کالملکھارینور الہدیٰ شاہ

نور الہدیٰ شاہ کا کالم : میری زندگی کی دو کہانیاں

کچھ کہانیاں انسان کی پرورش اور تربیت کے دوران اس کے خون میں شامل ہو کر اس کے ساتھ ساتھ عمر کا سفر طے کرتی ہیں اور زندگی گزارنے کے ہُنر یا گُر کے طور پر ایک گہرا اثر چھوڑ جاتی ہیں۔
آج 22 جولائی کا دن میرا یومِ پیدائش لوٹ آیا ہے تو جانے کیوں مجھے دو ایسی کہانیاں یاد آ گئی ہیں جو مجھے ہمیشہ میری بنیاد کی تہوں میں پڑی ملی ہیں۔اس طرح کی کہانیاں اب ناپید ہو چکی ہیں جو زندگی میں انسان کی جڑوں کو ہرا بھرا رکھنے کا کام کرتی ہیں۔مگر میں اپنے پاس بچ رہ گئی وہ دونوں کہانیاں اپنے بچوں کو بھی اکثر سنایا کرتی ہوں۔آج جب میں اپنے ارد گرد کا ماحول، لوگوں کا رویّہ، ملکی اور سماجی حالات کو دیکھتی ہوں تو بھی وہ کہانیاں میرے اندر ایک مضطرب سی کروٹ لیا کرتی ہیں۔
پہلی کہانی:
بچپن میں میرے لیے ایک رسالہ آیا کرتا تھا ’’بچوں کی دنیا‘‘۔ مجھے بچپن سے باشاہوں اور ملکاؤں کی کہانیاں پسند نہیں تھیں، اس لیے بچوں کی دنیا بس آتا تو تھا پر میں پڑھتی نہیں تھی۔ میری اماں اس زمانے کی تھیں جب الف لیلوی کہانیاں ہزاروں راتوں پر محیط ہوا کرتی تھیں۔ اس لیے ’بچوں کی دنیا‘ وہ بڑے شوق سے پڑھا کرتی تھیں۔
ایک کہانی انہوں نے میرے بچپن کے اُن دنوں ’بچوں کی دنیا‘ میں پڑھی تھی اور نوّے سال سے اوپر تک کی زندگی کے دوران اکثر، زندگی کے کئی معاملات پر عجب انداز سے سناتی رہیں۔
کہانی ختم کرتے کرتے ان کی آواز بھر آتی اور انگلی اٹھا کر گویا وارننگ دیتے ہوئے کہتیں ’’ڈرو اُس دن سے‘‘
کہانی یوں تھی۔
ایک بادشاہ شکار پر گیا۔ پیچھے کنیز بادشاہ کی خواب گاہ کی صفائی کرنے لگی۔ بستر صاف کرتے ہوئے اس نے سوچا کہ میں بھی تو ذرا اس بستر پر سو کر دیکھوں کہ یہ نرم، ریشمی اور آرام دہ بستر سوتے میں کیسا محسوس ہوتا ہے!
کنیز نرم اور ریشمی بستر پر لیٹی تو آنکھ لگ گئی۔
بادشاہ لوٹا تو کنیز کو بستر پر سوتا ہوا پایا۔ سخت ناراض ہوا۔
کنیز پر بادشاہ کا غیض و غضب اس حکم کی صورت ٹوٹا کہ اس گستاخ کو کوڑے مارے جائیں جو ہمارے بستر پر سونے کی جرات کرتی ہے۔
حکم کی بجا آوری ہوئی اور کنیز پر کوڑے برسائے جانے لگے۔
جوں جوں کوڑے مارے جاتے، کنیز کمبخت ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوئی جاتی۔
بادشاہ اس کی ہنسی سے زچ ہوا جاتا تھا۔ بلآخر پوچھا کہ اے بدنصیب اور گستاخ کنیز! اتنی سخت سزا پر ہنستی کیوں ہے؟
کنیز نے ہنستے ہنستے کہا، جہاں پناہ ہنستی اس بات پر ہوں کہ میں تو اس بستر پر چند گھنٹے سوئی ہوں، اور میرا یہ حشر ہوا ہے۔
آپ جناب جو عمر بھر اس بستر پر سوئے ہیں، آپ کا کیا ہوگا!
کہانی کے اس اختتام پر پہنچ کر اماں بھر آئی ہوئی آواز میں انگلی اٹھا کر کہتیں ’’ڈرو اس دن سے‘‘
دوسری کہانی:
دوسری کہانی پورا بچپن بابا نے اپنے پہلو میں، اپنے بازو پر لٹا کر سنائی۔
لاہور کی گرمیوں بھرے آنگن میں ایک ہی چارپائی پر لیٹے ہوئے میں کہانی سننے کے ساتھ ساتھ ستارے گنا کرتی اور بابا بھی آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے وہ کہانی جانے کتنی بار دہرا رہے ہوتے۔
یوں دھیرے دھیرے وہ کہانی میری رگوں میں اترتی رہی۔
یہ وہ عمر تھی جب نہ یہ سمجھ تھی کہ گناہ کیا ہوتا ہے اور گنہگار کیا ہوتا ہے!
کہانی یوں تھی کہ حضرت موسیٰ کی قوم پر قحط کا وقت گزر رہا تھا۔ بارش کو برسنے کا حکم نہ ہوتا تھا اور زمین سوکھ کر پتھر ہو چکی تھی۔ قومِ موسیٰ سخت بے چین اور پریشان تھی اور حضرت موسیٰ کو للکارتی تھی کہ اے موسیٰ اگر تو سچا نبی ہے تو اپنے رب کو کہہ کہ بارش برسائے۔
حضرت موسیٰ نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی۔ جواب آیا کہ اپنی قوم کو ایک میدان میں جمع کر اور انہیں کہہ کہ اجتماعی دعا مانگیں۔ حضرت موسیٰ نے قوم کو جمع کیا اور اجتماعی دعا کے لیے کہا۔
قوم ابھی دعا مانگ ہی رہی تھی کہ فرمانِ خداوندی آیا کہ اے موسیٰ تیری قوم میں ایک ایسا گنہگار موجود ہے جس کی وجہ سے پوری قوم پر یہ عذاب آیا ہے۔
اس گنہگار کو کہہ کہ اٹھ کھڑا ہو اور تیری قوم سے نکل جائے۔ پھر بارش برسے گی۔
حضرت موسیٰ نے قوم کو پیغامِ خداوندی سنایا کہ تم میں ایک بڑا گنہگار موجود ہے جس کی وجہ سے سب پر عذاب آیا ہے۔ وہ اٹھے اور نکل جائے۔
اب قوم لگی ایک دوسرے کی طرف دیکھنے۔ قوم میں وہ گنہگار بھی موجود تھا جس کے لیے فرمان آیا تھا۔ وہ بھی سمجھ گیا کہ اشارہ میری طرف ہے۔ دل ہی دل میں خدا کے حضور گڑگڑایا کہ بے شک میں ہی وہ گنہگار ہوں۔ پر یہ صرف تو جانتا ہے۔ اگر میں اٹھ کھڑا ہوا تو یہ انبوہ مجھ پر ٹوٹ پڑے گا اور کُچل دے گا۔ معاملہ تیرے میرے بیچ ہے۔ مجھے اس انبوہ کے حوالے نہ کر۔
ابھی کوئی گنہگار اٹھا ہی نہ تھا کہ بادل بھر آئے اور بارش نے زمین کو جل تھل کر دیا۔
حضرت موسیٰ کی گستاخ قوم حضرت موسیٰ پر برس پڑی کہ اے موسیٰ تو نے جھوٹ بولا۔ دیکھ ابھی کوئی گنہگار اٹھا ہی نہیں کہ بارش برس پڑی۔
حضرت موسیٰ نے خدا سے شکوہ کیا کہ یہ کیا میرے رب! تو نے اپنے نبی کو اس کی قوم کے سامنے شرمندہ کر دیا!
جواب آیا کہ اے موسیٰ!
اپنی قوم کو بتا کہ یہ جو بارش برس رہی ہے، یہ اُسی گنہگار کے طفیل برس رہی ہے۔
کہانی کے اختتام پر بابا کی آواز بھر آتی تھی اور وہ چپ ہو جاتے تھے۔
میں موسیٰ کی قوم کے انبوہ کا تصور کرتے ہوئے آسمان پر ستاروں کے ہجوم میں اس ایک گنہگار کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے سو جاتی تھی!

( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker