اہم خبریںبلوچستان

عالمی یوم صحت کے موقع پر پاکستانی ڈاکٹرز تھانوں میں بند

کوئٹہ : دنیا بھر میں صحت کا عالمی دن کورونا سے لڑنے والے ڈاکٹروں سے اظہار یکجتی کے طور پر منایا جا رہا ہے لیکن کوئٹہ میں گزشتہ روز گرفتار کئے گئے ڈاکٹر تھانوں میں ہیں اور صوبائی حکومت کی جانب سے رہائی کے احکامات کے باوجود ینگ ڈاکٹرز اور ان کے ساتھ گرفتار ہونے والے طبی عملے نے رات تھانوں میں گزاری۔
گذشتہ شب حکومتی وزرا پر مشتمل وفد نے ڈاکٹروں سے مذاکرات بھی کیے لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنا احتجاج ختم نہیں کیا۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر رحیم بابر نے فون پر بی بی سی کو بتایا جب تک مطالبات تسلیم نہیں ہوتے ڈاکٹرز تھانوں میں ہی رہیں گے۔حکام پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے مطالبہ کیا کہ کمیٹی کو پہلے تحقیقات کرنی چاہئیے کہ ضلعی انتظامیہ نے ڈاکٹرز پر کیوں تشدد کیا۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کوئٹہ کے ترجمان ڈاکٹر رحیم بابر نے بی بی سی کی شمائلہ جعفری کو بتایا کہ جب تک ڈاکٹروں پر تشدد کے ذمے دار معافی نہیں مانگتے یا انھیں معطل نہیں کیا جاتا حراست میں لیے گئے ڈاکٹر تھانوں سے باہر نہیں جائیں گے۔ڈاکٹر رحیم بابر کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم نے اچانک سڑکوں پر آنے کا فیصلہ نہیں بلکہ وہ کئی روز سے ڈاکٹروں کے پاس حفاظتی لباس اور ساز و سامان نہ ہونے کی شکایت کرتے رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ وزیراعلیٰ جام کمال سے ان کی ملاقات بھی ہوئی جس میں انھوں نے تین دن کے اندر اس شکایت کو دور کرنے کی یقین دہانی کروائی لیکن اس کے باوجود ڈاکٹروں کے تحفظات دور نہیں ہوسکے۔ڈاکٹر بابر رحیم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اب تک 18 ڈاکٹروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے جبکہ 30 ڈاکٹر کورونا وائرس کے شبہے کے باعث قرنطینہ میں ہیں۔
ڈاکٹر رحیم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کے پاس مناسب حفاظتی آلات نہ ہونے کے باعث ان کے خاندانوں کو بھی خطرہ ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت کہ جب دنیا بھر میں ڈاکٹروں کو ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے، کوئٹہ میں ڈاکٹروں پر لاٹھیاں برسائی گئیں جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker