لاہور : پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلی کے انتخاب کے موقع پر بد ترین ہنگامہ ہوئی ، اراکین اسمبلی گتھم گتھا ہو گئے ۔ ڈپٹی سپیکر اور پرویز الٰہی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، ندیم قریشی سمیت تین ایم پی ایز حراست میں لے لیا گیا ۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی میں آج ہونے والا اجلاس ساڑھے 5 گھنٹے تاخیر کے بعد دوبارہ شروع ہوا ۔
ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں وزیراعلیٰ کا انتخاب آج ہونا تھا، یہ عہدہ عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور ہونے کے بعد یکم اپریل سے خالی ہے۔پنجاب اسمبلی کے قائد ایوان کے لیے پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے امیدوار اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی ہیں جبکہ اپوزیشن کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز میدان میں اترے ہیں۔
اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے قبل تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی ایوان میں لوٹے کر پہنچ گئے اور منحرف اراکین کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔
اجلاس کی صدارت کے لیے دوست محمد مزاری ایوان میں پہنچے تو حکومتی اراکین اسمبلی نے ڈپٹی اسپیکر کی نشست کا گھیراؤ کرلیا، اس دوران ان کی جانب لوٹے بھی اچھالے گئے اور ان کے بال بھی نوچے گئے، جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر کو سخت سیکیورٹی میں ایوان سے باہر لے جایا گیا۔
دریں اثنا حکومت اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ہاتھا پائی بھی شروع ہوگئی، صورتحال پر قابو پانے کے لیے ایس ایس پی آپریشنز کے ہمراہ پنجاب پولیس کی بھاری نفری پنجاب اسمبلی پہنچ گئی۔
اس دوران اسمبلی کے اندر موجود پرویز الہٰی نے مسلم لیگ (ن) پر پولیس کو ایوان کے اندر لانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ پولیس ایوان میں آئی ہے‘۔
مسلم لیگ (ق) کے رہنما نے کہا ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ہمارے سامنے پیش ہوں اور انہیں ایک ماہ کی سزا دی جائے گی۔
بعد ازاں بلٹ پروف جیکٹس میں ملبوس اینٹی رائٹ فورس کے اہلکار پنجاب اسمبلی کے پرانے گیٹ سے ایوان میں داخل ہوگئے ہیں جوکہ ڈپٹی سپیکر پر حملہ کرنے والے ارکان اسمبلی کی نشاندہی کرکے انہیں گرفتار کریں گے۔
پولیس نے ارکان صوبائی اسمبلی کو اسپیکرڈائس سے ہٹایا اور اسپیکر ڈائس کا کنٹرول سنبھال لیا۔دریں اثنا پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے دوران چوہدری پرویز الہٰی کو بھی اراکین اسمبلی نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
پنجاب اسمبلی میں ہنگامے کے بعد اینٹی رائیٹ فورس کے اہلکار پنجاب اسمبلی میں داخل ہوگئے اور اسپیکر ڈائس کا کنٹرول سنبھال لیا، مزاحمت کرنے والے 4 حکومتی ایم پی ایز کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔
پولیس اہلکارپرانی بلڈنگ کے راستے پنجاب اسمبلی میں داخل ہوئے،پولیس نے ایوان کے اندر آپریشن کرتے ہوئے مردو خواتین ایم پی ایزکو اسپیکرڈائس سے ہٹایا اور اسپیکر ڈائس کا کنٹرول سنبھال لیا۔
پولیس اہلکاروں نے بلٹ پروف جیکٹس پہن رکھی ہیں ،حکومتی ارکان اور پولیس میں جھگڑا بھی ہوا ، اس دوران 4 حکومتی ایم پی ایز کو حراست میں بھی لے لیا گیا، ان ارکان نے ڈپٹی اسپیکر پرتشدد بھی کیا تھا۔
بڑی تعداد میں لیڈی پولیس اہلکاروں کو بھی اسمبلی کے اندر پہنچا دیا گیا ہے اور ایوان کی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے ارکان کو بلانےکے لیے گھنٹیاں بجائی جارہی ہیں۔

