میں اک کاغذ کا ٹکڑا ہوں
کہ جس کے اک طرف جاناں
بہت سے نام لکھے ہیں
پھر ان مٹتے ہوئے بے رنگ ناموں پر
جلی حرفوں میں اُجلا سا
تمہارا نام لکھا ہے
اور اس کے دوسری جانب کوئی پیغام لکھا ہے
تمہارے نام لکھا ہے
مجھے تم گم نہیں کرنا
اگر چاہو تو کاپی یا کسی بھی ڈائری میں اک
نشانی بن کے رہ لوں گا
کسی ناکام چاہت کی کہانی بن کے رہ لوں گا
کہ گر تنہائی میں چاہو
مجھے کھولو ،پڑھو اور پھر وہیں رکھ دو
یہ تم پر منحصر ہوگا مجھے جاناں کہیں رکھ دو
جو ممکن ہوتو اپنے دل میں ہی مجھ کو جگہ دینا
کہ غزلوں اور شعروں کی کتابوں میں سجا دینا
مجھے تم گم نہیں کرنا
مجھے تم روز مت پڑھنا
یہ ممکن ہے کبھی میری کوئی بوسیدہ تہہ مجھ سے الگ ہو کر
تمہارے ہاتھ آجائے
زمانے کے لبوں پر پھر یونہی اک بات آجائے
میں ایسا پھول ہوں جس کو کسی نے اپنے ہاتھوں سے
کسی ٹہنی سے توڑا تھا
بڑی شدت سے چوما تھا
میں اُن ہونٹوں کی حدت بھی ابھی محسوس کرتا ہوں
مجھے تم گم نہیں کرتا
مجھے تم نے اُٹھا کر آج زلفوں میں سجایا ہے
لبوں سے بھی لگایا ہے
تمہاری دسترس میں ہوں تو اب پیمان میں رکھنا
اگر ممکن نہ ہو پھر بھی کسی امکان میں رکھنا
مجھے گلدان میں رکھنا
میں ایسا خواب ہوں جس کو کئی آنکھوں نے دیکھا تھا
بہت بے خواب آنکھیں تھیں
مجھے تکنے کی خواہش میں
نہ اک پل بھی جھپکتی تھیں
مجھے تم آنکھ میں رکھنا
مکمل داستاں کا اک ادھورا باب مَت کرنا
مجھے بے خواب مت کرنا
کئی ہاتھوں ،کئی ہونٹوں
کتابوں، کاپیوں، آنکھوں کے رستے اب
تمہارے پاس آیا ہوں
مجھے تم ڈائری، گلدان میں
آنکھوں میں یا دل میں
جہاں چاہو جگہ دینا
مگر بس گم نہیں کرنا
( الگ : مطبوعہ جولائی 2010 ء )

