اہم خبریں

کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ، تمام دہشت گرد مارے گئے : بی ایل اے نے ذمہ داری قبول کر لی

کراچی : کراچی میں واقع بازارِ حصص، پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت پر پیر کو شدت پسندوں نے حملے کی کوشش میں چار حملہ آوروں سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مجید بریگیڈ کے ارکان نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔
بی بی سی کے مطابق یہ واقعہ صبح دس بجے کے قریب پیش آیا اور ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور پارکنگ کے راستے عمارت کے احاطے میں داخل ہوئے اور انھوں نے دستی بم پھینک کر رسائی حاصل کی۔
نامہ نگار کے مطابق کراچی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی جانب سے فائرنگ اور دستی بم کے حملے میں داخلی دروازے پر ڈیوٹی پر موجود کراچی پولیس کا ایک سب انسپکٹر اور سٹاک ایکسچینج کے دو محافظ ہلاک ہوئے۔
ترجمان کے مطابق پولیس اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں تین پولیس اہلکار، دو سکیورٹی گارڈ اور سٹاک ایکسچینج کے ملازم سمیت دو شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔اس سے قبل ایک بیان میں پولیس کے ترجمان کی جانب سے اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد دس بتائی گئی تھی۔
پولیس کے مطابق پیر کی صبح 10 بجے کے قریب 4 دہشتگردوں نے پہلے اسٹاک ایکسچینج کے گیٹ پر دستی بم حملہ کیا اور پھر اندھا دھند فائرنگ کردی، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور آپریشن شروع کردیا۔
پولیس کے مطابق پولیس اور رینجرز اہلکار اسٹاک ایکسچینج میں داخل ہوئے اور فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے 3 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا جب کہ ایک دہشتگرد کو اسٹاک ایکسچینج کے ہال میں مارا گیا۔
حملے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے قریبی علاقوں کا بھی مکمل محاصرہ کرلیا جب کہ حملے کے بعد آئی آئی چندریگر روڈ کو میری ویدرٹاور اور شاہین کمپلیکس سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ دہشت گرد جدید اسلحہ سے لیس تھے اور ان کے پاس بارودی مواد سے بھری جیکٹیں بھی موجود تھیں۔
کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن نے حملے کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ 4 دہشتگردوں نے اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی کوشش کی لیکن فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں چاروں دہشتگرد مارے گئے ہیں۔
غلام نبی میمن نے بتایا کہ دہشتگرد پارکنگ ایریا سے سلور رنگ کی کار میں آئے تھے ان کے پاس اسلحہ اور گولہ بارود بھی تھا جو فورسز نے قبضے میں لے لیا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ واقعے میں پولیس کا کوئی جوان شہید نہیں ہوا البتہ دہشتگردوں نے پولیس اہلکاروں کی طرح کا لباس پہن رکھا تھا۔
غلام نبی میمن نے بتایا کہ اب صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے اور دہشتگردوں کے دیگر ساتھیوں کے شبے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
ڈائریکٹر پاکستان اسٹاک ایکسچینج عابد علی حبیب نے جیونیوز سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد پارکنگ ایریا میں آئے اور اندھا دھند فائرنگ کی، ہمارے گارڈز نے دہشتگردوں سے مزاحمت کی۔
عابد علی حبیب نے بتایا کہ دہشتگردوں نے اسٹاک ایکسچینج کے گراؤنڈ اور ٹریڈنگ ہال میں بھی فائرنگ کی جس سے بھگدڑ مچ گئی اور لوگ آس پاس کی عمارتوں میں گھس گئے۔
عابد علی حبیب کا کہنا تھا کہ تقریباً 200 میں سے 150 ممبران کے پرائمری دفاتر اسٹاک ایکسچینج میں موجود ہیں، ہم نے واقعے کے بعد خود کو دفاتر میں بند کرلیا ہے۔
ترجمان سندھ رینجرز نے بھی آپریشن میں تمام دہشتگردوں کے مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker