ارے تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی ؟ عینی نے ہانی کو جائے نماز پر دعا مانگتے دیکھا تو سب سے پہلے یہی سوال کیا ۔مجھے پتا تھا تمہارا اس لیے میں جلدی آ گئی ورنہ تم نے تو بہت دیر کر دینی ہے۔
ہانی کو بھی پتا تھا عینی سب سے پہلے یہی سوال کرے گی اس لیے اس نے ہلکی سی مسکان کے ساتھ دوست کی طرف دیکھا اور پھر سے دعا مانگنے لگی ۔جیسے ہی دعا مکمل کی تو عینی پھر سے بول پڑی تمہیں پتا تھا آج یوم آزادی کے حوالے سے کالج میں تقریب ہے جلدی جائیں گے تبھی تو تصویریں اور وڈیوز بنا سکیں گے نا ۔ہانی نے سر ہلاتے ہوئے کہا مجھے یاد ہے سب ۔
مجھے یہ بتاؤ کیا یوم آزادی صرف تصوریں اور وڈیوز بنا کر ہی منائی جاتی ہے ؟
ہانی کے اس سوال پر عینی ایک دم چونکی مگر پھر ذہن میں کچھ سوچتے ہوئے فورا اسے جواب دیا ۔ہاں تو سب ہی ایسے مناتے ہیں اور میں نے کون سی ایسی غلط بات کہہ دی جو تم سوال کرنے بیٹھ گئی۔ غلط با لکل بھی نہیں ہے مگرایک دوست ہونے کے ناتے میں چاہتی ہوں کہ تم آزادی کے حقیقی معنوں کو جانو تا کہ تمہیں اندازا ہو کہ آزادی کی خوشی کیسے منائی جاتی ہے ۔
اچھا اب اماں نہ بنو میری ۔عینی نے بور ہوتے لہجے میں ہانی کی بات کاٹ کر کہا ۔اچھا میری بات سنو گی ؟ ہانی نے سوالیہ انداز میں عینی سے پوچھا ۔
ہاں جلدی سناؤ یار تمہاری وجہ سے دیر ہو رہی ہے ۔ صبح صبح موڈ خراب کر دیتی ہو ۔ہانی نے عینی کی اس بدتمیزی کو نظر انداز کیا۔
اگر تمہیں کسی نے ایک کمرے میں بند کر دیا تو کیا کرو گی؟
یہ کیسا سوال ہے عجیب ہو یار تم بھی ۔ اچھا بتاو نا ہانی نے اصرار کرتے ہوئے پوچھا ۔
پہلی بات کوئی ا یسا کیوں کرے گا میرے ساتھ ؟ میں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے ؟ اور دوسری بات اگر کوئی ایسا کرے گا بھی تب میں پہلے ظاہر ہے کوسشش کروں گی وہا ں سے نکلنے کی نہیں تو دعا کروں گی اللہ تعالی سے ۔
اچھا اگر وہاں کوئی انسان آ کر تمہیں آزاد کرتا ہے تو پھر کیا کرو گی ۔ہانی نے ایک دم اس سے سوال پوچھا۔
تو میں اس کا شکریہ ادا کروں گی اور ہیمشہ اس کا یہ احسان یاد رکھوں گی ۔
یہی بات تو ہے جس نے ہمیں آزاد وطن دیا تو کیا اس کا شکریہ ادا نہیں کرو گی ؟
ہانی کے سوالوں سے عینی کو مزید غصہ آ رہا تھا مگر اسے جواب دینا بھی ضروری تھا ورنہ وہ ایسے کالج جانے والی نہیں تھی ۔اچھا تو تمہارا مطلب ہے ہمیں قائداعظم کا شکریہ ادا کریں؟
نہیں سب سے پہلے ہمیں اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہئیے کہ ہم آزادی کے ساتھ اپنے ملک میں زندگی گزار رہے ہیں ۔
آزادی ؟؟؟؟؟؟؟؟
ہاہاہاہاہا عینی کے اس طرح ہنسنے پر ہانی خفا ہونے لگی میں نے کوئی لطیفہ نہیں سنایا جو اس طرح ہنس رہی ہو پاگل لگ رہی ہو با لکل ۔نہیں نہیں ہانی مجھے یہ سمجھ نہیں آتی تم کس دنیا میں رہ رہی ہو ۔پاکستان میں رہ کرہمیں کون سی آزادی ملی ہوئی ہے کون سے ایسے کام ہیں جو جہاں نہیں ہوتے ہر دوسرے دن یہاں چوریاں ہوتی ہیں سر عام قتل کر دیے جاتے ہیں ظلم و ستم ،نا انصافی فحاشی غرض کیا کیا نہیں ہوتا یہاں اپنے گھروں میں کوئی محفوظ نہیں ہے عدالتوں میں غریبوں کو انصاف نہیں ملتا بے گناہ اور غریبوں کو ہی سزائیں سنائی جاتی ہیں۔ان سب کے باوجود کیا ہم خود کو آزاد کہہ سکتے ہیں ؟
تم ہی اس بات کا جواب دو عینی پلٹ کر ہانی سے ہی سوال کر گئی۔
تمہاری ساری باتیں درست ہیں اور سچ بھی مگر کیا یہ سب کچھ شروع سے ہوتا آ رہا ہے ؟
نہیں تو ،، عینی نے فورا جواب دیا ۔
جب یہ سب کچھ پہلے نہیں تھا اور اب ہے تو اس میں قصور کس کا ہے پاکستان کا یا پاکستان پر حکمرانی کرنے والوں کا ؟
ہانی کے اس سوال پر عینی ایک دم سے گڑبڑا گئی۔
تو میری دوست مسئلہ پاکستان نہیں پاکستان کو چلانے والوں کا ہے ۔
ہمیں اختلاف آج کے حکمران سےہےنہ کہ اپنے ملک سے۔آزادی کی قدروقیمت ان سے پوچھو جنہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے آزادی کی نعمت ہمارے حصے میں دی ۔مسلمانوں کے لٹے پٹے قافلے ماوں اور بہنوں کی دردسےبھری سسکیوں کی وہ آوازیں آج بھی ہم یاد کریں تو خوف سے کانپ جائیں ۔
یہ دن تو ہمیں انسب کی قربانیوں کی یاددلاتا ہے اور آزادی کی اہمیت بتاتا ہے کہ کس طرح مسلمانوں نے اپنے لہو کے بدلے آزادی کی قیمت چکائی تھی۔کیسے علامہ اقبال کے خواب کو قائداعظم نے سچ کر دکھایا۔ہانی کی باتوں اور لہجے میں وہی دردبھر آیا جو آج سے 78 سال پہلے کی ماوں ،بہنوں کی آوازوں میں تھا ۔ہمیں وہ درد وہ لہجے کبھی نہی بھولنے چائیے ۔وہ سب قربانیاں نہ دیتے تو آج ہم غلاموں کی طرح زندگی گزار رہی ہوتے ۔
یہ دن جشن منانے کا ضرور ہے مگر اس سے پہلے ہمیں اپنے رب کا اور پھر ان سب کا شکر گزار ہونا چائیے جنکی وجہ سے آج ہم آزاد ہیں۔جب ہم باذات خود اپنےوطن کے ساتھ مخلص ہوں گے تبھی ہم کامیاب بھی ہو سکیں گے ۔پھر ہم آزادی منائیں گھروں کو سجائیں اپنا پاکستانی پرچم لہرائیں جو ہماری پہچان ہے ۔
فیس بک کمینٹ

