اُس ایک بے مثال کے شباب کی مثال ہے
ہمارے پاس تو بس اک گلاب کی مثال ہے
گلاب تو گلاب ہے چلیں اسے بھی چھوڑیئے
وہ شب کی تیرگی میں ماہ تاب کی مثال ہے
یہ گھٹتا بڑھتا ماہ تاب بھی کہاں حسین ہے
تویوں کہوں وہ شخص آفتاب کی مثال ہے؟
ہر آفتاب کے غرور کو بھی اک غروب ہے
وہ گل بدن تو دھوپ میں سحاب کی مثال ہے
سحاب تو ہوا کے دوش پر ،اسے دوام کب؟
سحاب کی مثال تو سراب کی مثال ہے
سراب تو ضرور ہے مگر سراب بھی نہیں
وہ رت جگوں میں جاگتے کے خواب کی مثال ہے
غزل اُسے میں کیوں کہوں جو خود سراپا نظم ہے
کتاب گر کہوں ،وہ اک نصاب کی مثال ہے
بہت سے شعر کہہ چکے، چلو ذرا حساب دو
تمہارے پاس حسنِ بے حساب کی مثال ہے؟
اگر یہ کائنات بھی مَیں شاعری میں ڈھال دوں
اُس ایک بے مثال کی رضی میں کیا مثال دوں
( جتنا دھڑکا ہوں تیرے سینے میں : مطبوعہ دسمبر 2015 ء )
فیس بک کمینٹ

