تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر علی یہ وضاحت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ تحریک انصاف نے حکومت کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کی ہے۔ اس سے پہلے انگریزی اخبار ’دی نیوز ‘نے خبر دی تھی کہ بیرسٹر گوہر علی نے وزیر اعظم کی تجویز پر حکومت کے ساتھ بات چیت شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ تاہم خبر میں بتایا گیا تھا کہ عمران خان کی ہدایت پر مذاکرات کی پیش کش قبول کرتے ہوئے تحریک انصاف ان مذاکرات کو خفیہ رکھنا چاہتی ہے۔
بیرسٹر گوہر علی یا ان کے ذریعے عمران خان کے سامنے آنے والے اس مؤقف سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ کسی بامقصد اور بامعنی مذاکرات کے لیے میڈیا کی نظروں سے بچ کر معاملات طے کرنا یا سیاسی افہام و تفہیم پیدا کرنا اہم ہوسکتا ہے۔ اس وقت ملکی میڈیا صرف اخباروں یا کسی ادارتی پالیسی پر عمل کرنے والے ٹیلی ویژن چینلز تک ہی محدود نہیں ہے۔ بلکہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے خبررسانی کا کام لینے والے ہرکاروں اور یوٹیوب چینلز کے ذریعے کوئی ادارتی ذمہ داری قبول کیے بغیر محض سنسنی خیزی پیدا کرنے کے لیے ’اندر کی خبر‘ عام کرنے کا دعویٰ کرنے والے نام نہاد صحافیوں پر مشتمل ہے۔ بعض صورتوں میں لوگ سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی خبروں کو کسی باقاعدہ نیوز چینل پر شائع یا پیش ہونے والی خبر سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ملک میں یہ تاثر عام ہوچکا ہے کہ سنسر شپ کی وجہ سے مسلمہ نیوز میڈیا درست خبر دینے کے قابل نہیں ہے ۔ اس لیے ایسے ذرائع پر بھروسہ کیا جائے جو کسی ’کنٹرول‘ میں نہیں ہوتے۔
بدقسمتی سے خبروں کے رسیا عام لوگ اپنی سیاسی پسند یا ذاتی خواہش ہی کے مطابق یہ طے کرتے ہیں کہ کون سی خبر کس ذریعے موصول ہو تو اس پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ بلاشبہ ملک میں نافذ سنسر شپ نے بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے لیکن تحریک انصاف سمیت متعدد سیاسی گروہوں نے جھوٹی سچی خبریں پھیلانے اور سیاسی مخالفین کی کردار کشی کے لیے سوشل میڈیا ذرائع کو منفی طریقے سے استعمال کیا ہے۔ بلکہ تحریک انصاف کے چاہنے والے یوٹیوبرز تو امریکہ اور برطانیہ میں بیٹھ کر ایسی خبریں اور تجزیے عام کرتے رہتے ہیں جن کا حقائق اور زمینی صورت حال سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس شعبہ میں اصلاح کرنے اور عوام کو خبر پرکھنے اور اس کے سورس کا جائزہ لینے کی تربیت دینے کا عمل ضرور شروع ہونا چاہئے۔ گو کہ یہ بیماری محض پاکستان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں جھوٹی خبریں پھیلانے کا دھندا عام ہے۔
اس پس منظر میں تحریک انصاف، عمران خان یا بیرسٹر گوہر علی کے اس مؤقف کو صائب اور درست کہنا چاہئے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں میڈیا کو مدعو نہ کیا جائے ، جب معاملات کسی نتیجے تک پہنچیں تو متفقہ پریس ریلیز کے ذریعے عوام کو ان نکات سے آگاہ کردیا جائے تاکہ سیاسی ماحول میں سنسنی خیزی اور جھوٹ کی آمیزش کم ہو اور لیڈروں کے ساتھ عوام بھی مسائل سمجھنے اور پارٹیوں کی حکمت عملی کا یکساں احترام اور غیر جانبداری سے جائزہ لے سکیں۔ البتہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک بے ضرور خبر شائع ہونے کے بعد بیرسٹر گوہر علی یہ وضاحت کرنے پر مجبور ہوگئے کہ تحریک انصاف نے حکومت سے کوئی خفیہ ڈیل نہیں کی ہے۔ بہتر ہوتا کہ گوہر علی یہ بھی بتا دیتے کہ یہ خبرکس نے پھیلائی ہے کہ تحریک انصاف نے حکومت سے کوئی خفیہ ڈیل کرلی ہے۔ یوں بھی موجودہ حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو درپردہ کچھ مراعات یاسہولتیں دے سکے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اقلیتی حکومت ہے جو پیپلز پارٹی کی حمایت کے سہارے اقتدار میں ہے۔ پیپلز پارٹی شہباز شریف کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کردے تو یہ حکومت ختم ہوجائے گی۔
البتہ بیرسٹر گوہر علی نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے جیسے بار بار وضاحت کی ہماری کوئی خفیہ ڈیل نہیں ہوئی ، اس سے تحریک انصاف کی قیادت کی بے اعتمادی، خوف اور باہمی انتشار کی صورت حال واضح ہوتی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے ’دی نیوز‘ کی اس خبر کی تردید نہیں کی کہ تحریک انصاف حکومت کے ساتھ خفیہ بات چیت کرنا چاہتی ہے تاکہ کسی نتیجہ تک پہنچا جاسکے۔ اس خبر کو خفیہ ڈیل نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ کسی ممکنہ خفیہ ڈیل کی بات مسترد کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی حکومت کے ساتھ مذاکرات پر اتفاق اور عمران خان کے اس مشورہ کا حوالہ دینا بھول گئے کہ بات چیت شروع کی جائے لیکن اس میں میڈیا کو کوریج کی اجازت نہ دی جائے۔ یوں لگتا ہے کہ بیرسٹر گوہر علی کسی شدید اندرونی دباؤ کی وجہ سے کھل کر مذاکرات کی بات کرنے کا حوصلہ بھی نہیں کرسکے۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف میں مختلف دھڑے اپنی مرضی کی پالیسی چلانے کی کوشش کررہےہیں اور اپنی خواہش و مرضی کے برعکس بات کرنے والے اپنے ہی لیڈروں پر الزامات کی بارش کردی جاتی ہے۔ تحریک انصاف کے لیڈروں کو اس خوف سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔
سمجھنا چاہئے کہ تحریک انصاف کے موجودہ مسائل سیاسی مکاملہ سے گریز اور غلط معاملات پر اصرار کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ 9 مئی 2023 کو عمران خان کی حراست کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے عسکری تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں پر حملوں کے بعد سے شروع ہؤا۔ پارٹی ابھی تک طے نہیں کرسکی کہ اسے اس افسوسناک واقعہ کی مذمت کرنی چاہئے یا اس کی ذمہ داری قبول کرکے واضح کرنا چاہئے کہ وہ سیاسی آزادی کے لیے ملک کے ہر ادارے اور سیاسی قوت سے ٹکر لینے پر آمادہ ہے۔ پی ٹی آئی اگر حوصلہ کا مظاہرہ کرتی تو وہ سانحہ 9 مئی کے عذر پیش کرنے کی بجائے اس احتجاج کی اونر شپ قبول کرتی یا اسے پوری طرح مسترد کرتی۔ اس کے برعکس کبھی اس فالس فلیگ آپریشن کہا جاتا ہے اور کبھی ان مظاہروں میں ملوث افراد کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس سیاسی عدم تحفظ نے ہی تحریک انصاف میں خوف کا ایک گہرا عنصر شامل کردیا ہے۔ بدقسمتی سے دیگر سیاسی پارٹیوں سے بات چیت کے دروازے بند کرکے خوف کی اس فضا میں اضافہ کیا گیا ہے۔
اسی رویہ کی وجہ سے بھارت کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے دوران تحریک انصاف سے وابستہ متعدد عناصر کا رویہ مناسب نہیں تھا۔ وہ یہ سمجھنے میں ہی کامیاب نہیں ہوسکے کہ اگر پاکستان رہے گا تب ہی کسی سیاست دان یا پارٹی کی سیاست کامیاب ہوسکے گی یا وہ عوام کی بہبود کے لیے کام کرسکے گا۔ یہ دعوے کہ دشمن کی جارحیت کا مقابلہ صرف عمران خان کرسکتا تھا لہذا موجودہ لیڈر شپ کو نیچا دکھانے کے لیے بھارتی پروپیگنڈے کا حصہ بننے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، افسوسناک اور کسی حد تک ملک دشمنی کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ مانا جاسکتا ہے کہ جنگی حالات میں بھی سچائی کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہئے لیکن دشمن کا مقابلہ درپیش ہو تو سب سے بڑی سچائی قومی وقار کی حفاظت ہوتی ہے۔ تحریک انصاف یہ باریک فرق محسوس کرنے میں کامیاب نہیں رہی۔ اسے لگا کہ جنگ میں اگر فوج کمزور ظاہر ہوگی تو عمران خان مضبوط لیڈر کے طور پر سامنے آئے گا۔ حالانکہ فوج کمزور ہوگی تو پاکستان سرنگوں ہوگا جس سے دشمن ہی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف کے متعدد عناصر نے جنگ کے دنوں میں غیر ذمہ دارانہ طرز عمل سے اپنی ہی پارٹی کی حب الوطنی اور حقیقی پالیسی کے بارے میں شبہات پیدا کیے ہیں۔ یہ رویے بھی درحقیقت کسی ایسے خوف کی علامت ہیں کہ موجودہ حالات میں عمران خان یا پارٹی کو انصاف نہیں مل سکتا ۔ حالانکہ سیاسی تحریکیں ہر حالات میں اپنے اصولوں کے لیے جد و جہد کرتی ہیں لیکن وہ خوفزدہ نہیں ہوتیں۔
اس کنفیوژن میں تحریک انصاف یہ طے کرنے میں ہی ناکام ہے کہ اسے فوج کے کس رویہ کے خلاف لڑنا ہے۔ کیا سیاست میں فوج کی مداخلت مسئلہ ہے ؟یا جب وہ سرحدوں کی حفاظت کے لیے دشمن کی جارحیت کا سامنا کررہی ہو، اس وقت بھی اس وقت اسے کمزور کرکے سیاسی کامیابی حاصل کرنا بہتر حکمت عملی ہے؟ بظاہر یوں لگتا ہے کہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستانی افواج کامیاب رہی ہیں۔ وہ بھارت کی عسکری طاقت اور برتری کے باوجود اپنے ملک کی سرحدوں اور وقار و خود مختاری کی کامیابی سے حفاظت کرسکی ہیں۔ اگر یہ نتیجہ مختلف ہوتا اور بدقسمتی سے ہماری افواج بھارتی طاقت کا مقابلہ نہ کرسکتیں تو کیا یہ صرف فوج کی ناکامی ہوتی؟ یا ہر اس سیاست دان کی بھی ناکامی ہوتی جس نے تاریخ کے کسی بھی مرحلے پر فوج کو اقتدار میں آنے کا راستہ سمجھا اور اس کے کاندھوں پر سوار ہو کر سیاسی مخالفین کو نیچا دکھایا۔
عمران خان سیاسی پارٹیوں کی بجائے فوج کے ساتھ مکالمہ کرنے یا ’ڈیل‘ کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ حالانکہ اگر ملک میں سیاسی قوتیں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے ، سیاسی نظام کی برتری کے لیے اتحاد و اشتراک عمل کی پالیسی اختیار کریں تو دھیرے دھیرے فوج کو خود ہی سیاسی معاملات سے دست کش ہونا پڑے گا۔ تحریک انصاف اور حکومتی پارٹی کے درمیان بات چیت اسی لیے خوش آئیند اور مثبت عمل ہے کہ اس سے جمہوری عمل مضبوط ہوگا، عوام کے منتخب نمائیندوں کی عزت میں اضافہ ہوگا اور پارلیمنٹ کو طاقت ور بنایا جاسکے گا۔اس مقصد کے لیے تحریک انصاف کا بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ انتہائی اہم اور خوش آئیند ہے لیکن اگر اندرونی رسہ کشی یا کسی دوسرے خوف کی وجہ سے ایک بار پھر ایسے مذاکرات شروع نہ ہوسکے تو سیاست میں فوج کا اثر و رسوخ کم نہیں ہوگا بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہوگا۔
( بشکریہ : کاروان ناروے )

