2018 انتخاباتکالملکھارینصرت جاوید

عمران خان کی ممکنہ حکومت کیلئے پیشگی چیلنجز: برملا / نصرت جاوید

صرف ایک ہفتہ رہ گیا ہے اور انتخابی گیم کچھ اس طرح کی لگی ہوئی ہے کہ تحریک انصاف کا وفاق میں حکومت تشکیل دینا تقریباََ یقینی نظرآ رہا ہے۔ اس روشن امکان کے تناظر میں عمران خان صاحب اور ان کی ٹیم کو ابھی سے عوام کو اعتماد دلانے کے لئے کچھ فیصلوں کا سادہ اور واضح الفاظ میں اعلان کرنا ہوگا۔
پاکستانی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں روزانہ کی بنیاد پر خطرناک حد تک گررہی ہے۔ کرنسی کے کئی سوداگروں کا خیال ہے کہ خان صاحب کے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کا حلف اٹھائے جانے کے روز تک شاید ہمیں 137روپے دے کر ایک امریکی ڈالر خریدنا ہوگا۔ مہنگے ڈالر کا فوری نتیجہ پیٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کی صورت میں نظر آنا یقینی ہے۔نقل وحمل کے اخراجات میں اضافے کا جواز دکانوں میں موجود اشیائے صرف کے نرخ بھی بڑھادیتا ہے۔ مہنگائی کی ایک طاقت ور لہر چل پڑی ہے جو زندگی کے تمام شعبوں پر اثرانداز ہوگی۔
تحریک انصاف اور انگریزی اخبارات میں مضامین لکھ کر مجھ جیسے عامیوں کو معاشیات کی باریکیاں سمجھانے والے دانشور،نواز حکومت کو مہنگائی کی موجودہ لہر کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔شاید وہ درست کہہ رہے ہوں گے کیونکہ اس حکومت کے دور میں ہماری درآمدات پر خرچ ہونے والی رقم اور برآمدات کے ذریعے جمع کئے زرمبادلہ ذخائر کے مابین تفاوت مسلسل بڑھتا چلاگیا۔
گزشتہ حکومت کا اگرچہ یہ دعویٰ تھا کہ ملکی معیشت کو متحرک اور جاندار بنانے کے لئے ملک کو ان درآمدات کی ضرورت تھی جو زیادہ تر ہمارے دوست ملک چین کی مدد سے لگائے بجلی کے کارخانوں اور سی پیک کے تحت سوچے مختلف منصوبوں کی مشینری اور جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل ہیں۔ ایسی درآمدات کو One Time Affairبھی کہا گیا۔ ہمیںبتایا گیا کہ کسی بڑے منصوبے کے لئے بھاری مشینری صرف ایک بار ہی منگوائی جاتی ہے۔ یہ بھینس خریدنے کے مترادف ہے۔ایک بار بھاری رقم خرچ کرو اور روزانہ کی بنیاد پر دودھ حاصل کرکے اسے بیچنا شروع کردو۔وغیرہ وغیرہ۔
نواز شریف کے ووٹ بینک نے حکومتی دعوے پر اعتبار کیا۔ بنیادی وجہ اس کی ڈالر کی قیمت تھی جسے اسحاق ڈار نے ضدی بچے کی طرح کبھی بڑھنے نہیں دیا۔ماہرین معیشت کی اکثریت اگرچہ اصرار کرتی چلی گئی کہ ڈار صاحب کی ضد کی وجہ سے پاکستانی برآمدات کو بیرون ملک بیچنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ فیصل آباد کے کارخانے میں تیار ہوا کپڑا بنگلہ دیش سے آئے کپڑے کے مقابلے میں مہنگا ہے۔ پاکستانی روپے کی قیمت کم کئے بغیر بین الاقوامی بازار میں پاکستانی کپڑے کے گاہک تلاش کرنا تقریباََ ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ عام پاکستانیوں نے مگر ان کی چیخ وپکار پر توجہ نہ دی۔ ڈار صاحب نے کسی نہ کسی صورت پاکستانی معیشت کے بارے میں ان کے لئے Feel Goodفیکٹر برقرار رکھا۔ اس فیکٹر کے برقرار رہنے کی اگرچہ کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں تھی۔
درآمدات پر خرچ ہوئی رقم اور برآمدات کے ذریعے کمائے زرمبادلہ کے مابین فرق کے علاوہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر پر دوسرا اہم بوجھ وہ قسطیں ہوتی ہیں جو غیر ملکی قرضوں کی مد میں ادا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ بسااوقات ہم ان قسطوں کو بھی بین الاقوامی منڈی سے مزید قرضے لے کر ادا کرتے ہیں جن کی شرحِ سود ورلڈ بینک یا IMFوغیرہ کے ذریعے حاصل کئے قرضوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
پاکستانی روپے پر اضافی بوجھ اس وجہ سے بھی آیا ہے کہ ا مریکی بینکوں نے حال ہی میں اپنے ہاں جمع شدہ رقوم کی شرح منافع بڑھادی ہے۔ دنیا بھر میں جن لوگوں کے پاس وافر ڈالر موجود ہیں وہ انہیں کسی کاروبار میں لگانے کے بجائے امریکی بینکوں میں جمع کرواکے ماہانہ منافع کمانا شروع ہوگئے ہیں۔ اس عمل کا اثرصرف پاکستان ہی نہیں ترکی اور ارجنٹائن جیسے ممالک میں بھی نظر آرہا ہے۔تیل وگیس کی دولت سے مالامال ہمارے ہمسایے ایران کی کرنسی کی قدر بھی خوفناک حد تک گرچکی ہے۔ ایران کے کئی ازلی دشمن تو یہ طے کربیٹھے ہیں کہ ایرانی کرنسی کی قدر میں یہ کمی ہی اس ملک کو ”بندے کا پتر“ بننے پر مجبور کردے گی۔ امریکہ یا اسرائیل کو شاید اس کی وجہ سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوگی۔ ہمیں فوری فکر مگر اپنے ملک کی معیشت کے بارے میں ہونا چاہیے۔
سادہ اور آسان نسخہ تو وہی ہے جو پاکستان کی ہر حکومت نے مشکل وقت نبھانے کے لئے استعمال کیا اور وہ نسخہ ہے IMFسے رجوع کرنا جو طویل گفت وشنید کے بعد پاکستان کے لئے کوئی Bailout Packageکا اعلان کرتا ہے۔ اس Packageپر دستخط کے بعد پاکستان کے لئے چندٹھوس اقدامات لینا بھی ضروری ہوجاتا ہے۔ان اقدامات کو ہم ”شرائط“ کہتے ہیں اور بسااوقات یہ شرائط فقط معاشی میدان تک ہی محدود نہیں ہوتیں۔ قومی مفادات کے نام پر بنائے چند اصولوں پر بھی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان کو مثال کے طورپر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس FATFنے پہلے ہی گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے۔ وجہ اس کی یہ بتائی جارہی ہے کہ ہمارے معاشی نظام پر نگاہ رکھنے والوں کے خیال میں ہمارا مالیاتی نظام ”دہشت گرد“ تنظیموں کو چندے کے نام پر ملی رقوم کو روکنے میں کمزور ثابت ہورہا ہے۔ امریکی قیادت میں قائم ہوا بین الاقوامی مالیاتی نظام جن لوگوں کو ”دہشت گرد“ کہتا ہے ہماری نظر میں محض دیندار افراد ہیں جو کھٹکتے ہیں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح۔
اقتدار سنبھالتے ہی عمران خان صاحب اور ان کی حکومت کے لئے ”کشکول اٹھاکر “IMFجیسے اداروں کے روبرو Bailout Packageکی فریاد کے لئے جانا سیاسی اعتبار سے بہت مشکل ہوگا۔ تحریک انصاف قومی مفاد کے نام پر بنائے چند اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کو بھی تیار نہیں ہوگی۔
IMFسے رجوع کرنے کے علاوہ پاکستان کو مہنگائی کی تازہ لہر سے بچانے کا تحریک انصاف کے پاس کیا نسخہ ہے اس کے سرکردہ رہ نماﺅں کو تواتر کےساتھ اسے عوام کے سامنے سادہ اور واضح الفاظ میں رکھنا ہوگا۔ تحریک انصاف کوئی Doableمتبادل متعارف نہ کرواپائی تو نواز شریف کا ووٹ بینک یہ سوچنے کو مجبور ہوگا کہ گزشتہ حکومت کے دوران اسحاق ڈار کی سوچی اور چلائی معیشت ہی بہتر تھی۔ خان صاحب نے دھرنوں وغیرہ کے ذریعے اسے مگر مستحکم نہ ہونے دیا۔ لہذا 25جولائی کو شیر کے نشان پر ٹھپہ لگاکر گزشتہ حکومت کے لئے جزا اور تحریک انصاف کے لئے سزا کا بندوبست کیا جائے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker