اہم خبریں

منظور پشتین پشاور سے گرفتار: 14 روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

پشاور : صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیس نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین کو رات گئے پشاور کے علاقے تہکال سے گرفتار کر لیا ہے۔
منظور پشتین کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے تہکال پولیس کے اہلکار غلام نبی نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ منظور پشتین مختلف مقدمات میں ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کو مطلوب تھے جس کی بنیاد پر انھیں گرفتار کیا گیا ہے ۔
پولیس اہلکار نے یہ بھی بتایا ڈیرہ اسماعیل خان پولیس پشاورپہنچ رہی ہے جس کے بعد منظور پشتین کو ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق رات ایک بجے کے قریب تہکال کے علاقے شاہین کالونی میں ایک مکان پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے منظور پشتین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ان کے ہمراہ مزید چار سے پانچ افراد ہیں جنھیں کرایہ داری قانون پر عمل درآمد نہ کرنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے۔پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ منظور پشتین نے 18 جنوری کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے آئین کو ماننے سے انکار کیا اور ریاست کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور میں پی ٹی ایم اپنے ایک نیا دفتر کے قیام پر کام کر رہے تھے جہاں سے انھیں گرفتار کیا گیا۔
اس سے قبل انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ منظور پشتین کو حراست میں لینے کی وجہ ان کی تحریک کی جانب سے پر امن اور جمہوری انداز میں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا ہے اور انھیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
آج پی ٹی ایم رہنما منظورپشتین کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں 14 روز کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker