2018 انتخاباتکالملکھارینصرت جاوید

ایوب خاں کا ”عہد زریں“ لوٹ آنے کی خواہش: برملا / نصرت جاوید

مرنے سے نہیں معذور ہوجانے سے بہت خوف محسوس ہوتا ہے۔ شاید اسی باعث گاڑی چلاتے ہوئے دھیان کو بھٹکنے سے بچانے کے لئے موسیقی نہیں سنتا۔ نہ ہی ریڈیو چلاتا ہوں عید کے روز مگر ایسا نہ ہوپایا۔ عید کی ذمہ داریوں سے فارغ ہوکر بستر پر لیٹنے سے اُکتاگیا تو اپنے کتوں کوگاڑی میں لاد کر بکریوں اور بھینسوں سے ملنے کو روانہ ہوگیا۔ ریڈیو گاڑی چلاتے ہی آن ہوگیا میں اسے آف نہ کرپایا۔
ایک پروگرام تھا جس کا اینکر یا RJایک ایسا فرد تھا جو عورت اور مرد کے مابین فطری طورپر واضح ہوئی تقسیم سے ماورا سنائی دے رہا تھا۔ اس کی آواز سے زیادہ اہم بات اس پروگرام کا Contentتھا۔ پروگرام میں اس امر کے بارے میں مسرت کا اظہار ہو رہا تھا کہ عورت اور مرد کے مابین تفریق سے ماورا افراد کو نہ صرف ووٹ کا حق مل گیا ہے بلکہ ان میں سے چند افراد براہِ راست انتخاب میں بطور امیدوار حصہ بھی لے رہے ہیں۔ پروگرام میں حصہ لینے والوں کو مگر دُکھ اس بات کا تھا کہ سوائے عمران خان صاحب سے ناراض ہوئی محترمہ عائشہ گلالئی کے کوئی اور سیاسی جماعت یا رہنما ان لوگوں کو یہ انتخاب لڑنے کے لئے ٹکٹ دینے پر آمادہ نظر نہیں آ رہے۔ اس پروگرام میں لائیو کال کی سہولت بھی میسر تھی۔ اس صنف کے مختلف افراد نے لہذا فون کے ذریعے اس پروگرام میں حصہ لیا۔ ہر نمایاں سیاست دان کا نام لے لے کر ان سے فریاد کی کہ وہ اپنی جماعت سے انہیں انتخاب میں حصہ لینے کے لئے ٹکٹ فراہم کرنے کا بندوبست کریں۔ سیاست دانوں سے اگرچہ اس پروگرام میں حصہ لینے والے تمام افراد بہت اکتائے ہوئے تھے۔ انہیں شکوہ تھا کہ پارلیمان میں پہنچ کر عوامی نمائندگان بجائے عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ دینے کے اقتدار واختیار تک اپنی رسائی کو ذاتی طمع کی تسکین کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی ایک کے نام لے کر پروگرام میں حصہ لینے والوں نے انہیں تضحیک کا نشانہ بنایا۔ صدر ممنون حسین ان کے طعنوں کا بالخصوص نشانہ رہے۔ پروگرام کے شرکاءکو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ وہ اس ملک کے صدر ہوتے ہوئے بھی خاموش کیوں رہتے ہیں۔ عوامی مسائل حل کرنے کے لئے متحرک نظر کیوں نہیں آتے۔ صدر ممنون حسین پران کی تنقید سے میں حیران نہیں ہوا۔ ہمارے کئی لوگ جن میں سے چند غیر ملکی یونیورسٹیوں کے طالب علم بھی رہے ہیں ”غیر متحرک“ ممنون حسین کے رویے سے اکثر نالاں سنائی دیتے ہیں۔ صدر کا لفظ سنتے ہی عمران خان صاحب جیسے آکسفورڈ کے پڑھے شخص کو بھی فیلڈ مارشل ایوب خان یاد آجاتے ہیں۔ ان کا امریکہ میں والہانہ استقبال وغیرہ میری نسل کے لوگوں کو اس عہدے کی پہچان جنرل ضیاءنے کروائی تھی۔ ان کے حکم پر تخریبی خیالات والوں کو برسرِ عام کوڑے لگائے جاتے تھے۔ بھٹو جیسے قدآور شخص کو انہوں نے پھانسی پرچڑھانے کا حکم دیا۔ افغانستان کو جہاد کے ذریعے آزاد کروایا۔ پاکستانیوں کو بارہا اسلام قبول کرنے کی ڈگر پر ڈالا۔ احترامِ رمضان کا قرینہ متعارف کروایا۔ کوٹ پتلون کو غیر اسلامی ٹھہرایا۔ ڈھٹائی سے منافقت کی راہ دکھائی۔ آئین کو 62/63دیا جس کی بدولت ہماری آزاد عدلیہ ان دنوں سیاست کو بدعنوان عناصر سے پاک کر رہی ہے۔ راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر کو حال ہی میں وہاں سے صادق وامین کی سند عطا ہوئی ہے۔ ان سے قبل عمران خان صاحب نے بھی سپریم کورٹ سے ایسی سند لے کر تاریخ بنائی تھی۔ اس سند کے میسرہوجانے کے بعد خان صاحب اپنی پارسائی کی بنیاد پر اس ملک کے وزیراعظم بھی منتخب ہوسکتے ہیں تاکہ اپنے خوابوں کا نیا پاکستان بناسکیں۔صدر کے عہدے پر براجمان ہوئے پرویز مشرف بھی بہت Dashingلگاکرتے تھے۔ ہم بدنصیب ان کی صلاحیتوں سے لیکن کماحقہ فائدہ نہ اٹھا پائے۔ ایک نہیں دوبار انہوں نے ا ٓئین کو معطل کرکے ہمیں ترقی،استحکام اور خوش حالی کی راہ پر چلانا چاہا۔ ملک دشمنوں کو لیکن ان کی لگن ہضم نہ ہوئی۔ ان دنوں متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔طبیعت ناساز ہے۔ کمر میں درد ہے قوم کی خدمت کو مگر تیار ہیں۔ عدالت مگر یہ حکم جاری نہیں کر رہی کہ وہ وطن لوٹ آئیں تو انہیں گرفتار نہ کیا جائے۔ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ اگرچہ بحال ہوچکا ہے۔ شاید کسی روز پاکستان کو کارگل تصور کرتے ہوئے اسے سر کرنے کو لوٹ آئیں۔ ذکر مگر ایک ریڈیو پروگرام کا ہو رہا تھا۔ موضوع جس کا عورت اور مرد کے مابین واضح ہوئی تقسیم سے ماورا افراد کا جمہوری عمل میں بطور شہری حصہ لینے کے امکانات تھے۔ ایمان داری کی بات ہے کہ میں ان امکانات کے بارے میں کھلے ذہن کے ساتھ غور کرتے ہوئے تھوڑی دیر کو یہ سوچنے پر بھی مجبور ہوا کہ شاید وطنِ عزیز کو Status Que (جسے طرز کہن بھی کہا جاسکتا ہے)سے نجات دلانے کے لئے عورت اور مرد کے مابین فطری تقسیم سے ماورا افراد ہی کی ضرورت ہے۔ہماری تاریخ کے سنہرے ادوار میں ایسے افراد نے اہم کردار ادا کئے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ آج سے تقریباًََ500 برس قبل چین کا ایک ایسا ہی فرد وہاں کا ”واسکوڈے گاما“ تھا۔ وہ کیرالہ کی بندرگاہ تک پہنچ گیا تھا۔ صنعتی عروج کے حصول کے بعد چین ان دنوں سمندری تجارت کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچنے کی جو کوشش کررہا ہے اس کے لئے اسی امیرالجر کے تجربات وخیالات سے رجوع کیا جارہا ہے۔ خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ مذکورہ امیر الجر مسلمان بھی تھا۔شاید اسی لئے بحرظلمات میں گھوڑے دوڑانے کو ہمہ وقت تیار۔ میری خوش فہمی مگر اس وقت غارت ہوگئی جب مذکورہ ریڈیو پروگرام میں ایک فرد کی کال آئی۔ اس نے ایک ”گرو“ کا نام لیا جس کا چیلہ اس سے ناراض ہوکر اس کالر کے فراہم کردہ گوشہ عافیت میں آگیا تھا۔ اپنا ”چیلہ“کھودینے کے بعد وہ گرو فسادی ہوگیا ہے۔ کالر کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ جو چیلہ اس نے کھویا تھا وہ ایک لاکھ روپے کے عوض حاصل کیا گیا تھا۔ کالر اور RJکے مابین گفتگو کے اختتام پر اتفاق ہوا کہ پارلیمان میں پہنچنے کے بعد چیلوں کو خریدنے والے استحصالی نظام کے خاتمے کے لئے قانون سازی کی کوشش ہوگی۔ میں نے دل ہی دل میں ان کے لئے خیر کی دُعا مانگی لیکن طے یہ بھی ہوگیا کہ ہمارے دُکھ مٹانے اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا۔کاش فیلڈمارشل ایوب خان کا عہدزریں ہی کسی صورت لوٹ آئے۔ وہ عہد مگرلوٹ آیا تو عمران خان کی صداقت وامانت سے ہم فائدہ نہیں اٹھاپائیں گے۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker