ادبرضی الدین رضیکتب نمالکھاری

نیاز لکھویرا اور عہدِ ضیاع کی باتیں : رضی الدین رضی کا تیتیس سال پرانا مضمون

نیاز حسین لکھویرا کی کتاب” ابر ہوا اور بارش ” کی میرے نزدیک سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ اگست 1988 ء میں شائع ہوئی ۔ یوں ایک لحاظ سے اس کتاب کو اشاعت کے فوراً بعد ہی تاریخی اہمیت حاصل ہوگئی۔ تاریخی اہمیت اس طرح حاصل ہوئی کہ 17 اگست 1988 ءکو پاکستان کی تاریخ کا ایک خوشگوار فضائی حادثہ پیش آیا جس میں جلالتہ الملک جنرل محمد ضیاء الحق ہلاک ہونے کے بعد شہید ہو گئے اور یوں نیاز لکھویرا کی کتاب کو لوگوں نے عزت کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا۔ ہم نے یہ نکتہ جب اپنے ایک دوست کے سامنے بیان کیا تو وہ بہت حیران ہوا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر ضیاءالحق کی موت نیاز لکھویرا کے مجموعہ کلام کی اشاعت کے ساتھ مشر وط تھی تو نیاز کواپنا مجموعہ کلام بہت پہلے ہی شائع کروالینا چاہئے تھا۔
حاضرین محترم میں معذرت خواہ ہوں کہ مجھے ایک ڈکٹیٹر کے حوالے سے اپنے مضمون کا آغاز کرنا پڑا لیکن اس کا کیا کر یں کہ جمہوریت کی بحالی اور پریس کی آزادی کے بعد سے اس نوعیت کے خیالات ہم اکثر بیان کرتے رہتے ہیں ۔ اور پھر” ابر ہوا اور بارش“ کا تو میں نے گزشتہ گیارہ سالہ آمریت کے پس منظر میں ہی مطالعہ کیا ہے اور نیازلکھویرا مجھے ان معدودے چند شاعروں میں سے ایک نظر آ یا ہے جس نے ظلم جبر اور تشدد کی اُس فضا
میں بھی اپنا مدعا بیان کرنے سے گریز نہیں کیا۔ بحالی ء جمہوریت کی جدو جہد میں شریک رہنے والے قلم کاروں کو اگر میں نے معدودے چند کہا ہے تو اس میں حیرت کی ایسی کوئی بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جبر اور ظلم کے گیارہ برسوں میں چند قلمکارہی ایسے تھے جنہوں نے حق وصداقت کا پرچم بلند رکھا۔ ورنہ اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو سرکاری مشاعرے پڑھنا اور اہل قلم کانفرنس میں شرکت کرنا ہی اپنے لئے سب سے بڑا اعزاز سمجھتے تھے کہ وہ حاکم وقت کی مدح سرائی کرتے تھے، اس کی شان میں نظمیں لکھتے تھے اور صدارتی ایوارڈ کے حقدار ٹھہراۓ جاتے تھے۔
اس دور میں جب ادب کو اسلامیات کا حصہ بنا دیا گیا بڑے بڑے ترقی پسندوں نے اپنی ترقی پسندی کو بالائے طاق رکھ کر ادب کو تاریخ بنانے کی کوشش شروع کر دی ۔نعتوں کے مجموعے اس نیت سے شائع نہیں کراۓ جاتے تھے کہ اس سے مذہب یا ادب کی کوئی خدمت مقصودتھی۔ بلکہ مقصد یہ ہوتا تھا کہ نعتیہ مجموعہ شائع کرا کے حاکم وقت کی خوشنودی حاصل کی جائے ۔ در حقیقت اس دور میں ادب میں ممتاز مقام حاصل کرنے کیلئے حاکم وقت کی قربت ہی کوضروری سمجھا جاتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فیض احمد فیض کو تو ذرائع ابلاغ سے بلیک آؤٹ کر دیا گیا اور مظفر وارثی اردو کے سب سے بڑے شاعر قرار پائے ۔ یہ ا لگ بات کہ لوگوں کو آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مظفر وارثی کی شاعری زیادہ اچھی ہے یاترنم ۔؟ ”نقوش“ کے ایڈیٹر محمد طفیل دورِ ضیاع سے قبل اپنے رسالے کے یادگار ادبی نمبر شائع کیا کرتے تھے ۔ اس دور میں انہیں” قرآن نمبر“ چھاپ کر اتنا مالی فائد ہ ہوا کہ انہوں نے ادب کو پس پشت ڈال کر عاقبت سنوارنا ہی بہتر جانا۔ غیر جمہوری دور میں بیورو کر یسی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہو جاتی ہے ۔ گزشتہ گیارہ برسوں کے دوران جہاں بیورو کر یٹوں نے زندگی کے دوسرے شعبوں پر مضر اثرات مرتب کیے وہیں ادب بھی ان سے محفوظ نہ رہ سکا ۔ ہر تیسر ا ڈ پٹی کمشنر یا تو ادیب بن گیا یا پھر ادب شناس ۔ سرکاری تقریبات چونکہ انہی بیورو کریٹس کی نگرانی میں منعقد ہوتی تھیں اس لئے ادیبوں اور شاعروں کو بلیک میل کرنے کے لئے ان تقریبات کا سہارا لیا گیا ۔ ہر ادبی تقریب کی صدارت کسی غیر ادیب بیورو کر یٹ سے کرائی جانے لگی ۔ کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں نے انتظامی امور کو پس پشت ڈال کر شاعری شروع کر دی یا پھرانشائیہ نگاری کی طرف مائل ہو گئے ۔ان کی کتابیں بھی دھڑا دھڑ شائع ہونے لگیں اور شائع کیوں نہ ہوتیں پبلشر کو معلوم ہوتا تھا کہ میں جس کتاب پر رقم خرچ کر رہا ہوں اسے جتنا بھی چھاپ لوں اس کی نکاسی آسانی سے ہو جائے گی ۔ بیورو کر یسی نے ادب پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد ایک طرف تو جمہوریت پسند ادبیوں کا ناطقہ بند کیا اور دوسری طرف ایسے غیر ادبیوں کو متعارف کرایا جنہیں عام حالات میں شاید کبھی بھی ادب میں کوئی مقام حاصل نہ ہوتا ۔ ابھی چند روز پہلے کی بات ہے ملتان میں یہاں کے ایک ڈپٹی کمشنر ”ادیب“ کے تبادلہ کے موقع پر ان کی آخری رسومات انتہائی شان وشوکت کے ساتھ ادا کی گئیں ۔ادیبوں اور شاعروں نے ڈپٹی کمشنر کی شان میں قصیدے پڑھے۔ انہیں سلطان باہو سے بڑا شاعر ، وزیر آغا سے بڑا انشائیہ نگار اور اقبال سے بڑا فلسفی قرار دیا گیا ۔ ایسی آہ وزاری ہوئی کہ گویا ہر مقالہ نگار کا حق نمک بھی ادا ہوگیا۔یہ سب مارشل لاء دور کی مہربانیاں ہیں ۔ادیب اور شاعر چھوٹے مفادات میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔
لیکن اب دور بدلا ہے تو آمریت کے ہاتھ مضبوط کرنے والے ایک بار پھر اپنا چولا بدل رہے ہیں ۔ وہ جو ضیاءالحق کی شان میں قصیدے لکھا کرتے تھے اب اسکی مخالفت کررہے ہیں۔ مارشل لاء دور میں انٹیلی جنس والوں کو ادیبوں کی رپور ٹیں بھیجنے والے ”قلم کار“ خود کو اب جمہوریت کا چیمپیئن کہتے ہیں ۔ گیارہ سال تک فوج سے تمام مراعات حاصل کرنے والے ایک ادیب کا کہنا ہے کہ ضیاء دور میں مجھ پر بہت ظلم ہوا شنید یہ ہے کہ مظفر وارثی بھی چند روز میں یہ دعوی کر دیں گے کہ میں گیارہ سال تک نعتیں پڑھ پڑھ کر آمریت کے خلاف جہاد کرتا رہا ہوں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گیارہ سال تک آمریت کے ہاتھ مضبوط کرنے والے ہی آمریت کے خلاف جہاد کرتے رہے ہیں تو پھر احمد فراز ، حبیب جالب ، کشور ناہید، جاوید شا ہین، منو بھائی، مسعود اشعر اور نیاز لکھو یرا نے گزشتہ گیارہ برسوں کے دوران کیا کیا ؟ یہی ایک سوال ”ابر ہوا اور بارش “کے مطالعہ کے دوران بار بار مجھے پریشان کرتا رہا۔ اور یہ جو میں نیاز لکھویرا کی شاعری کی آڑ میں گیارہ سال کے دوران ادب کے نام پر ہونے والی بے ادبیوں کا تذکرہ کرتا رہا ہوں تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نیاز لکھویرا کی شاعری میں گزشتہ گیارہ برس کی کہانیاں تمام تر جزئیات کے ساتھ بیان کی گئی ہیں ۔ مجھے اس کتاب کے مطالعے سے اس دور کے تمام سماجی سیاسی و معاشرتی مسائل یاد آ گئے ۔ کتاب کے فنی محاسن تو یہاں موجود بعض دیگر قلم کاروں نے بھی بیان کر دیئے مجھے تو یہی کہنا تھا کہ یہ کتاب ہمیں اچھے دنوں کی بشارت دیتی ہے ۔ ہم ابر ہوا اور بارش کو ترس رہے تھے لگتا ہے کہ اب بادل بھی آ چکے، ہو ابھی چلنے والی ہے اور جلد ہی بارش بھی اس دھرتی پر مہربان ہو جائی گی ۔ محبت کی بارش ، امن اور آشتی کی بارش ۔

19 جنوری 1989 ء کو لکھا گیایہ مضمون کتاب ”آدھا سچ “۔۔مطبوعہ 2005 ء میں شامل ہے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker