یہ حالیہ انسانی تاریخ کا ایک نہایت اہم موڑ ہے۔ فلسطین میں تباہی اور بڑے پیمانے پر ہلاکتیں جاری ہیں۔ دنیا بھر میں لوگ اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں اور مختلف ملکوں میں آئے روز فلسطینی عوام کی حمایت میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ یہ وہ لمحات ہیں جو تاریخ کو واضح کر دیتے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے۔ امریکہ کھل کر اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے اور جنگ بندی کے حق میں پیش ہونے والی ہر قرارداد کو ویٹو کر دیتا ہے۔
پاکستان ایک غریب ملک ہے، لیکن غربت سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس پر نااہل اور نالائق حکمران مسلط ہیں۔ اس وقت پوری دنیا قیادت کے بحران سے گزر رہی ہے، جس کی ایک بڑی مثال امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں؛ ان کا دوسری بار صدر منتخب ہونا امریکی معاشرے کی سیاسی زبوں حالی کی علامت ہے۔ پاکستان میں اس وقت ایک ہائبرڈ، یا یوں کہیے دوغلا، سیاسی نظام موجود ہے۔ بظاہر شہباز شریف وزیراعظم ہیں، لیکن سب جانتے ہیں کہ حقیقی طاقت فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پاس ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی قربت اور مسلسل رابطے جاری ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر صدر ٹرمپ سے اکیلے میں اور وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ مل کر متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ ان ملاقاتوں کے مقاصد اب خاصے واضح ہو چکے ہیں، اور پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں قیادت کے ’’چھوٹے پن‘‘ کی مثالیں کم نہیں۔ عمران خان نے اپنے دورِ اقتدار میں امریکہ میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد وطن واپسی پر اسے ورلڈ کپ جیتنے سے بھی بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔ اب شہباز شریف بھی ٹرمپ سے حالیہ ملاقاتوں کے بعد خوشی سے سرشار دکھائی دیتے ہیں۔ امریکہ کی اشیر باد کا مطلب ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی و عسکری قیادت خود کو مستحکم سمجھتی ہے۔ یہ صورتحال عمران خان اور ان کے حامیوں کے لیے یقیناً ناخوشگوار ہے۔ عمران خان کو مسیحا اور ان کی جماعت کو انقلابی سمجھنے والوں کو جان لینا چاہیے کہ وہ بھی طاقت کے مراکز کے قدردان ہیں؛ وہ سمجھتے ہیں کہ محض کسی مذہبی یا سیاسی فلسفے کے سہارے کامیابی ممکن نہیں۔ اسی لیے دو برس سے جیل میں ہونے کے باوجود ان کی امیدیں انہی عالمی و مقامی قوتوں سے وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال ان کے لیے نہایت اذیت ناک ہے۔
بین الاقوامی سطح پر پہلی مرتبہ پاکستان اسرائیل کے قریب تر دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان نے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے ٹرمپ منصوبے کی حمایت کی ہے اور اسرائیلی وزیراعظم نے بھی اس حل کو قبول کیا ہے۔ ٹرمپ منصوبے کے اہم نکات یہ ہیں:
— یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے فوری جنگ بندی اور مرحلہ وار اسرائیلی انخلا۔
— غزہ کی غیر مسلحی اور ’’انتہاپسندی سے پاک‘‘ انتظام، جس کی آزادانہ توثیق ہو؛ حماس ہتھیار ڈالے اور سیاسی کنٹرول چھوڑ دے؛ جو ارکان ہتھیار ڈالیں ان کے لیے محدود عام معافی یا محفوظ راستہ۔
— ایک عبوری ٹیکنوکریٹک انتظامیہ جو بین الاقوامی سرپرستی میں عبوری دور چلائے؛ بعض تجاویز میں عالمی شخصیات پر مشتمل بورڈ/اتھارٹی کا ذکر۔
— بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور خصوصی اقتصادی زون؛ جبری بے دخلی کی ممانعت اور اہلِ غزہ کی واپسی کی آزادی پر زور۔
— علاقائی ہم آہنگی (امریکہ–اسرائیل–قطر چینل) اور ابراہیم معاہدات کی توسیع سے جڑی وسیع تر سفارت کاری۔
اب اسرائیلی کارروائیوں پر ایک مختصر شماریاتی نظر: 7 اکتوبر 2023 سے اب تک کل فلسطینی ہلاکتیں 66 ہزار سے بڑھ چکی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 31 جولائی 2025 تک کی شناخت شدہ تقسیم میں 18,430 بچے، 9,735 خواتین، 27,605 مرد اور 4,429 معمر افراد شامل تھے۔ یہ اعداد و شمار کل ہلاکتوں کے بڑے عدد کا ایک حصہ ہیں، اور اس تاریخ کے بعد مجموعی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔
ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ انصاف، جواب دہی اور شہریوں کے تحفظ کے بغیر کوئی بھی منصوبہ پائیدار امن میں نہیں ڈھل سکتا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ جس ’’امن‘‘ منصوبے کی پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے پرزور تائید کی ہے، اس میں ان جنگی جرائم کے بارے میں واضح احتساب کی شقیں دکھائی نہیں دیتیں۔ ہماری قیادت چاہتی تو کم از کم اس نکتے پر مضبوط مؤقف اختیار کر کے احتساب کی مؤثر شرط شامل کروا سکتی تھی۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا اور شاید اسی لیے کہ ان کے نزدیک تاریخ کی نظر سے زیادہ اہم عارضی سیاسی و مالی مفادات ہیں۔
پاکستانی عوام، بالخصوص نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ بات سمجھیں کہ محض نعروں پر کھڑا نظریاتی ڈھانچہ کافی نہیں۔ ریاست کی اصل بنیاد اگر صرف سرمایہ دارانہ مفادات کے تحفظ تک محدود ہو جائے تو عوامی فلاح، اصولی خارجہ پالیسی اور انسانی ہم دردی سب ثانوی ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ایسے سیاسی و سماجی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو انسانی جان کی حرمت، قانون کی حکمرانی اور منصفانہ امن کے اصولوں کو پہلی ترجیح دے۔
فیس بک کمینٹ

