اہم خبریں

وزیر اعظم اپنا پھیلایا ہوا گند خود صاف کریں ، پی پی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہو گی : بلاول

اسلام آباد : پاکستان کی حکومت اور تحریکِ لبیک پاکستان کے درمیان ‘کامیاب مذاکرات’ کے بعد فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے حوالے سے قرارداد قومی اسمبلی میں منگل کی شام پیش کی جا رہی ہے۔ حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کے اس اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے اور جماعت کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ یہ وزیراعظم عمران خان کا اپنا پھیلایا ہوا گند ہے جسے انھیں خود ہی صاف کرنا ہو گا۔
تحریکِ لبیک اور حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان پیر کی شب اس بات پر اتفاق رائے ہوا تھا کہ منگل کو پاکستان کی پارلیمان میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے حوالے سے قرارداد پیش کی جائے گی اور گذشتہ دنوں کے دوران پرتشدد جھڑپوں کے بعد تحریکِ لبیک کے گرفتار کیے گئے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات ختم کر کے انھیں رہا کر دیا جائے گا۔
قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ کی جانب سے جاری ہونے والے شیڈول کے مطابق آج اسمبلی میں پرائیویٹ ممبرز ڈے ہے اور اس روز عموماً پارلیمان کے اراکین سرکاری قانون سازی کے بجائی ذاتی اور نجی نویت کے مسائل پر بحث کر سکتے ہیں اور مبصرین کے مطابق توقع کی جا رہی ہے کہ تحریکِ لبیک کے اصرار پر لائی جانے والی قرارداد بھی کسی رکن پارلیمان کی طرف سے پیش کی جائے گی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل پاکستان تحریکِ انصاف کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس بھی منعقد ہو رہے ہیں تاہم پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ان کی جماعت کے اراکینِ اسمبلی اس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس سلسلے میں ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ تحریکِ لبیک سے کیا گیا معاہدہ پارلیمان میں نہیں لایا گیا اور نہ ہی وزیراعظم نے اس معاملے میں کسی بھی مرحلے پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا اور اب پاکستان تحریکِ انصاف قومی اسمبلی کے پیچھے چھپنا چاہتی ہے۔
انھوں نے وزیراعظم کو مخاطب کر کے کہا کہ ’یہ آپ کا پھیلایا ہوا گند ہے، اسے صاف کریں یا گھر جائیں۔‘ پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو 20 اپریل تک ملک بدر نہ کیے جانے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی دھمکی دینے والے تحریکِ لبیک کے امیر سعد رضوی کو گذشتہ ہفتے لاہور میں پولیس نے حراست میں لیا تھا اور منگل کی دوپہر سے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں سعد رضوی کی رہائی کی خبریں گردش کر رہی ہیں تاہم پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی رہائی کا عمل مکمل کرنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد تحریکِ لبیک کی جانب سے ملک کے متعدد شہروں میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس احتجاج کے دوران کم از کم چار پولیس اہلکار ہلاک جبکہ سینکڑوں اہلکار اور کارکن زخمی ہوئے تھے۔ خیال رہے کہ گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دینا مسئلے کا حل نہیں کیونکہ مغرب اس معاملے کو اظہارِ رائے کی آزادی سے جوڑتا ہے۔ تاہم چند ہی گھنٹے بعد وزیرِ داخلہ نے مذاکرات کے بعد فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا اعلان کیا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker