کھیل

سر کا خطاب پانے والے تمام انگلش کرکٹرز خاتون کھلاڑی سے پیچھے رہ گئے

سڈنی:سر این بوتھم ہوں اور یا پھر حال کے نام سر الیسٹر کک. سر جیفری بائیکاٹ ہوں اور یا سر اینڈریو سٹائرس .1926 میں بطور کرکٹر سر کا پہلا خطاب پانے والے سر فرانسس لیزی ہوں اور پھر جلد ہی اس منصب پر فائز ہونے والے آج کے ورلڈ کپ ونر کپتان اؤن مورگن، آل راؤنڈر بین سٹوکس۔کوئی ایشز کا تاریخی ہیرو تو کوئی رنز کی بہار لوٹنے والا کلاسیکل بلے باز. کوئی اپنے دور حاضر کا نامور آل رائونڈر تو کوئی میچ ونر۔ایوارڈز لسٹ میں ان گنت تمغے، آئی سی سی سی سمیت تمام گلوبل اعزاز ات کے مالک ان کرکٹرز سمیت تمام انگلش مرد و خواتین کرکٹرز کو انگلینڈ کی موجودہ خواتین کرکٹ کپتان ہیتھر نائٹ نے پیچھے چھوڑدیا. وہ ٹیسٹ، ون ڈے کرکٹ کے ساتھ ٹی 20 میں بھی سنچری بنانے والی پہلی انگلش کرکٹر بن گئ ہیں۔آسٹریلیا میں جاری خواتین کے ورلڈ ٹی 20 میچ میں انہوں نے تھائ لینڈ کیخلاف 69 گیندوں پر 108 کی اننگ کھیلی. انکی ٹیم نے 176 رنز کئے اور 98 سکور سے کامیابی حاصل کی۔ابتدائی میچ میں جنوبی افریقہ سے شکست کے بعد ٹیم اگرچہ ٹریک پر واپس آگئی ہے لیکن اسے فائنل 4 میں قدم رکھنے کے لئے اب پاکستان اور جنوبی افریقا کو لازمی ہرانا ہوگا۔پاکستان کی ویسٹ انڈیز کیخلاف فتح کے بعد گروپ بی میں اب ہر میچ اہمیت اختیار کرگیا ہے ایک بھی شکست انگلینڈ کی مہم کا اختتام کردے گی ایسے میں ہیتھر نائٹ جیسی کھلاڑی کا فارم میں آنا حریف ٹیموں کیلئے بڑا خطرہ ہے.

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker