تجزیےلکھارینصرت جاوید

نصرت جاوید کا تجزیہ : لاہور میں نیا لاہور اور ”تخت لہور“

دل بیروت کے بارے میں لکھنے کو بے قرار تھا۔2005میں اس شہر میں ایک ماہ گزارا تھا۔حزب اللہ اور اسرائیل کی لڑائی ہورہی تھی۔اپنے قیام کے دوران لبنان کے دیگر علاقوں میں جانے کا موقعہ بھی ملا۔ایک ہی ملک میں ریاست کے اندر موجود کئی ریاستوں کا بغور مشاہدہ کیا۔جو دیکھا تھا اسے بیان کرنے کا موقعہ مگر نصیب نہ ہوا۔ اخبار نویس کی مجبوری جو Here and Nowپر مبنی خبروں کو بیان کرنے کے بعد نئی خبروں کی تلاش میں جھونک دیتی ہے۔آج سے چند روز قبل بیروت ہی میں لیکن ایک بہت بڑی خبر بنی ہے۔یہ ’’خبر‘‘ مگر لبنان ہی نہیں اس جیسے بے تحاشہ ممالک میں ایسی تبدیلیاں لانے کا باعث ہوگی جو دوسری جنگ عظیم کے بعد بنائے ریاستی ڈھانچوں اور حکومتی بندوبست کو قصہ پارینہ بنادیں گی۔ ارادہ باندھا تھا کہ اس حوالے سے ’’نقشہ نویسی‘‘ کے لئے ٹیوے لگائے جائیں۔
پیر کی صبح اُٹھا تو جانے کیوں لاہور یاد آگیا۔ غالباََ اس کی وجہ یہ تھی کہ گزشتہ چند روز سے ہمارے میڈیا میں لاہور ہی میں ایک ’’نیا شہر‘‘ بسانے کا بہت فخر سے ذکر ہورہا ہے۔وزیر اعظم صاحب نے بذاتِ خود اس منصوبے کا افتتاح کیا۔ دعویٰ ہے کہ اس کی لاگت 5کھرب روپے تک پہنچ جائے گی۔یہ رقم لاہور میں ایک ’’دوبئی‘‘ آباد کردے گی جہاں آسمان کو چھوتی عمارتیں ہوں گی۔ درختوں کے جزیرے ہوں گے۔ایک وسیع وعریض جھیل جنگل میں منگل کا ماحول بنادے گی۔میرے کئی بہت ہی پیارے دوست ہیں۔انہیں یقین کی حد تک گماں ہے کہ میں ایک ’’مغرور اور متعصب‘‘ لہوری ہوں۔ ’’تخت لہور‘‘ کی بالادستی پر نازاں۔ پاکستان کے دیگر شہروں اور قصبوں سے ابھرے لوگوں کو ’’دانشورانہ‘‘ اعتبار سے کم تر تصور کرنے کا عادی۔ ان دوستوں نے دو روز سے مجھے ٹیلی فون پیغامات کے ذریعے طنزیہ انداز میں آگاہ کیا کہ میں لاہورہی میں ایک ’’نیا شہر‘‘ آباد ہونے کی نوید سے بہت شاداں ہوں گا۔ کوئی بعید نہیں کہ اسلام آباد میں بنائے مکان کو بیچ کر ’’نئے لہور‘‘ کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد وہاں منتقل ہونے کا فیصلہ کرلوں۔ بڑھاپے میں اسی شہر لوٹ جائوں جہاں جنم لیا تھا۔ جوانی سے آشنا ہوا تھا۔وقت نے بہت باصبر بنادیا ہے۔طنزیہ فقروں سے مشتعل ہوناتو دور کی بات ہے اپنی سوچ کی وضاحت کو بھی جی نہیں چاہتا۔
مثال کے طورپر یہ حقیقت ہے کہ مجھے اپنے بچن کا لاہور بہت یاد آتا ہے۔اس شہر کی ایک مخصوص ثقافت تھی۔ ہر گلی کا ایک خاص مزاج تھا۔اس کے علاوہ میرا سکول اور کالج بھی یادوں کا ایک ذخیرہ ہیں۔ لاہور میں پیدا ہونا مگر میرا ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ مقدر تھا۔ اس کے بارے میں فخر محسوس کرنے کی گنجائش نہیں۔مان ا س حقیقت پر کیا جانا چاہیے جو آپ کے ذاتی فیصلوں اور کاوشوں کے ذریعے نمودار ہوئی محسوس ہو۔یہ عرض کرنے کے بعد اصرار کرنے کو مجبور ہوں کہ لاہور بنیادی طورپر ایک دریا کے کنارے آباد ہوا تھا جس کا نام راوی تھا۔ اس دریا کو سندھ طاس معاہدے کی بدولت 1960کی دہائی میں ہم نے بھارت کے حوالے کردیا تھا۔راوی سے دست بردار ہونے کے بعد لاہور کو پھیلانے کی گنجائش برقرار نہیں رہی۔ پانی کی فرواوانی اور یقینی ترسیل ہی شہروں کو آباد رکھتی ہے۔جلا ل الدین اکبر نے بے شمار وجوہات کی بنا پر آگرہ کے قریب فتح پور سیکری کو دارالحکومت بناکر آباد کیاتھا۔اس کے پوتے کو مگر احساس ہوا کہ شہروں کی رونق کو یقینی بنانے والا آبی نظام وہاں موجود نہیں۔دلی ہی میں ’’شاہجہان آباد‘‘ بناکر وہاں کے لال قلعے میں لوٹ آیا۔1857کی جنگ یاغدر جیت لینے کے بعد انگریزوں نے پرانی دلی کی جگہ نئی دلی بنائی۔لیوٹن اس کا نقشہ نویس تھا۔وہ بن گیا تو 1911میں کلکتہ کی جگہ نئی دلی ’’برطانوی ہند‘‘ کا دارالحکومت ہوگیا۔ غالبؔ اگرچہ آخری عمر میں ’’ہائے دلی،وائے دلی،بھاڑ میں گئی دلی‘‘ کہتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔
دلی اگر آج بھی آباد ہے تو بنیادی وجہ اس کی دریائے جمنا ہے۔لندن کی کئی صدیوں سے رونق کا سبب دریا ئے ٹیمز ہے۔ پیرس کو ’’سین‘‘ نامی دریانے آباد رکھا ہے۔ راوی کے بغیر لاہور کیسے پھیلتا چلا جائے گا۔کم از کم میرا کند ذہن اس کا جواب فراہم کرنے سے قاصر ہے۔
سنا ہے تاریخ میں لاہور کو ’’یکے ازمضافات ملتان‘‘ کہا جاتا تھا۔شاید اس کا حتمی مقدر بھی یہ ہو۔حیران کن حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ لاہور میں ایک اور نیا شہر بسانے کی سعادت ڈیرہ غازی خان سے تشریف لائے عثمان بزدار صاحب کو نصیب ہوئی۔ 2018کے انتخابات کے بعد مجھ جیسے کم فہم لوگوں کو یہ سمجھایا گیا تھا کہ عثمان بزدار صاحب ’’جنوبی پنجاب‘‘ کے احساس محرومی کے ازالے کے لئے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر بٹھائے گئے ہیں۔امرتسر کے نواحی جاتی امراء سے لاہور میں آباد ہوئے شریف خاندان کے نواز شریف اور شہباز شریف نے تمام ریاستی وسائل اس شہر کو ’’جدید تر‘‘ بنانے میں جھونک دئیے تھے ۔لاہور سے ان کی محبت نے ’’جنوبی پنجاب‘‘ کے علاقوں میں احساس محرومی کو سنگین تر بنادیا۔ 2018کے انتخابات کے قریب مخدوم خسرو بختیار جیسے دیدہ وروں نے ’’جنوبی پنجاب‘ کو ’’تخت لہور‘‘ کی غلامی سے آزاد کروانے کی تحریک کا اعلان کیا۔عمران خان صاحب کے ’’بیرم خان‘‘ جیسے جہانگیر ترین نے مگر انہیں سمجھایا کہ میانوالی کے فرزند بھی ’’تخت لہور‘‘ کی بالادستی سے بیزار ہیں۔ خسرو بختیار کی تنظیم اپنی پیدائش کے چند دن بعد ہی لہٰذا تحریک انصاف میں ضم ہوگئی۔ان دونوں کے ملاپ کی بدولت جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف کی ٹکٹ پر کھڑے افراد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب کو Sweepکرگئے۔’’تخت لہور‘‘ کی بالادستی برقرار نہ رہی۔اس بالادستی کے احیاء کو ناممکن بنانے کے لئے عمران خان صاحب نے تونسہ کے عثمان بزدار کو وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز کیا۔ اس نیک طینت بزدار کے خلاف مگر روز اوّل سے سازشیں ہورہی ہیں۔ اب نیب بھی انہیں ’’بدنام‘‘ کرنے میں مصروف ہوگیا ہے۔ عمران خان صاحب پاکستان کو ’’ریاست مدینہ‘‘ بناناچاہ رہے ہیں۔اس ریاست کے اہم ترین ’’صوبے دار‘‘ پر مگر الزام یہ لگاہے کہ انہوں نے شراب کی فروخت کا پرمٹ جاری کردیا۔ غالباََ بزدار صاحب ’’پرمٹ‘‘ کے اجراء کی ذمہ داری سے اپنی لاتعلقی ثابت کرسکتے ہیں۔الزام مگر گھنائونا ہے اور جھوٹا ثابت ہوجانے کے بعد بھی لیڈی میکبتھ کے Spotکی طرح ان کی ذات پر چپکارہے گا۔غیبت فروش اسے ریگولر اور سوشل میڈیا پر اچھالتے رہیں گے۔
ذاتی گلہ اگرچہ مجھے عثمان بزدار صاحب سے یہ رہے گا کہ انہیں دریائے چناب کے کنارے سرائیکی علاقے ہی میں کوئی ’’نیا شہر‘‘آباد کرنا چاہیے تھا۔ وہ ہوجاتا تو طویل المدتی بنیادوں پر لاہورتیزی سے ’’یکے ازمضامات ملتان‘‘ میں بدلنا شروع ہوجاتا۔ ملتان سے رحیم یار خان تک پنجاب میں ’’زندہ دریا‘‘ کے کنارے کوئی نیا شہر آباد کرنے کی گنجائش میسر نہیں تھی تو شہروں کی رونق کو یقینی بنانے والے آبی نظام کی حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک ’’نیا شہر‘‘ میانوالی کے نواحی کالا باغ میں بھی تعمیر ہوسکتا تھا۔وہاں سے چکوال تک سیمنٹ کے کئی کارخانے بھی ہیں۔ ’’نیاشہر‘‘ مزید صنعتوں کو پھیلنے پھولنے کے مواقع دیتا۔وسیع تر تناظر میں پوٹھوہارکے کئی علاقے بھی تعمیراتی سرگرمی میں تیزی آنے کی بدولت خوش حال ہونا شروع ہوجاتے۔لاہور ہی میں جو ’’نیا شہر‘‘ آباد ہونے جارہا ہے اسے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے دعویٰ یہ ہورہا ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے گندے پانی کو صاف کیا جائے گا۔ میں اس دعویٰ پر اعتبار کرنے کو دل وجان سے آمادہ ہوں مگر بہتر ہوگا کہ ’’نئے شہر‘‘ کے کسی بھی سیکٹر میں رقبوں کے فروخت کے عمل کو شروع کرنے سے قبل وہاں ایسی اسکیم مکمل کی جائے جو اس سیکٹر کے لئے لازمی شمار ہوتے پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ فقط یہ عمل ہی یہ ٹھوس پیغام دے گا کہ ’’نیا شہر‘‘ بسانا محض خواب نہیں ہے۔یہ پراپرٹی کے دھندے سے متعلق کوئی نیا Scamنہیں۔
اسلام آباد لاہور موٹروے کی تعمیر مکمل ہونے کے کئی برس بعد بھی میں شاہدرہ کے پل سے اپنے آبائی شہر میں داخل ہونے کا عادی رہا ہوں۔2010کی ایک صبح مگر وہاں سے داخل ہوا تو فضا میں مردار خورپرندوں کے غول نے مجھے اداس کردیا۔ اس پل کے دونوں اطراف کم عمر بچے ہاتھوں میں پلاسٹک کے شاپر لئے کھڑے تھے۔ ان میں خون سے لتھڑے گوشت کے ٹکڑے تھے۔ ’’صدقے‘‘ کے لئے اسے خرید کر مردار خور پرندوں کی جانب اچھالا جارہا تھا۔ یہ منظر دیکھنے کے بعد مجھے کبھی شاہدرہ کے پل سے لاہور میں داخل ہونے کی ہمت نہیں ہوئی۔راوی میں ’’نیا شہر‘‘ آباد کرنے سے پہلے اگر اس پل کے اطراف درخت اُگیں۔وہاں رنگ برنگے پرندے چہچاتے نظر آئیں تو اعتبار آجائے گا کہ ’’اک نیا شہر‘‘ آباد ہونے والا ہے۔

( بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker