2018 انتخاباتاہم خبریں

گنتی کا عمل شفاف نہیں تھا : فافن کی ابتدائی رپورٹ

اسلام آباد: فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کا پاکستان میں ہونے والے حالیہ انتخابات 2018ء کے حوالے سے کہنا ہے کہ پولنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں ثابت کرتی ہیں کہ لوگوں کا انتخابی عمل پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے الیکشن 2018 ء کی ابتدائی مشاہداتی رپورٹ جاری کر دی۔فافن کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن امیدواروں کے نتائج پر تحفظات دور کرے، انتخابات کے معیار پر لگنے والے داغ کے ذمہ دار اہلکاروں اور اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے، الیکشن کمیشن تفتیش کرنے کی بعد سیاسی امیداروں کی بات کو رد کرے۔فافن کے مطابق الیکشن 2018ء کے دن انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر اور گنتی کے عمل میں غیر شفافیت کی شکایات کے علاوہ الیکشن کا دن پرامن اور بڑے تنازع سے پاک رہا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابات 2018ء میں مردوں کا ووٹر ٹرن آؤٹ 58اعشاریہ 3 فیصد اور خواتین کا 47 فیصد رہا۔قومی اسمبلی کے 35 حلقوں میں مسترد شدہ ووٹ جیت کے مارجن سے زیادہ ہیں جن میں24 حلقے پنجاب، 6 خیبر پختوانخوا، 4 سندھ کے اور 1 بلوچستان کا حلقہ ہے۔فافن کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کے دن نتائج کے اعلان میں تاخیر کے علاوہ کوئی قابل ذکرواقعہ سامنے نہیں آیا، پولنگ اسٹیشن کے باہر طویل قطاریں ثابت کرتی ہیں کہ لوگوں کا الیکشن عمل پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق الیکشن کے دن ووٹر ٹرن آؤٹ 50اعشاریہ 3فیصد رہا، انتخابات میں 49اعشاریہ 48ملین ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا، پنجاب میں ووٹر ٹرن آؤٹ 59فیصد، اسلام آباد میں 58اعشاریہ 2فیصد، سندھ میں ووٹر ٹرن آوٹ47اعشاریہ7 فیصد، خیبر پختوانخوا میں 43اعشاریہ6 فیصد اور بلوچستان میں ووٹر ٹرن آؤٹ 39اعشاریہ6 فیصد رہا۔فافن کا مزید کہنا ہے کہ مردوں کا ووٹر ٹرن آؤٹ 58اعشاریہ3 فیصد، خواتین کا 47 فیصد رہا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این اے 10 شانگلہ اور این اے 48 شمالی وزیر ستان میں خواتین کا ووٹر ٹرن آؤٹ 10 فیصد سے کم رہا۔فافن نے یہ بھی کہا ہے کہ الیکشن لڑنے والے زیادہ تر امیداروں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker