پشاور : پشاور کے قصہ خوانی بازار کے علاقے کوچہ رسالدار کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں 56 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 190 سے زائد زخمی ہوگئے۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) کے ترجمان محمد عاصم خان نے دھماکے میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کے حتمی اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ مرنے والے افراد کی تعدا د 56 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ زخمی ایل آر ایچ منتقل کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شدید زخمیوں کو بروقت طبی سہولیات فراہم کی گئیں تاہم چند زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
قبل ازیں وزیر ہائر ایجوکیشن و آرکائیوز خیبر پختونخوا کامران بنگش نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) میں زخمیوں کی عیادت اور صورتحال کا جائزہ لیا، ہسپتال سے موصول رپورٹ کے مطابق اب تک 50 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 80 سے زائد زخمی ہیں، مرنے والوں میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔’
غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ میں مقامی پولیس کے عہدیدار وحید خان کے حوالے سے بتایا گیا کہ دھماکا مسجد کے اندر نمازِ جمعہ کے دوران ہوا۔رپورٹ کے مطابق پولیس حکام نے بتایا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں 50ے زائد افراد ہلاک جبکہ 56 زخمی ہوگئے جن میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔
دوسری جانب لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے کہا کہ پشاور دھماکے میں 30 افراد کی لاشوں کو ایل ار ایچ منتقل کیا گیا ہے، جبکہ زخمیوں میں بھی بیشتر شدید زخمی ہیں۔ترجمان نے کہا کہ زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر ایل آر ایچ میں ریڈ الرٹ کرتے ہوئے اضافی طبی عملے کو بلا یا گیا ہے۔
کیپٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) محمد اعجاز خان نے بتایا کہ ابتدائی تفصیلات کے مطابق قصہ خوانی بازار کے کوچہ رسالدار میں شیعہ جامع مسجد میں 2 حملہ آوروں نے گھسنے کی کوشش کے دوران ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی۔حملہ آوروں کی فائرنگ سے ایک پولیس جوان ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا جس کی حالت تشویشناک ہے۔
عہدیدار کے مطابق پولیس ٹیم پر حملے کے بعد جامع مسجد میں زور دار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی اور ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ریسیکیو ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئی ہیں، اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔انتظامیہ نے قریبی ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کردی جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے شروع کردیے۔
وزیر اعظم عمران خان نے پشاور دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی کوچہ رسالدار، پشاور میں مسجد میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود نمازیوں پر یہ اندوہناک حملہ کرنے والے نہ مسلمان ہو سکتے ہیں نہ ہی انسان۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی سنگین ہوتی صورتحال لمحہ فکریہ ہے، طویل عرصے سے بار بار توجہ دلا رہا ہوں کہ سر اٹھاتی دہشت گردی پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے، دہشت گردی کی واپسی ملک و قوم کے لیے نیک فال نہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پشاور میں دہشت گردی پر اظہار مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے معصوم نمازیوں کو نشانہ بنا کر انسانیت پر حملہ کیا۔
انہوں نے دھماکے میں لقمہ اجل بننے والوں کے لواحقین سے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو فوری گرفتار کیا جائے جبکہ زخمیوں کو علاج و معالجے کی بہتر سہولیات مہیا کی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی عملدرآمد نہ ہونا افسوسناک ہے۔
فیس بک کمینٹ

