جنگ کچھ لڑتے ہیں اپنی زندگی کے واسطے
جنگ کچھ لڑتے ہیں اپنے آپ سے سب کیلئے
جنگ سب لڑتے ہیں لیکن مختلف حالات میں
اپنی اپنی ذات میں
اور پھر ایسے بھی ہیں کچھ صاحب علم و عمل
ذات سے اپنی نکل کر دوسروں کے ہمرکاب
خار چن کر جو اگاتے ہیں زمیں سے پھر گلاب
ساری دنیا کیلئے اور اپنی دھرتی کیلئے
کھینچتے ہیں وہ زمیں پر اپنی قدرت سے سحاب
جنگ لڑتے ہیں وہ ان سے بھیجتے ہیں جو عذاب
یہ ازل سے سلسلہ ہےوقت کا حالات سے
مصلحت سے وہ مبرا لوگ بھی آئے یہاں
جو صدا زندہ رہیں گے ہر صدی کے واسطے
ایک تیغ بے اماں ہیں ہر بدی کے واسطے
لکھ دیا ہے نام "قسور” اس صدی کے واسطے
( 25 دسمبر 1993 ۔۔قسور گردیزی کی یاد میں تعزیتی اجلاس میں پڑھی گئی )
فیس بک کمینٹ

