ملتان(نمائندہ گردو پیش )بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کے دوران ،ڈاکوؤں اور رہزنوں کی چاندی ہو گئی ، ڈکیتی رہزنی کی وارداتوں میں ریکارڈ اضافہ، ہسپتالوں میں زیر علاج مریض اندھیرے میں ڈوبے رہے، سینکڑوں مریض بروقت ہسپتال نہ پہنچ سکے۔ہسپتالوں میں لاشیں خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
تفصیل کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب کو ملک بھر میں ہونیوالے بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن نے جہاں پر کھربوں روپے کا مالی نقصان کیا ہے وہیں پر گزشتہ سے پیوستہ روز ملتان کے 32تھانوں کی حدود میں ریکارڈ ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتیں ہوئی، ڈاکو، رہزن اندھیرے کا فاعدہ اٹھاتے ہوئے ملتان کی سڑکوں پر کھل عام دندناتے اور شہریوں کے اور شہریوں کو لوٹنے میں مصروف رہے۔ملتان پولیس کا کوئی جوان سڑکوں پر گشت کرتا ہوا دکھائی نہ دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملتان پولیس کے پاس بھی پیر اور منگل کی درمیانی شب کو ہونیوالی وارداتوں کا ریکارڈ نہیں ہے کیونکہ بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجہ سے موبائل نیٹ ورک بھی موجود نہ تھا جسکے باعث متاثرہ شہری بروقت پولیس کی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع نہ دے سکے۔
اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ملتان کے بیمار شہریوں کو بھی کرنا پڑا کیونکہ تقریباً 12 گھنٹے تک پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کا ہیلپ لائن نمبر بھی بند تھا اور بیمار شہری اپنا بروقت علاج نہ کروا سکے جبکہ دوسری جانب سینکڑوں مریض جو ہسپتالوں میں زیر علاج تھے انکا بھی بجلی نہ ہونیکی وجہ سے علاج نہ ہوسکا اور نہ ہی کسی قسم کا آپریشن ہوسکا ہے کیونکہ بیشتر ہسپتال اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے ۔علاوہ ازیں بجلی کی بندش کی وجہ سے ملتان ملک بھر کے ہسپتالوں کی طرح ملتان کے نشتر ہسپتال کے مردہ خانے میں بھی 18 گھنٹوں تک بجلی نہ تھی جسکی وجہ سے مردہ خانے میں موجود متعدد لاشوں کے خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
فیس بک کمینٹ

