تجزیےلکھارینصرت جاوید

نصرت جاویدکاتجزیہ:سری لنکا جیسے حالات کے اشارے

ابلاغ کے ہر ممکن ذریعے کو ذہانت سے استعمال کرتے ہوئے عمران خان صاحب نے اپنے دیرینہ حامیوں کو قائل کردیا ہے کہ انہیں پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے باہم مل کر قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی بدولت وزارت عظمیٰ کے منصب سے نہیں ہٹایا ہے۔ ان سے نجات پانے کا منصوبہ درحقیقت واشنگٹن میں تیار ہوا تھا۔ مبینہ منصوبے کو بروئے کار لانے کے لئے ہمارے ’’میر جعفر‘‘ بھی متحرک ہوگئے۔وہ متحرک ہوئے تو شہباز شریف کی قیادت میں ’’امپورٹڈ حکومت‘‘کھڑی کردی گئی۔
جنگ یا سازش کے ذریعے کسی ملک پر اپنی ’’ایجنٹ حکومت‘‘ مسلط کرنے کے بعد امریکہ اسے مستحکم بنانے کے لئے بھاری بھر کم اقتصادی مدد بھی فراہم کرتا رہا ہے۔ مثال کے طورپر نائن الیون کے بعد افغانستان میں بٹھائی حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتوں کو اربوں ڈالر میسر رہے۔ اس کی بدولت افغان کرنسی حیران کن حد تک مستحکم رہی جبکہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں یہ کئی دہائیوں تک ’’ٹکے ٹوکری‘‘ والی کیفیت میں رہا کرتی تھی۔
پاکستان کی ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ کو ایسی سہولت فراہم ہوتی نظر نہیں آرہی۔امریکہ کے اشاروں پر آنکھ بند کرکے عمل کرنے والا آئی ایم ایف بلکہ ساہو کاروں سے مختص سفاکی اپنائے ہوئے ہے۔ بضد ہے کہ پاکستان پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوںکو طلب ورسد کے حقائق کے مطابق طے کرے۔ اس کے علاوہ بجلی اور گیس کے نرخوں کو بھی ناقابل برداشت حد تک بڑھانے کا تقاضہ ہے۔
مبینہ امریکی سازش کی بدولت قائم ہوئی ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ فریاد کئے جارہی ہے کہ اس نے اگر آئی ایم ایف کے تقاضوں پر ہوبہو عمل کیا تو عام پاکستانیوں کی بے پناہ اکثریت برداشت نہیں کر پائے گی۔وہ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں یکمشت بھاری بھر کم اضافے کے بجائے اس ضمن میں ’’قسط وار‘‘ اقدامات لینا چاہ رہی ہے۔میرے اور آپ جیسے محدود آمدنی والے پاکستانیوں کے لئے پیٹرول کو نسبتاََ سستے داموں تک محدود رکھنے کے لئے ’’امدادی رقوم‘‘ فراہم کرنے کی نئی ترکیبیں سوچ رہی ہے۔
’’اندر کی خبر‘‘ میرے پاس نہیں ۔فقط صحافتی تجربے کی بنیاد پر یہ سوچ رہا ہوں کہ دوحہ میں پاکستان کے لئے خصوصی مذاکرات کے لئے چند دنوں سے بیٹھی آئی ایم ایف کی ٹیم ’’امدادی رقوم‘‘ کے متبادل انتظامات پر غور کرنے کو آمادہ نہ ہوتی تو وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل قطر روانہ ہونے سے گریز کرتے۔ طیارے میں بیٹھنے سے قبل انہوں نے کیمروں کے روبرو دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف والے اصرار کررہے ہیں کہ عمران حکومت کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے پیٹرول کے فی لیٹر نرخ میں سو روپے اور ڈیزل کی قیمت میں ڈیڑھ سو روپے فی لیٹر اضافے کاوعدہ کیا تھا۔ عالمی معیشت کا نگہبان ادارہ کسی بھی ملک کے وزیر خزانہ کو محض ایک فرد نہیں بلکہ ریاست کا نمائندہ سمجھتا ہے۔ اس کی نظر میں پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں جس اضافے کا وعدہ ہوا تھا وہ عمران حکومت نے نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان نے کیا تھا۔اس کی دانست میں گویا ہماری ریاست اپنے وعدے سے مکررہی ہے۔اس کے باوجود مفتاح اسماعیل کی جانب سے تیار ہوئی متبادل تجاویز پر غور کرنے کو آمادگی مثبت پیش رفت ٹھہرائی جاسکتی ہے۔
آئی ایم ایف کی دوحہ میں بیٹھی ٹیم کو مگر یہ خبر بھی یقینا مل چکی ہوگی کہ عمران خان صاحب ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ سے نجات پانے کے لئے اب ملک بھر سے اپنے حامیوں کو 25مئی کی سہ پہر تک اسلام آباد پہنچنے کی کال دے چکے ہیں۔تحریک انصاف کے 20ملین حامی گھر بار چھوڑ کر بیوی بچوں سمیت پاکستان کے دارالحکومت پہنچ گئے ۔اس شہر آنے کے بعد اسے ’’تحریر اسکوائر‘‘ بنادیا تو ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ کے لئے صبح گیا یا شام گیا والا ماحول بن جائے گا۔ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ بھی ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ کو لگام ڈالتی نظر آرہی ہے۔اس کے علاوہ افواہیں یہ بھی گردش میں ہیں کہ پاکستان جیسے ممالک میں حکومتوں کو استحکام بخشنے والے ادارے تقاضہ کررہے ہیں کہ شہباز حکومت آئی ایم کو رام کرنے کو سخت اور کڑے اقدامات لینے کے بعد نئے انتخاب کا اعلان کردے۔’’امپورٹڈ حکومت‘‘ کو مگر یہ فکر لاحق ہے کہ مطلوبہ اقدامات لینے کے بعد اس میں شامل جماعتوں کے نامزد کردہ امیدوار عوام سے ووٹ مانگنے جو گے بھی نہیں رہیں گے۔
جو ’’متبادل تجاویز‘‘ مفتاح اسماعیل زیر بحث لائیں گے ان پر عملدرآمد کے لئے مبینہ امریکی سازش کی وجہ سے قائم ہوئی ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ کو کم از کم مزید ایک برس تک اقتدار میں رہنا ضروری ہے۔اس کے بارے میں لیکن عدم استحکام کی فضا تواناتر ہوتی نظر آئے گی تو آئی ایم ایف مفتاح اسماعیل کی پیش کردہ تجاوز پر سنجیدگی سے غور کرنے کو آمادہ نہیں ہوگا۔
پاکستانی منڈی میں اسی باعث مندی کا رحجان برقرار ہے۔سٹاک ایکس چینج اور پاکستانی روپیہ مسلسل گراوٹ کی زد میں ہیں۔پیر کی صبح بازار کھلتے ہی تھوڑا استحکام نظر آنا چاہیے تھا کیونکہ وزیر خزانہ دوحہ روانہ ہوچکے تھے۔ مفتاح اسماعیل کے سفر سے امید باندھنے کے بجائے ’’بازار‘ ‘ نے مگر عمران خان صاحب کے 25مئی کو بلائے احتجاج کو زیادہ سنجیدگی اور پریشانی سے لیا ہے۔’’امپورٹڈ حکومت‘‘ اگر 25مئی کے روز شروع ہونے والے ہنگاموں کے روبرو ڈھیر ہوگئی۔ اس کی وجہ سے قومی اسمبلی تحلیل کروانے کے بعد نئے انتخاب کی تاریخ دینے کو مجبور ہوگئی تو اس کی جگہ انتخابات کی نگرانی کے لئے قائم ہوئی ’’عبوری حکومت‘‘ کو بھی آئی ایم ایف سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں ہوگی۔ ممکنہ طورپر اس میں شامل رضا باقر اور حفیظ شیخ جیسے ٹیکنوکریٹ بھی عالمی معیشت کے نگہبانوں کو رام نہیں کر پائیں گے۔دنیا کو پیغام مل جائے گا کہ پاکستان میں عمران خان صاحب بھرپور عوامی حمایت کے ساتھ یک وتنہا فیصلہ ساز بن چکے ہیں۔وطن عزیز میں ان کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ دنیا کے دیگر ممالک اور آئی ایم ایف جیسے عالمی ادارے لہٰذا عمران خان کے حکومت میں لوٹنے کا انتظار کریں گے۔اس کے بعد یہ بھی دیکھا جائے گا کہ وہ سازش کرنے والی بائیڈن حکومت کو معاف کرنے کو تیار ہیں یا نہیں۔دریں اثناء ہمارے بازار میں مندی کا رحجان جاری رہے گا اور پاکستانی روپے کی قدر تاریخی حدوں تک گرتی رہے گی۔حالات ایسے ہی رہے تو میرے منہ میں خاک آئندہ دو سے تین ماہ بعد ہمارے ہاں سری لنکا جیسے حالات بھی نمودار ہوسکتے ہیں۔عمران خان صاحب گوریلا جنگ لڑے بغیر مگر امریکی سازش کی بدولت قائم ہوئی ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ سے نجات حاصل کرلینے کے بعد ’’تاریخ‘‘ یقینا بنادیں گے۔ افغانستان کے بعد پاکستان بھی ’’غلامی کی زنجیریں‘‘ توڑنے میں کامیاب ہوتا نظر آئے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker