مُجھے معلوم ہی کب تھا ؟؟
مرے معصوم خوابوں کی زمانہ یوں سزا دے گا
سِتم کی آنچ پر رکھ کر مری آنکھیں جلا دے گا
کہ جسم و جاں کو میری پھُونک کر یوں راکھ کر دے گا
مری ہستی مِٹا دے گا مُجھے یوں خاک کر دے گا
مُجھے معلوم ہی کب تھا؟
مرا آنچل کہ جس میں کہکشاں کے رنگ سجتے تھے
وہ آنچل ایک دن میرے لہو سے تربتر ہوگا
جہاں عِصمت بھی میری جاں بھی میری چھین لی جائے
وہ مقتل گاہ نہیں ہوگی وہ میرا اپنا گھر ہوگا
مُجھے معلوم ہی کب تھا؟؟؟
مگر تُو یاد رکھ اِس بنتِ حوا کا خُدا بھی ہے
فلک پر بیٹھ کر جو اس زمیں پرجھانکتا بھی ہے ،،،
تو بس پھر سوچ لے ظالم!
جو ناحق خُون سے لکھی ہے تُونے داستانِ غم
کہ اس دلسوز قِصے کا بھلا عُنوان کیا ہوگا؟
مرے آنگن میں جو کھیلا گیا ہے کھیل وحشت کا
ستمگر سوچ لے تُو بھی ترا انجام کیا ہوگا ۔۔۔۔
فیس بک کمینٹ

