موجودہ دنیا عالمی سرمایہ داری یا سرمایہ دار مافیا کی دنیا ہے۔ عالمی اشتراکیت یا کمیونزم کی جدوجہد جاری ہے لیکن عملی طور پر اس وقت دنیا سپر پاور سامراج کی دنیا ہے۔ مجھ جیسے ترقی پسند لاکھ کہتے رہیں کہ وہ مادی دنیا کے افراد ہیں، خواب و خیال پر یقین نہیں رکھتے اور پریکٹیکل لوگ ہیں لیکن سچ یہی ہے کہ وہ ایک خیالی اور تصوراتی دنیا میں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے گھر، محلے اور سماج سے کٹ جاتے ہیں ۔کارل مارکس نے کہا تھا کہ حکمران طبقے کے نظریات معاشرے کے عمومی نظریات ہوتے ہیں۔ ایک کمیونسٹ اس وقت اندرونی تضادات میں گھر جاتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کے اردگرد مسائل میں گھری دنیا کے لیے کمیونزم یا اشتراکیت سے بہتر کوئی نظریہ نہیں ہے لیکن کوئی بےروزگار نوجوان، تنگدست باپ، غریب استاد، ایڑیاں رگڑ کر مرنے والا مریض، مزدور، محنت کش، مجبور ہاری، کلرک اور چھوٹا دکاندار یہاں تک کہ پڑھالکھا طبقہ اور طالب علم تک اس سے متفق نہیں ہوتا۔ اس کے بچے کہتے ہیں کہ بابا آپ ہم سے نارمل گفتگو کیوں نہیں کرتے؟ آخر آپ نے ہم سے کیا توقعات وابستہ کر لی ہیں؟ جو کچھ آپ سوچتے ہیں وہ ایک فینٹسی ہے، ایک خیالی دنیا، عملی زندگی میں آئیں۔ ترقی پسند تخلیق کار چاروں طرف سرمائے کے رنگ ہی دیکھتا ہے جس سے وہ ذہنی مطابقت نہیں رکھتا۔ وہ درست طور پر یہ سمجھتا ہے کہ عالمی سرمایہ داری کا استحصال پر مبنی نظام مسائل کی جڑ ہے، اس کے والدین، بہن بھائی اور دوست اس سے اتفاق بھی کرتے ہیں لیکن وہ اشتراکی جدوجہد کا راستہ چننے یا صرف اس کا ساتھ ہی دینے پر بھی آمادہ نہیں ہوتے۔ وہ جانتے ہیں کہ نظریات اور جدوجہد سے پیٹ نہیں بھرتا اور یہ راستہ مالی تنگدستی اور ذہنی الجھنوں کی طرف لے کر جا سکتا ہے۔ تخلیق کار ترقی پسندوں کا یہ المیہ رہا ہے۔ ماضی میں ہم نے جون ایلیا جیسے اشتراکی انسانوں کو یاسیت اور بربادی کا راستہ چنتے دیکھا ہے۔
ترقی پسند مصنفین کے ان مسائل کا حل کیا ہے؟ذہنی الجھنوں سے کیسے بچا جائے اور مالی تباہی سے کیسے چھٹکارا پایا جائے؟ یہ مشکل سوال ہے۔ اس کا جواب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ استحصال کی دنیا میں زندہ رہنے کے لیے ہمیں اس نظام کا حصہ بننا پڑے گا۔ یہ نہ تو منافقت ہے اور نہ ہی موقع پرستی۔ کارل مارکس نے کہا تھا کہ ہمیں پیسے کمانے چاہییں تاکہ ہم لکھ اور پڑھ سکیں لیکن ہمیں پیسے کمانے کے لیے لکھنا اور پڑھنا نہیں چاہیے۔ ایک سچا ترقی پسند تخلیق کار سرمائے کی ہوس میں مبتلا نہیں ہوتا لیکن اسے اتنا سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے جس سے وہ اور اس کے بچے خوشحال اور باعزت زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں۔
میں معاشرے کا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہونے کے باوجود چارسال سے بےروزگار ہوں. میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ذمہ دار میں خود یا میرے نظریات ہرگز نہیں ہیں بلکہ وہ سرمایہ دار استحصالی طبقہ ہے جس سے میں نے ٹکر لی۔ میں مایوس نہیں ہوا اور باعزت روزگار حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتا رہا۔ لیکن اپنے نظریات کی وجہ سے میں اس شدید ذہنی اذیت کا شکار ضرور رہا جس سے میں برسرروزگار ہوتے ہوئے کبھی نہیں رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے اہل خانہ، والدین اور دوستوں کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میں اپنے ترقی پسند نظریات کی وجہ سے اپنی مالی تباہی کا خود ذمہ دار ہوں یعنی شاید ان کی دانست میں سرمایہ دار مافیا کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ آج میری بیٹی نے مجھ سے کہا کہ وہ مجھ سے اس لیے بات نہیں کرتی کہ میں عام فہم گفتگو نہیں کرتا ۔مجھے حیرت ہے کہ میں فلموں، کھیلوں اور عام فہم زبان میں عام موضوعات پر گفتگو کرنے والا انسان ہوں جس سے چار سال پہلے اس کے بچے کھل کر باتیں کرتے تھے۔
میرے قریبی اور اردگرد رہنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں میرا طبی کیریر ختم ہو گیا ہے۔ فی الوقت شاید یہ بات درست ہے ۔مجھے اس وقت پاکستان میں کوئی بھی سرکاری یا نجی ادارہ باعزت روزگار دینے کو تیار نہیں ہے۔ اس کی وجہ میرے نظریات اور اپنے ان مریض بچوں سے میری سچی محبت ہے جو صرف اس لیے اچھے علاج سے محروم رہتے ہیں کہ ان کے پاس اس کے پیسے نہیں ہوتے۔ یہ بہت جائز مطالبہ ہے لیکن یہ مطالبہ کرنے کی سزا میں خود اور میرے بچے بھگت رہے ہیں ۔پاکستانی سرمایہ دار مافیا سے میں خود بھی مایوس ہو چکا ہوں اس لیے اس وقت اپنے لیے کسی بہتر دنیا کی تلاش میں سرگرداں ہوں جہاں نظام تو یہی ہو لیکن کم سے کم وہاں بچے علاج سے محروم نہ رکھے جاتے ہوں اور تخلیق کار کو عزت دی جاتی ہو۔

