کالملکھارینصرت جاوید

طوافِ کوئے ملامت شاید ایک بار پھر ضروری ٹھہرے : برملا ۔۔ نسرت جاوید

پاکستان کے سیاستدانوں اور ان کی ”نااہلی اور بدعنوانیوں“ کو اخباری کالموں اور ٹی وی پروگراموں کے ذریعے ”بے نقاب“ کرنے والوں کا دل ایک بار پھر طواف کوئے ملامت کے لئے بے چین ہورہا ہے ۔”ویسے بھی یار کو مہمان کئے ہوئے“ بہت عرصہ گزر چکا ہے۔2008ءکے بعد سے جو ”جمہوریت“ آئی تھی اس کا مزہ نہیں آیا۔ خواہش بہت شدید ہورہی ہے کہ ”کوئی آئے“۔ 1990کی دہائی سے اب تک اقتدار کے مزے لینے والے تمام سیاست دانوں کو احتساب کے کڑے عمل سے گزارے صفائی ستھرائی ہوجائے تو 62/63کا استعمال کرتے ہوئے ایک بار پھر انتخابات بھی کروادئیے جائیں۔شاید اب کی بار کڑے احتساب اور صفائی ستھرائی کے بعد جو سیاست دان نمودار ہوں وہ اس ملک کی قسمت سنوارنے کے فریضے کو انتہائی اخلاص سے سرانجام دینا چاہیں۔
جی ہاں، جگہ یہ وہی ہے جو ایک فلمی گیت کے مطابق بالکل وہی ہے ”گزرے تھے ہم جہاں سے“۔ دین ودل عزیز رکھنے والے عموماََ اس جگہ سے گزرنا نہیں چاہتے۔ہم نے ”اس گلی“ میں لیکن قیامِ پاکستان کے تین سال بعد ہی جانا شروع کردیا تھا۔ ایوب کھوڑو سندھ کے وزیراعلیٰ ہوتے تھے۔ موصوف کراچی کو سندھ سے جدا نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ نجات ان سے پانا ضروری ٹھہرا تو انسدادِ رشوت ستانی کا ایک سخت قانون متعارف ہوا۔ موصوف اس کا شکار ہوئے۔ ”اپنی اوقات“ سے نکلے سیاستدانوں کو راہِ راست پر رکھنے کی کوششیں اس کے بعد بھی مسلسل جاری رہیں۔ بالآخر 1958آ گیا۔ جنرل ایوب فیلڈ مارشل ہوگئے۔ ہمیں ”دیدہ ور“ مل گیا۔ اپنے اقتدار کے آخری سالوں میں انہیں مگر پرواز میں کوتاہی نظر آنے لگی۔ اس رزق سے موت اچھی کہتے ہوئے استعفیٰ دے کر گھر بیٹھ گئے۔ موصوف کے بعد نمودار ہونے والے تمام ”دیدہ وروں“ کو بہت آن بان اور دھوم دھڑکے سے گزارے کئی سالوں کے اختتامی ایام میں ہمیشہ کوتاہی پرواز ہی کا شکوہ رہا۔
جنرل ضیاالحق نے جب اپنی ہی بنائی اسمبلیوں اور وزیر اعظم کو 1988میں گھر بھیجا تو ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے دھاڑیں مار کر روتے رہے۔ جنرل پرویز مشرف استعفیٰ دینے پر مجبور ہوئے تو آنکھوں میں امڈ آئے آنسوﺅں کو روکتے ہوئے پاکستان کا ”خدا (ہی) حافظ“ کہنے پر مجبور ہوگئے۔
فیض احمد فیض کو مگر مقتل میں سجے ڈرامے کے انجام سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔وہ اس ”سج دھج“ ہی سے مسحور رہے جس کے ساتھ دلاور اوردیدہ ور مقتل کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔ان دنوں کا ”مقتل“ وطن عزیز میں سپریم جوڈیشل کونسل کی عمارت ہے۔JIT کے سامنے پیشیاں ہورہی ہیں۔ وہ تمام دستاویزات اور اعترافی بیانات جو جنرل مشرف کے احتساب بیورو والوں نے بہت محنت سے جمع کئے تھے ان کے دور میں استعمال نہ ہوپائے۔ انہیں دراز میں بند کرکے نواز شریف کو پورے خاندان سمیت سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ وہ سعودی عرب چلے گئے تو مجھے جنرل مشرف کے کئی چاہنے والوں نے اکثر بڑی رعونت سے اطمینان دلایا کہ اپنے وطن سے جلاوطن ہوکر سعودی عرب میں پناہ گزین ہوئے حکمران ”عیدی امین“ کی طرح تاریخ کی تاریکیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ نواز شریف مگر عیدی امین نہ بن پائے۔ پاکستان کے تیسری بار وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں۔ اس حیثیت میں انہوں نے چار سال بھی مکمل کرلئے ہیں۔ محسوس ہورہا تھا کہ 2013کے بعد ایک اور حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرے گی۔ اس کے بعد انتخابات ہوں گے۔ خلقِ خدا ووٹوں کے ذریعے موجودہ حکمرانوں کو جزا یا سزا کے عمل سے گزارے گی۔ اپریل 2016میں لیکن پانامہ ہوگیا۔
پانامہ کے بعد بہتر تو یہی تھا کہ ہمارے سیاستدان باہم مل کر منکشف ہوئی دستاویزات کا بغور جائزہ لیتے۔ ٹیکس چوری یا منی لانڈرنگ کے الزامات جن 400کے قریب افراد پر ان دستایزات کی بدولت لگے نظر آئے، ان کی صداقت طے کرنے کے معیار طے ہوتے۔ ماضی کی خطاﺅں کا مختلف سزاﺅں کے ذریعے خمیازہ وصول کیا جاتا۔ اس سارے عمل کے نتیجے میں لیکن ہمیشہ کے لئے یہ بھی طے ہوجاتا کہ خوش حال طبقات کو خلقِ خدا کی محرومیوں میں کمی لانے کے لئے ریاست کو محاصل کی صورت کچھ حصہ ہر صورت دینا ہے۔ اس سے مفر ممکن ہی نہیں۔
System مگر ایک لفظ ہے جس سے بحیثیت قوم ہمیں چڑ ہے۔ پانامہ کی دستاویزات منکشف ہوئیں تو ہم شریف خاندان کے بارے میں ”پھڑیاگیا جے“ والی لذت اٹھانا شروع ہوگئے۔ ہماری اس لذت میں سپریم کورٹ بھی اپنا حصہ لینے اور ڈالنے کوتیار ہوگیا۔ کریڈٹ اس سارے عمل کا اگرچہ عمران خان لے گئے جنہوں نے اپنے مداحین کے بقول پاکستان کی تاریخ میں ”پہلی بار“ طاقت ور لوگوں کو عدالتی کٹہرے میں کھڑا ہونے پر مجبور کیا ہے۔ تیسری بار منتخب ہوئے وزیر اعظم کو معزز ججوں کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کا ”گاڈ فادر“ کہلایا ہے۔
سپریم کورٹ کے دو معزز ججوں کی نظر میں ”گاڈ فادر“ قرار پائے وزیراعظم اور ان کے خاندان کو اب JITکے ذریعے درحقیقت اپنے ”طریقہ واردات“ کا اعتراف کرنا ہے۔ وہ مگر صاف ستھرے ہونے پر بضد ہیں۔ دستاویزات کے طومار لئے JITکے روبروپیشیاں بھگت رہے ہیں۔ اندر کی بات یہ بھی ہے کہ اپنی صفائیاں پیش کرتے لوگوں کو ”جرائم پیشہ“ ثابت کرنے میں تفتیش کاروں کو بہت مشکلات پیش آرہی ہیں۔ کسی ”سلطانی گواہ“ کی شدید ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ ”سلطانی گواہوں“ کی مہربانیوں سے ملی سزائیں لیکن کسی ملزم کو ہمارے ملک میں مجرم نہیں ہیرو بنا دیتی ہیں۔ مسعود محمود کا نام اور کردار آپ شاید بھولے نہیں ہوں گے۔
”سلطانی گواہ“ کی تلاش خود کو بے بس محسوس کرتے تفتیش کاروں کو ”بونگیاں“ مارنے پر بھی مجبور کردیتی ہے۔ قطعی اور واضح الفاظ میں دئیے اختیارات کے باوجود وہ Whatsapp اور آئی فون کے سہارے ”خفیہ“ طریقے اختیار کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ مصیبت مگر یہ بھی ہے کہ 2017کے Digital زمانے میں چیزوں کو خفیہ رکھنا ناممکن ہو گیا ہے۔ آج کا دور Wiki Leaksکا دور ہے ۔ Whistleblower ہوتے ہیں جو ٹرمپ کے برطرف کئے FBI کے ڈائریکٹرکو امریکی سینٹ کی ایک کمیٹی کے روبرو بہت کچھ کہنے پر مجبور کردیتے ہیں۔
مجھے ٹھوس اشاروں اور چند حقائق کی بنیاد پر پورا یقین ہے کہ میرے اس کالم کے چھپنے کے دن سے جو ہفتہ شروع ہو رہا ہے اس کے دوران بہت کچھ منظرِ عام پر آ جانا ہے۔ جو کچھ عیاں ہونا ہے ان کے عواقب کو سنبھالنے کو میرے بنجر ذہن میں کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ طوافِ کوئے ملامت شاید ایک بار پھر ضروری ٹھہرے۔
عمر کے اس حصے میں لیکن پہنچ گیا ہوں جہاں شاید فیض کی طرح ”سج دھج“ سے لوگوں کا مقتل جانا تو دیکھ لوں مگر ان لوگوں کو وہاں لے جانے والوں کو کوتاہی پرواز کا اعتراف کرتے ہوئے دیکھنا شاید نصیب نہ ہو۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker