حامد میرکالملکھاری

حامد میر کا کالم : پشمینہ، شاہتوش اور کشمیر

پاکستان میں ہر سال پانچ فروری کو یومِ یکجہتیٔ کشمیر منایا جاتا ہے۔ اکثر پاکستانیوں کے لئے اِس دن کا مطلب یہ ہے کہ گھروں میں بیٹھ کر چھٹی منائو۔ کچھ پاکستانی یہ بھی جانتے ہیں کہ لفظ پاکستان میں ’’ک‘‘ کشمیر کی نمائندگی کرتا ہے اور کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ پاکستان کے تمام بڑے دریائوں کا پانی مقبوضہ جموں و کشمیر سے آتا ہے۔ بہت کم پاکستانی یہ جانتے ہیں کہ 2019 تک صرف اردو مقبوضہ جموں و کشمیر کی واحد سرکاری زبان تھی۔ پانچ اگست 2019 کو مقبوضہ ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد اردو زبان کی خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی گئی اور نئی دہلی سے نافذ کئے گئے ایک اعلان میں بتایا گیا کہ آئندہ سے صرف اردو نہیں بلکہ انگریزی، ہندی، کشمیری اور ڈوگری بھی مقبوضہ ریاست کی سرکاری زبانیں ہوں گی۔
اردو زبان کو ہندو انتہا پسند صرف مسلمانوں کی زبان سمجھتے ہیں اور کافی عرصے سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اِس زبان کو ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن اردو زبان کشمیری ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔ 1889میں مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے فارسی کی جگہ اردو کو ریاست کی سرکاری زبان قرار دیا تھا کیونکہ یہ زبان وادیٔ کشمیر کے علاوہ جموں اور لداخ میں بھی بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ آج بھی صرف کشمیر ڈویژن سے اردو کے 59روزنامے اور 29ہفت روزہ جبکہ جموں سے 24روزنامے اور 39ہفت روزہ اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ پاکستان کی سپریم کورٹ کئی سال قبل اردو کو دفتری زبان بنانے کا حکم دے چکی ہے جس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تمام اہم فیصلے انگریزی میں لکھے جا رہے ہیں لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر کی دفتری زبان بدستور اردو ہے۔ نئی دہلی سے جاری ہونے والے فرمان کو باقاعدہ قانون کا درجہ اُس وقت ملے گا جب ریاستی اسمبلی اِس قانون کو منظور کرے گی اور ریاستی اسمبلی 2018 سے معطل ہے۔
ہندو انتہا پسندوں کا ہدف صرف اردو زبان ہی نہیں بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمان بھی ہیں۔ 5 اگست 2019 کو بھارتی آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے معطل کرکے ایک منظم منصوبے کے تحت ریاست کی اکثریتی مسلم آبادی کو اقلیت بنانے کی کوشش شروع ہو چکی ہے اور غیرمقامی لوگوں کو مقبوضہ ریاست میں آباد کرایا جا رہا ہے۔
کشمیریوں کی دینی و ثقافتی شناخت کو ختم کرنے کے علاوہ اُن کی معیشت کو بھی تباہ کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف کشمیری طلبہ و طالبات اور کشمیری تاجروں کو مختلف بھارتی ریاستوں سے زبردستی بےدخل کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف کشمیر میں مقامی صنعت بھی برباد کی جا رہی ہے۔ 1990 کے بعد سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ظلم و ستم سے ہزاروں کشمیری عورتیں بیوہ ہوئیں۔ اکثر بےسہارا بیواؤں کو شال بافی یعنی شال انڈسٹری میں پناہ مل جاتی تھی لیکن کچھ عرصہ سے کشمیر کی شال انڈسٹری ایک بڑے بحران کا شکار ہے۔
پاکستان میں جب پانچ فروری کو کشمیریوں کے حق میں جلسے جلوس نکالے جاتے ہیں تو کشمیر کی آزادی کے نعرے تو لگتے ہیں لیکن کشمیریوں کے اُن مسائل پر بات نہیں کی جاتی جن کے حل نہ ہونے سے اُن کا جینا محال ہو چکا ہے۔ کشمیر کی شال انڈسٹری سے کم از کم سات لاکھ افراد وابستہ ہیں جن میں ایک بڑی تعداد عورتوں کی ہے۔ دنیا بھر میں کشمیر کی بنی ہوئی پشمینہ اور شاہتوش شالیں شہرت رکھتی ہیں۔ سینکڑوں سال پہلے جب یہ صنعت شروع ہوئی تو اِس نے وادیٔ کشمیر کے شال بافوں اور لداخ والوں کو ایک معاشی رشتے میں پرو دیا۔ کشمیر کے شال باف لداخ کی پشمینہ بکری کے لمبے لمبے باریک بالوں سے بنی خام اون سے شالیں تیار کرتے تھے۔ یہ شالیں یورپ میں مقبول ہونے لگیں تو ڈوگرہ حکمرانوں نے شال بافوں پر بھاری ٹیکس عائد کر دیے۔
سب سے پہلے مہاراجہ گلاب سنگھ نے شال بافوں پر ٹیکس لگائے تو اُنہوں نے لاہور اور امرتسر کی طرف ہجرت شروع کر دی لیکن گلاب سنگھ نے اُنہیں ان کے گھروں میں پابند کر دیا۔ مہاراجہ رنبیر سنگھ نے اُن پر مزید ٹیکس لگائے تو 24؍اپریل 1865کو سری نگر میں کشمیری شال بافوں نے ایک پُرامن جلوس نکالا جس پر فائرنگ کی گئی اور 28کشمیری شہید ہو گئے۔ یہ جلوس دراصل ہندوستان میں محنت کشوں کی طرف سے اپنے حقوق کے لئے پہلا منظم احتجاج تھا جسے طاقت کے ذریعے کچل دیا گیا۔
1990میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں تحریکِ آزادی نے زور پکڑا تو نئی دہلی میں بیٹھے شاطر حکمرانوں نے لداخ والوں کو سری نگر کے خلاف ورغلانا شروع کیا۔ جب سری نگر میں آزادی کے نعرے بلند ہونے لگے تو نئی دہلی نے لداخ والوں سے کہا کہ تم لداخ کو جموں و کشمیر سے علیحدہ کرنے کا مطالبہ کر دو۔ سب سے پہلے لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن نے ناصرف لداخ کو جموں و کشمیر سے علیحدہ کرنے کا مطالبہ کیا بلکہ کشمیریوں کا سوشل بائیکاٹ کرتے ہوئے اُنہیں پشمینہ اون فروخت کرنے سے بھی انکار کر دیا۔بھارتی حکمرانوں نے لداخ والوں کو اپنی خام اون لدھیانہ کی ملوں کو فروخت کرنے پر راغب کیا جس سے کشمیر کی شال انڈسٹری بُری طرح متاثر ہوئی۔ لیکن پشمینہ اون صرف لداخ میں پیدا نہیں ہوتی بلکہ چین، نیپال اور منگولیا میں بھی پیدا ہوتی ہے۔ کشمیر کی شال انڈسٹری سے کئی بھارتی ایکسپورٹر بھی فائدہ اٹھا رہے تھے۔ اُنہوں نے شال بافوں کو منگولیا سے خام اون منگوا کر دینی شروع کی لیکن منگولیا کی وول نے شال کی قیمت میں اضافہ کر دیا اور کشمیری شالوں کی ڈیمانڈ کم ہو گئی۔ ساتھ ہی ساتھ بھارتی حکومت نے تبت کے برفانی ہرن (چیرو) کے بالوں سے بننے والی شاہتوش شال پر پابندی لگا دی اور دعویٰ کیا کہ ہرنوں کو مار کر خام مال حاصل کیا جاتا ہے۔ اِس وقت کشمیر کی شال انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہے اور ہزاروں افراد یہ کام چھوڑ رہے ہیں۔ اِس صورتحال میں پاکستان کیا کر سکتا ہے؟
پاکستان اور چین پہلے ہی سی پیک کے نام سے اقتصادی تعاون کے کئی منصوبے شروع کر چکے ہیں۔ پاکستان اور چین کو مل کر گلگت اور سنکیانگ کے بلند پہاڑی علاقوں میں پشمینہ بکریوں کی افزائش اور پشمینہ اون کی پیداوار کے منصوبے شروع کرنے چاہئیں۔ اِسکے علاوہ تبت کے برفانی ہرن (چیرو) کے بالوں سے تیار ہونے والا شاہتوش بھی چین سے منگوایا جا سکتا ہے۔ یہ خام مال آر پار کے کشمیریوں کے بہت کام آ سکتا ہے اور آزاد کشمیر میں بھی کشمیری شال انڈسٹری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ آزاد کشمیر میں شال انڈسٹری کے فروغ کا براہ راست پاکستان کی معیشت کو فائدہ ہوگا۔ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پشمینہ اور شاہتوش اون پیدا کرنے سمیت ایسے منصوبے شروع کئے جائیں جو کشمیری ثقافت اور زبان کو ہندو انتہا پسندوں کے ناپاک عزائم سے بچا سکیں۔

ٌٌ( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker