنے کے خواہاں ہیں۔
ایک ملاقات کے حوالے سے وزیر اطلاعات کے ذریعے حکومت پاکستان نے جس پریشانی کا اظہار کیا ہے اور فواد چوہدری نے جیسے اس ملاقات کی آڈیو ریکارڈنگ تک رسائی حاصل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ تحریک انصاف کی حکومت اس ملاقات کے حوالے سے صرف سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کی کوشش نہیں کررہی۔ اگرچہ یہ بھی ایک نمایاں مقصد ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں سیاسی اپوزیشن کو ’دشمن کا ایجنٹ اور قومی مفاد کا دشمن‘ قرار دینا آج بھی سب سے مؤثر اور تیر بہدف ہتھکنڈا سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس ملاقات کا احوال جاننے کی خواہش کا اظہار کرکے فواد چوہدری نے اپنی حکومت کی جو پریشانی ظاہر کی ہے، اس سے ایک تو یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حکومت کو افغان سلامتی کونسل کے ٹوئٹ پر تصاویر اور پریس ریلیز جاری ہونے سے پہلے اس بارے میں کوئی خبر نہیں تھی اور نہ ہی اسے یہ علم ہے کہ اس ملاقات میں کس نے کس کے لئے کیا پیغام پہنچایا۔ شاید یہی جاننے کی خواہش میں اب فواد چوہدری یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ا س ملاقات کا آڈیو ٹرانسکرپٹ جاری کیا جائے۔ لیکن باہمی بداعتمادی کی یہ صورت ہے کہ صرف تحریری رپورٹ فواد چوہدری اور ان کی حکومت کے لئے قابل قبول نہیں ہوگی۔ مسلم لیگ (ن) یا نواز شریف حکومت کی یہ خواہش شاید کبھی پوری نہیں کریں گے لیکن وہ اس وقت حکومت کی بدحواسی اور پریشانی کا لطف ضرور لے رہے ہوں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس میں جس پریشانی و تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اس کی کچھ ایسی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں جو بیان نہیں کی گئیں۔ فواد چوہدری سمیت وزیروں کی فوج ظفر موج نے یکے بعد دیگر ے اس ملاقات پر تنقید اور اسے ملک دشمنی قرار دیتے ہوئے ، حمدللہ محب کے ایک بیان کا حوالہ دیا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی حکومت نے افغانستان کے مشیر قومی سلامتی سے ہمہ قسم مواصلت بند کررکھی ہے۔ پاکستان میں قومی حمیت کا جو تصور مروج ہے، اس حوالے سے شاید یہ درست طریقہ ہو۔ لیکن یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کیا سفارت کاری میں کسی ایک اہم سرکاری عہدیدار سے ’قطع تعلق‘ کے ذریعے کوئی ملک اپنے مفادات کا تحفظ کرسکتا ہے یا بالواسطہ طور سے انہیں نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ خاص طور پاکستان کی طرف سے حمدللہ محب سے بات چیت و مواصلت بند کرنے کے اعلان کے دو اڑھائی ماہ بعد بھی صدر اشرف غنی نے انہیں اپنے عہدے سے نہیں ہٹایا۔ ایسے میں پاکستان ملکی سلامتی کے حوالے سے کن افغان حکام سے رابطہ قائم کرتا ہے؟ کیوں کہ اگر وزیر اطلاعات کے بیان پر یقین کیاجائے تو افغان سلامتی کونسل (این ایس اے) کے علاوہ مشیر قومی سلامتی حمدللہ محب اور نائب صدر امراللہ صالح بھارتی ایجنسی ’را‘ کے ایجنٹ ہیں۔ قومی سیاست میں جن لوگوں کو آج دشمن کا ایجنٹ کہا جاتا ہے ، اگلے مرحلے میں وہ اقتدار کا حصہ ہوتے ہیں لیکن اگر سفارت کاری میں بھی وہی طریقہ آزمایا جائے گا تو کیا اس سے دو ملکوں کے تعلقات میں مستقل دراڑ پڑنے کا اندیشہ نہیں ہے؟
اس حوالے سے ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ حمدللہ محب کے ساتھ رابطہ ختم کرنے کا فیصلہ ملک کی سیاسی حکومت کاہے یا ملک کے سب ادارے اسی اصول پر عمل کررہے ہیں کہ عمران خان کی حکومت نے جو فیصلہ کیا بس وہی پتھر کی لکیر ہے۔ یعنی کیا محب کے ساتھ پاکستانی ایجنسیوں اور افواج کا بھی کوئی رابطہ نہیں ہے؟ وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے بھارتی صحافی کرن تھاپڑ کو ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ سیاسی مذاکرات میں تعطل کے باوجود ’انٹیلی جنس سطح کے روابط بدترین حالات میں بھی ہوتے ہیں‘۔ معید یوسف کا یہ جواب بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے ساتھ پاکستانی حکام کی ملاقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں تھا۔ سوال ہے کہ حکومت پاکستان نے صرف بیان بازی کی حد تک افغان مشیر قومی سلامتی سے رابطہ منقطع کیا ہے یا یہ صرف سیاسی حکومت کا فیصلہ ہے اور قومی سلامتی کے دیگر ادارے ’بدترین حالات‘ کی اصطلاح پر عمل کررہے ہیں؟
نواز شریف اور افغان وفد کی ملاقات کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سلسلہ کئی ماہ سے چل رہا تھا اور اس کی باقاعدہ درخواست کی گئی تھی جسے بہت عرصہ قبل قبول کرلیا گیا تھا۔ اب حکومت کے نمائیندے اس ملاقات پر حیرت اور ناپسندیدگی کا اظہار کررہے ہیں۔ کیا یہ صرف سیاسی شعبدہ بازی ہے یا حکومت اپنی اس بدحواسی کا اظہار کررہی ہے کہ لندن میں مقیم اہم ترین سیاسی لیڈر کی سرگرمیوں کے بارے میں اسے پہلے سے کوئی خبر نہیں تھی۔ اور اس ناکامی کو نواز شریف پر ملک دشمنی کے الزامات سے چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسی حوالے سے اہم ترین سوال البتہ یہ ہوگا کہ کیا ملکی انٹیلی جنس خاص طور سے آئی ایس آئی بھی ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص کی بیرون ملک سرگرمیوں اور رابطوں سے بے خبر ہے یا یہ بے خبری صرف تحریک انصاف کی حکومت کا مقدر ہے؟
اگر آئی ایس آئی بھی اس ملاقات کے بارے میں بے خبر تھی تو دنیا کی بہترین انٹیلی جنس کا اعزا زلینے والی اس ایجنسی کو اپنے طریقہ کار پر نظر ثانی کرنا پڑے گی ۔ اور اگر یہ اطلاع وزیر اعظم اور حکومت تک نہیں پہنچ سکی بلکہ انٹیلی جنس نظام میں ہی کہیں ’پھنس‘ کررہ گئی تو عمران خان کو واقعی اپنے اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلوں کے بارے میں پریشان ہونا چاہئے۔ یوں تو پاکستان کی تاریخ اگر تلہ سازش کیس اور جناح پور اسکینڈل سے ہوتی ہوئی میمو کیس تک کی گواہی دیتی ہے۔ اب اس میں لندن کے ہائیڈ پارک کی ’سازش‘ کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن جان لیا جائے کہ اس طرح شاید پاکستان تو کیا کسی ایک فرد یا سیاسی جماعت کے مفادات کا تحفظ بھی نہیں کیا جاسکتا۔
بہتر ہوگا کہ تحریک انصاف اپنے گریبان میں جھانک کر یہ معلوم کرے کہ حکمرانی کے تین سال مکمل ہونے پر بھی وہ کیوں نہ صرف سیاسی بلکہ سفارتی، معاشی اور انفرادی سطح پر بھی شدید ناکامی کا سامنا کررہی ہے؟
( بشکریہ : کاروان ۔ ۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker