لاہور: ماضی کی صف اول کی اداکارہ روحی بانو کی برسی آج منائی جارہی ہے۔ روحی بانو کو مداحوں سے بچھڑے چار برس بیت گئے ہیں۔
روحی بانو 10 اگست 1951ءکو کراچی میں پیدا ہوئیں ، گورنمنٹ کالج لاہور سے نفسیات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے دوران ٹی وی پر کام کرنا شروع کیا، ان کا شمار ٹی وی کے اولین اداکاروں میں ہوتا ہے۔
روحی بانو نے 1970ء سے 1980 کے عشرے تک کرن کہانی، زرد گلاب، دروازہ اور دیگر بے شمار مقبول ڈراموں میں بطور یادگاری کردار کام کیا۔ ان کے کل ڈراموں کی تعداد 150 کے قریب رہی۔
نامور اداکارہ نے ڈراموں کے ساتھ ساتھ فلموں میں بھی فن کے جوہر دکھائے۔ انہوں نے فلم ضمیر، پالکی، انسان، اناڑی، تیرے میرے سپنے، نوکر، اور فرشتہ سمیت کئی فلموں میں اداکاری کی۔
فنی خدمات کے اعتراف میں روحی بانو کو حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ انہیں پی ٹی وی کی طرف سے نگار ایوارڈ کے علاوہ گریجویٹ ایوارڈ اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی ملا۔
روحی بانو کے 20 سالہ بیٹے کو 1995 میں کسی نے قتل کر دیا تھا، جس کے باعث وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی تھیں۔
اپنے انداز اور کرداروں سے دلوں پر راج کرنے والی روحی بانو نے زندگی کے آخری ایام بہت تلخ انداز میں گزارے۔ قبضہ مافیہ نے ان کی جائیداد پر قبضہ کیا تو بے گھر بھی رہیں اور 25 جنوری 2019 کو انتقال کر گئیں۔
فیس بک کمینٹ

