اقوام متحدہ : وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے 73 ویں سالانہ اجلاس میں اردو میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہالینڈ میں پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکوں کا مقابلے کا انتظام کیا گیا ہے جو مسلمانوں کی دل آزاری ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی عوام نے ایسی تبدیلی کو ووٹ دیا جو پرامن، دردمند اور باوقار ہے، پاکستان قومی مفادات پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا اور اقوام عالم کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں برداشت کی جگہ نفرت کی عمل داری بڑھتی جارہی ہے، تجارتی جنگ کے گہرے بادل افق پر نمودار ہیں، پائیدار ترقی کی راہوں میں نئی مشکلات درپیش ہیں جو قابل تشویش ہے۔شاہ محومد قریشی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے حالات بالخصوص باعث تشویش ہیں۔انہوں نے کہا ہم تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں اور یہاں پر بھارت کے وزیر خارجہ سے ملاقات کا ایک اہم موقع تھا جس کو مودی حکومت نے دوماہ قبل بننے والے پوسٹ کی تصویر کا بہانہ بنا کر ضائع کردیا۔وزیرخارجہ نے کہا کہ ایک ایسی تصویر جو مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنز اور ظلم کے خلاف جدوجہد کی نشانی تھی۔اقوامتحدہ کی رپورٹ کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی نشاندہی کی گئی ہے اورہم اس کی جزئیات پر عمل کا مطالبہ کرتے ہیں۔قابض افواج کی درندگی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے بھارت پاکستان کی سرحد میں درندگی کرتا ہے، اگر ہندوستان سرحد پر کوئی عمل کرتا ہے اور محدود اپنے کسی منصوبے پر عمل کرتا ہے تو بھارت کو پاکستان کی جانب سے بھرپور جواب ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اپنے دفاع کا ضروری ہے اور پاکستان خطے میں اسلحے کی دوڑ سے بچنے کے لیے تیار ہے تاہم جنوبی ایشیا میں ایک ملک کی وجہ سے ایک سارک کو غیرفعال کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 17 سالہ جنگ عسکری ذرائع سے نہیں جیتی جاسکتی ہے، پاکستان، افغانستان کے امن کے لیے بھرپور حمایت کرتا رہے گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان طویل ترین عرصے سے غیرملکی پناہ گزینوں کی آماجگاہ بنا آرہا ہے جس کی مثال نہیں ملتی اور دیگر ممالک پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز اور عوام کی قربانیوں سے پاکستان میں دہشت گردوں کو شکست دی ہے۔
Previous Articleقندیل کے اصل قاتل مفتی عبدالقوی اور حق نواز ہیں : والدہ
Next Article کہانی ایک کہانی کار کی۔۔خاور نعیم ہاشمی

