اس حقیقت میں کوئی دورائے نہیں ہوسکتیں کہ پاکستان کا موجودہ سیاسی بحران 1970-71 کے سیاسی بحران کے بعد سنگین ترین بحران ہے۔بظاہر عمران خان کا عام انتخابات کا مطالبہ عین آئین کے مطابق ہے اور ملک کے سیاسی، معاشی اور خارجی حالات بجائے خود جلد از جلد عام انتخابات کے شدت سے متقاضی ہیں اور پارلیمانی جمہوری نظام کی صدارتی جمہوری نظام کے مقابلہ میں سب سے بڑی خوبی بھی یہی ہے کہ ملک اور قوم جب بھی کسی سنگین بحران کا شکار ہوں تو مطلوبہ قیادت کے لیے قوم کی طرف رجوع کرنا آئین کا تقاضا بن جاتا ہے اور یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ پارلیمانی آئین کا یہ تقاضا برسر اقتدار حکومت کی صوابدید پر منحصر نہیں بلکہ عین آئینی ذمہ داری ہے۔
حیرت ہے کہ ایسے وقیع اور ناقابل استرداد دلائل اور جولائی و اکتوبر کے ضمنی انتخابات میں قوم کی طرف سے مسلسل مسترد کیے جانے کے باوجود موجودہ حکمران جلد عام انتخابات کرانے سے سراسر انکاری ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب ہمیں ان محرکات اور عوامل میں ملتا ہے جو موجودہ بحران کی تہہ پر ہیں۔ واضح طور پر یہ محرکات مذکور ذیل ہیں ۔
پہلا اور سب سے کم تر محرک حکمرانوں خصوصاً مسلم لیگ (ن ) اور پیپلز پارٹی کی قیادتوں کا یہ حقیقی خوف ہے کہ موجودہ صورتحال میں عام انتخابات کے نتیجہ میں عمران خان کا بھاری اکثریت سے برسر اقتدار آنا یقینی امر ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کا بھی قوی امکان ہے کہ پنجاب سے مسلم لیگ کا مکمل صفایا جبکہ سندھ پر پیپلز پارٹی کی گرفت ختم ہوجائے۔ ان دونوں پارٹیوں کی قیادت پر یہ خوف بھی بری طرح طاری ہے کہ آئندہ پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت کا حامل عمران خان نیب قوانین کو بحال کرکے ان کی مبینہ کرپشن کا کڑا اور حقیقی احتساب کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ یہ حقیقی خدشات ان دونوں بڑی پارٹیوں کی قیادتوں کے لیے سوہانِ روح بن چکے ہیں۔
اس پہلی وجہ سے بھی بڑھ کر دوسری وجہ اسٹیبلشمنٹ کے نام سے موسوم ہماری اعلیٰ فوجی قیادت کے خدشات ہیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ پاکستان کی سیاست پر گزشتہ 65 سال سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول اس قدر کامل اور ہمہ گیر رہا ہے کہ اس کی آشیر باد کے بغیر کوئی سیاست دان برسراقتدار آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ موجودہ صورتحال میں عمران خان کا عام انتخابات کے ذریعے بھاری مینڈیٹ کے ساتھ برسر اقتدار آنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ پاکستان کی سیاست پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو عرصہ دراز سے جو فیصلہ کن حیثیت اور کنٹرول حاصل رہا ہے وہ ختم ہوجائے گا۔
اس بحران کی تیسری اور سب سے بڑی وجہ امریکہ کے خدشات ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جنوبی ایشیا ءمیں گزشتہ 70 سال کے دوران امریکہ کی تمام تر حکمت عملی میں پاکستان نے اس کے سب سے اہم مہرہ کا کردار ادا کیا ہے۔ کبھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی براہ راست ٹیک اووراور کبھی اس کی سیاسی کاریگری سے امریکہ نے کامیابی سے یہاں اپنی کٹھ پتلی حکومتیں قائم کی ہیں جنہوں نے نہایت وفاداری اور نیاز مندی سے امریکہ کے علاقائی اور عالمی سٹریٹیجک مفادات کی خدمت گزاری کی ہے۔ عمران خان کے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی کاریگری کی بجائے عام قومی مینڈیٹ کے ذریعے برسر اقتدار آنے کی صورت میں یہ یقینی امر ہے کہ ماضی کے برعکس پاکستان کی خارجہ پالیسی محض امریکی مفادات کی بجائے قومی مفاد کے تابع ہوگی۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان امریکہ کے باہمی تعلقات کا نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے امریکی ڈکٹیشن سے آزاد ہونے کی صورت میں جنوبی ایشیاءمیں امریکہ کی سٹریٹیجک منصوبہ بندی سر کے بل الٹ جاتی ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ اس صورتحال کی سب سے کاری ضرب امریکہ اور انڈیا کی سٹریٹیجک پارٹنر شپ پر پڑے گی جو پارٹنر شپ چین کا گھیراﺅ کرنے کے لیے امریکہ کے لیے انتہائی اہم ہی نہیں بلکہ ناگزیر ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ امریکہ کا جنوبی ایشیاءمیں انڈیا کو ایک بالا دست طاقت اور پاکستان کو اس کی بالادستی میں ایک طفیلی ریاست بنانے کا منصوبہ بھی دھرا کا دھرا رہ جائے گا۔ مزید یہ کہ کشمیر کے قضیہ کو بھی عالمی سطح پر ایک نئی تحریک ملے گی۔ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی کا دوسرا انتہائی اہم نتیجہ یہ ہوگا کہ پاکستان کے تئیں چین ، روس ، ایران اور افغانستان کی پالیسیو ں میں بنیادی تبدیلیاں آئیں گی اور یوں نہ صرف جنوبی ایشیاءبلکہ عالمی سطح پر بھی امریکہ کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ اور یورپ کو عمران خان کے حقیقی آزادی کے نعر ہ سے بھی کہیں بڑھ کر تشویش اس کے ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ “ اور بتکرار فکر اقبال کے بیانیہ سے ہے۔ امریکہ نے گزشتہ تیس سال کے دوران پاکستان میں اپنی نہایت فرمانبردار حکومتوں کے ذریعہ فکر اقبال کو ہمارے تعلیمی نصاب تک سے خارج کروادیا تھا لیکن عمران خان نے گزشتہ چھ ماہ میں پاکستان کی نئی نسل کے قلب و روح میں ازسر نو فکر اقبال کی چنگاری پھر سے روشن کردی ہے اور یوں امریکہ کی تیس سال کی محنت اور منصوبہ بندی پر پانی پھر گیا ہے۔ دراصل امریکہ کو عمران خان کے روپ میں ایک” طالبان خان“ نظر آتا ہے ۔افغان طالبان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد امریکہ اور یورپ ایک اور ”طالبان خان“ کا عذاب اپنے گلے ڈالنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
مذکورہ بالا عوامل کے مقابل عمران خان کا عامل جن امکانات کا حامل ہے وہ مذکور ذیل ہیں:۔
اول یہ کہ پاکستان کے سیاسی لینڈ سکیپ میں عمران خان عوامی مقبولیت کے اس مقام پر ہے جہاں آج تک کوئی اور سیاسی لیڈر نہیں پہنچا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ3 نومبر کے روز وزیر آباد کے قریب عمران خان پر ناکام قاتلانہ حملہ کے بعد عوام میں اس کی مقبولیت کا گراف اور بھی بلند ہوگیا ہے ۔ دوم یہ کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران عمران خان کی سیاسی حکمت عملی اور جولائی /اکتوبر کے ضمنی انتخاب کے نتائج سے یہ واضح ہے کہ ملک میں جب بھی شفاف انتخابات ہوئے اس کا دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہونا تقریباً یقینی امر ہے۔ ضمنی انتخابات میں عمران خان کی 75 فی صد کامیابی یہ پیغام بھی دے رہی ہے کہ ایک جانبدار الیکشن کمیشن اور مخالف انتظامیہ بھی الیکشن کے حتمی نتائج پر بہت زیادہ اثر انداز نہ ہوسکیں گے۔ سوم یہ کہ عمران خان اگر بھاری مینڈیٹ کے ساتھ دوبارہ برسر اقتدار آتا ہے تو یقینا پی ڈی ایم کی موجودہ حکومت کی نیب قوانین میں کی گئی ترامیم نہ صرف کالعد م ہوں گی بلکہ احتساب کے قانون کو مزید موثر بنایا جائے گا اور کرپشن کے حوالے سے حقیقی اور کڑے احتساب کا دور شروع ہوگا جس میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی اثر اندازی کا عامل بہت حد تک غیر موثر ہوگا۔ چہارم یہ کہ بھرپور عوامی مینڈیٹ سے برسر اقتدار آنے والا عمران خان ممکنہ حد تک ایک آزاد اور امریکہ کی ڈکٹیشن سے ماورا محض قومی مفاد کے تابع خارجہ، دفاعی اور معاشی پالیسیاں اختیار کرے گا۔ پنجم یہ کہ خود امریکہ اور ہماری حکومت کی طرف سے بار بار صفائیاں پیش کرنے کے باوجود پاکستانی قوم عمران حکومت کے خلاف سازش کے بیانیہ پر مکمل یقین رکھتی ہے چنانچہ عمران خان نے قوم کو” امریکی غلامی سے آزادی “کا جو نعرہ دیا ہے اسے قوم اور خصوصا نوجوان نسل نے نہ صرف سینے سے لگایا ہے بلکہ اسے عوامی مقبولیت کے آسمان تک پہنچا دیا ہے۔ یہ نعرہ ہی پاکستان کی آئندہ سیاست کا سب سے بڑھ کر محرک ہوگا اور آئندہ برسر اقتدا رآنے والے عمران خان کے لیے یہ ناممکن ہوگا کہ وہ اس نعرہ یا ایجنڈا سے رو گردانی کرسکے۔
( جاری )
فیس بک کمینٹ

