لاہور : نام ور صحافی اور کالم نگار نذیر ناجی یادداشت کھو بیٹھے ہیں ۔الزائمر کا شکار ہونے کے بعد وہ کسی کو نہیں پہچانتے اور بات چیت بھی نہیںکر سکتے ۔ یہ انکشاف نام ور شاعر اور ادیب شعیب بن عزیز نے اپنی فیس بک پوسٹ میں کیا ہے ۔ شعیب بن عزیز نے ان کے ساتھ ایک ملاقات کا احوال کچھ اس طرح تحریر کیا ہے
”یہ محض حسن اتفاق تھا یا انسانی خواہشات اور ارادوں کے کسی ماورائے عقل تصرف کا کرشمہ ۔ میرےلئے یہ فیصلہ مشکل ہے۔پچھلے کچھ روز سے نذیر ناجی کو دیکھنے انہیں ملنے ، ان سے باتیں کرنے کی خواہش دل میں سر اٹھا رہی تھی ۔۔ نذیر ناجی سے میرا تعلق ماضی میں بھی میری سرکاری ضروریات کا مرہون منت نہیں تھا۔ مشرف کے حکومت پر قبضہ کی شام کے بعد پرائم منسٹر ہاؤس میں “ہم اسیری “کے ایام اس تعلق میں ایک نئی جہت کے اضافے کا باعث ثابت ہوئے۔ ملاقات کی خواہش میں اس واقعے کی یاد تازہ کرنے کی للک بھی شامل تھی۔
جمخانہ لاہور کے کیفے نائن میں پہنچ کر نشست کی تلاش میں تھا کہ ایک نوجوان نے قریب آکر ادب سے سلام کیا اور احوال پوچھا۔ “میں سرمد ناجی ہوں ۔ آپ کے ایک پرانے دوست باہر برآمدے میں بیٹھے ہیں۔ آپ ان سےملنا چاہیں گے ”۔میں اتنے میں سرمد کو پہچان چکا تھا ۔ اسکی معیت میں باہر نکلا تو سامنے ایک کونے میں نذیر ناجی اپنی عمر کی ایک خاتون کے ساتھ بیٹھے نظر آگئے۔ میں جان گیا کہ یہ ناجی صاحب کی اہلیہ اور سرمد کی والدہ ہیں ۔ ہم پچاس برس سے زیادہ شناسائی اور تعلق کے رشتے میں بندھے دو افراد تقریباً” دس برس بعد اک دوسرے سے مل رہے تھے۔ آنے والے کی توقع بے جا نہ تھی کہُ بلانے والا اسے اٹھ کر ملے گا ، گلے لگا کر ، بھرپور معانقے کے بعد حسب روایت حال احوال دریافت کرے گا، جسمیں شاید اتنے برسوں کے دوران ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے نہ ملنے کے شکوے اور شکایتیں بھی شامل ہوں گی۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا ۔
میں کچھ دیر تک ان کو دیکھتا رہا۔ حیرت اور استعجاب کے شدید احساس کے ساتھ ۔ نذیر ناجی نے مجھ سے ہاتھ ملایا تو میں خواہش اور کوشش کے باوجود ان کی آنکھوں میں شناسائی کی کوئی رمق تلاش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ان کے چہرے پر ایک معصوم مگر بے تعلق مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ وہی مسکراہٹ جو دو یا تین برس کے بچوں کے چہرے پہ دکھائی دیتی ہے۔ میری طرف سے خیریت طلبی کے جواب میں انہوں نے جو کچھ کہا مجھ تک پوری طرح پہنچ نہ پایا ،لیکن لہجے کی اجنبیت یہ خبر دینے کے لئے کافی تھی کہ سب خیریت نہیں ہے۔
مجھے یہ لگا کہ جیسے وہ کسی اور عالم میں مجھ سے نہیں کسی اور سے مخاطب ہیں۔ تب سرمد نے یکایک سرگوشی کہ “ابو کی یادداشت باقی نہیں رہی۔ یہ کسی کو نہیں پہچانتے۔ ہمیں بھی نہیں۔ اب انہیں کچھ یاد نہیں ۔ سب کچھ بھول چکا ہے انہیں۔۔ شاید اپنا نام بھی۔ “ سرمد یہ تفصیلات نہ بھی بتاتا تو میں اسکے ابو کی حالت کا اندازہ کر سکتا تھا۔ الزائمر کے ہاتھوں اس کے ہدف پر کیا گزرتی ہے اسکی تفصیل کچھ روز پیشتر برادرم نعیم طاہر کی زبانی سن چکا تھا۔ یاسمین طاہر ان دنوں اسی کیفیت سے گزر رہی ہیں۔ (باقی پھر۔۔)“
فیس بک کمینٹ

